مضامین

نبی کریم ﷺ کے متعدد نکاح کی حکمت و مصلحت : محمد قمر الزماں ندوی

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ

مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی ندوی رح آنحضرتﷺ کے متعدد نکاح کی حکمت و مصلحت کے تعلق سے لکھتے ہیں, جو انتہائی چشم کشا تحریر ہے کہ مدنی زندگی میں سارے عرب پر اقتدار و تسلط اور فرما نروائی قائم ہوچکی ہے، اگر آپ چاہتے تو نو بیویوں پر مزید اضافہ کرسکتے تھے،کوئی چیز اس راہ میں رکاوٹ اور مانع نہیں تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعداد میں اضافہ نہیں کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و مصلحت پوری ہوچکی تھی۔
حضور ﷺ کے متعدد نکاح پر اعتراض کرنے والے کو اور ان کو ہدف تنقید بنانے والے کو ذرا اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ جن لوگوں کا آنحضرتﷺ سے واسطہ تھا، ان میں عربی و عجمی، دوست و دشمن، جاہل و متمدن، شہری اور دیہاتی سب ہی قسم کے لوگ تھے۔ حضور ﷺ میں اگر ادنیٰ سے ادنیٰ شائبہ ہوسناکی ہوتا، تو دشمن کو اس سے بہتر پروپیگنڈے کا اور کیا حربہ ہاتھ آسکتا تھا،؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہا، حریص عہدہ و منصب اور اقتدار کا بھی طعنہ دیا، مجنون کہا، کاہن کہا، سارے الزام لگائے لیکن یہ عجیب بات اور حیرت انگیز امر ہے کہ کوئی جانی اور سخت سے سخت دشمن نے بھی نفسانی ہوسناکیوں کا الزام نہیں لگایا۔ کیا یہ اس بات کی دلیل اور ثبوت نہیں ہے کہ جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آنحضرتﷺ نے متعدد نکاح کیے، تعدد ازدواج فرمایا وہ بھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ اونچا ، شریف اور مہذب انسان مغلوب النفس نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کی مصلحتیں وہی ہوسکتی ہیں جو اس کی ساری زندگی کے حرکت و سکون جھانکتی ہیں۔ اس تفصیل سے یہ بات سامنے آگئی کہ حضور ﷺ کے متعدد نکاح پر یہ الزام کہ خاکم بدہن اس کا سبب ہوائے نفس کا غلبہ تھا، اس کی تردید واضح انداز میں ہوجاتی ہے۔
یہاں ایک شبہ کم علم لوگوں کو اور معاندین اسلام کو یہ ہوسکتا ہے کہ امت کے لیے تو مثنیٰ و ثلث و ربع کی آیت نازل ہونے کے بعد چار تک شادی کی تحدید کردی گئی اور جن کے پاس چار سے زیادہ بیویاں تھیں،ان سے چار کے علاوہ کو جدا کردیا گیا۔ لیکن خود نبی کریم ﷺ نے اس پر عمل نہیں فرمایا، بلکہ نو بیویاں نزول آیت کے وقت تھیں وہ بدستور رہیں۔ اپنے لیے یہ سہولت اور رعایت و آسانی اور امت کو اس سہولت اور رعایت سے محروم رکھنے میں کیا مصلحت ہوسکتی ہے؟ اس شبہ کا ازالہ کرتے ہو ئے علماء کرام اور اہل علم لکھتے ہیں:
،، بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے لیے یہ رعایت و سہولت ہے اور امت اس رعایت سے محروم ہے ، لیکن معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے، مندرجہ ذیل حقائق پر غور کیجئے ان شاء اللہ یہ شبہ ختم ہوجائے گا اور حقائق سامنے آئیں گے اور شبہ اور غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی اور یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ آنحضرتﷺ سے زیادہ رعایت اور سہولت تو عام امت کو حاصل ہے اور آپ کے لیے تو بہت ہی زیادہ حدود و قیود اور شرائط تھے، جس کو عام امت نہیں جھیل سکتی تھی، اس لیے یہ شرائط اور حدود آپ کے لیے رکھے گئے اور عام امت کو اس سے علیحدا اور مستثنی رکھا گیا، آئیے اس پہلو سے تعدد ازدواج کی حکمت و مصلحت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہر مسلمان کے لیے چچا پھوپھی، ماموں اور خالہ کی بیٹیوں سے نکاح جائز ہے، لیکن آنحضرتﷺ کے لیے ان سے اس صورت میں نکاح جائز ہے، جب کہ ان عورتوں نے ہجرت کی ہو، ارشاد خداوندی ہے،؛ وبنأ ت عمک و بنات عمتک و بنات خالک و بنات خالتک التی ھاجرن معک۔
یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ کے سگے چچا اور مہربان چچا ابو طالب کی بیٹی ام ہانی رض آنحضرتﷺ کے لیے حلال نہ تھیں، کیونکہ وہ ایمان ہی فتح مکہ کے بعد لائی تھیں۔
ہر امتی بشرطِ عدل و ضرورت چار بیویاں رکھ سکتا تھا۔ لیکن قانوناً وہ ان سب کو یا بعض کو الگ کرکے دوسری عورتوں کو زوجیت میں لا سکتا تھا، وہ اس طرح قانون سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ، سیکڑوں نکاح کرسکتا تھا، لیکن نبی کریم ﷺ کے لیے ان نو عورتوں کے بعد ہمیشہ کے لیے نکاح کا دروازہ بند ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ لا یحل لک النسآء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواج و لو اعجبک حسنھن،،
اے رسولﷺ! اب ان موجودہ نو ازواج کے بعد آپ کے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ ان کو الگ کرکے دوسری ازواج کرنا حلال ہے، اگرچہ ان دوسری عورتوں کا حسن و جمال آپ کو بھاتا ہو۔
ان آیات سے جو مسائل و احکام اور نتیجہ واضح ہوتا ہے اس کی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
امت کا کوئی فرد ایک بیوی کی وفات کے بعد یا ضرورت ہو تو زندگی میں دوسری اور یوں تیسری، چوتھی جتنی بھی چاہے بیویاں رکھ سکتا ہے ، لیکن رسولﷺ کے لیے ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کے بعد یہ دروازہ بند ہے۔
امت کے لیے بیویوں کو طلاق دے کر اس کی بجائے دوسری بیویاں کرنے کا امکان موجود ہے، لیکن آنحضرتﷺ کو اس کی بھی اجازت نہیں۔
امت کے لیے ناموافقت یا کسی دوسری عورت کی کشش حسن تبدیل زوج کا بہانہ بن سکتی ہے ، لیکن رسولﷺ کے لیے یہ راہ مسدود ہے، یعنی اس کی گنجائش نہیں ہے۔
ذرا انصاف کیجئے کہ یہ رعایتیں امت کے لیے ہیں، یا رسولﷺ کے لیے، یہاں زیادہ سے زیادہ چار کی تحدید ہے۔ لیکن موت زوجہ، ناموافقت مزاج اور کسی کی کشش حسن تبدیل و تجدید کے بہانے بن جاتے ہیں، لیکن وہاں ایک کے سوا ساری عورتیں سن رسیدہ و بیوہ ہونے کے باوجود نہ تجدید بعد الموت کی اجازت ہے نہ تبدیل بعد الطلاق کی، نہ نو پہ کسی اضافے کی۔ غور کیجئے دیکھیے رعایت امت کے لیے زیادہ ہے یا خود آنحضرتﷺ کے لیے؟ (مستفاد و ملخص از نقوش رسولﷺ نمبر جلد ۴/ صفحہ ۶۵۳/۶۵۲مضمون نگار مولانا محمد جعفر پھلواروی ندوی رح )
نوٹ مضمون کا اگلا حصہ کل ملاحظه کریں

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button