بنگلور

نبی اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی!مولانا محمد مقصود عمران رشادی

مرکز تحفظ اسلام ہند کے "تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس" سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا ولولہ انگیز خطاب!

بنگلور، 29/جون (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ "تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس” کی چوتھی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے فرمایا کہ پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شمار فضائل و خصائل کے جامع ہیں، حضور پاکؐ کی ذات مقدسہ ایسی بے مثال ہے کہ آپؐ سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پیارے آقا ؐکی شخصیت ایسی شخصیت ہے جس کے قصیدے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ”اے محبوب ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند فرما دیا۔” مولانا نے فرمایا کہ جس کے ذکر کو اللہ تعالیٰ بلند فرما دے تو اس کے ذکر کو جو ختم کرنے کا سوچے یا سازش کرے وہ خود ختم ہو جائے گا۔

مولانا رشادی نے فرمایا کہ یہ گستاخان رسول نوپور شرما اور نوین جندل نے حضور ؐکی شان میں اور آپکی ازواج مطہراتؓ کی شان میں جو گستاخیاں کیں ہیں، اگر اس طرح سے ہزاروں گستاخ بھی حضورؐ کی شان میں گستاخی کریں تب بھی میرے آقاؐ کی عظمت اور مقام و مرتبہ میں کچھ فرق نہ ہوگا۔کیونکہ نبی رحمتﷺ کا مقام مرتبہ اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ اس تک کسی اور انسان کی رسائی نہیں۔ خالق کائنات نے جن کو رفعت وعظمت بخشی ہو مخلوق میں سے کون ہے جو اس میں کوئی کمی کرسکے؟

مولانا نے فرمایا کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا، اور وقت پڑنے پر ہمیں چاہیے کہ اپنے احتجاجی مظاہرہ سے لیکر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے بھی تیار رہیں کیونکہ نبی ؐ کی ناموس ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن یہ سارے کام ہوش میں رہتے ہوئے اپنے بڑوں کے مشوروں سے کریں، کیونکہ دشمن چاہتا ہیکہ ہم جذبات میں آکر کوئی غلطی کر بیٹھیں اور اس پر ہماری گرفت ہو، ہم جیل چلے جائیں اور گستاخ باہر آرام سے گھومتا رہے۔مولانا نے فرمایا کہ اہانت رسولؐ کے واقعات پر اپنے جذبات و غصہ کا اظہار کرنا ضروری و لازمی ہے، کیونکہ یہ ہمارا دینی و مذہبی فریضہ ہے۔ لیکن قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے احتجاج کو درج کرائیں، اور ملک کے ہر ایک گوشے سے گستاخان رسولؐ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں تاکہ گستاخ اپنے کیفرکردار تک پہنچے۔

انہوں نے فرمایا کہ احتجاجی و قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہیکہ ہم حضور اقدسؐ کی شان، انکی عظمت، انکے اخلاق، انکا عدل و انصاف، جیسے اعلیٰ اوصاف کو غیر مسلموں کے سامنے پیش کریں۔ نیز جن چیزوں پر دشمنانِ اسلام پروپیگنڈہ و اعتراضات کرتے ہیں انکا دلائل کے ساتھ منھ توڑ جواب بھی دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ جو لوگ نبی ؐکی شان اقدس میں وقتاً فوقتاً گستاخی کرتے ہیں، امہات المؤمنین کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں وہ اپنی دشمنی کا چشمہ نکال کر نبیؐ کی سیرت کو پڑھیں کیونکہ ہمارے نبیؐ پورے عالم کیلئے رحمت العالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اور جس دن آپ انکی سیرت کا مطالعہ کریں گے ہمیں یقین ہیکہ آپ بھی حضورﷺ کے عاشق بن جائیں گے۔

قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ "تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس” کی چوتھی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ مولانا محمد طاہر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین حافظ یعقوب شمشیر اور عمران خان خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button