بنگلور

ناموس رسالتؐ ہمارے ایمانی غیرت کا مسئلہ ہے، شان رسالتؐ میں گستاخی ناقابل برداشت ہے!

مرکز تحفظ اسلام ہند کے"تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس" سے مفتی حذیفہ قاسمی کا خطاب!

بنگلور، 16/ جون (پریس ریلیز) مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس” کی پہلی و افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر اکے ناظم حضرت مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ ناموس رسالتؐ ہمارے ایمانی غیرت کا مسئلہ ہے۔ ملک میں ایک گستاخ خاتون نوپور شرما اور گستاخ نوین جندل نے اپنی سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے آقائے دوعالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں جو گستاخی کی ہے، اس سے پورا عالم اسلام سرپا احتجاج ہے۔

کیونکہ مسلمان نبی کریمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ اس گستاخ عورت نے حضرت محمد رسول اللہﷺ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح پر اعتراضات کرتے ہوئے جو گستاخی کی ہے، اس پر مسلمانوں کی جانب سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا اور احتجاج کرنا برحق ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی ضروری ہیکہ ان اعتراضات کا تحقیقی جواب دیا جائے تاکہ دشمنوں کی سازش ناکام ہو اور لوگوں کے ذہن سے غلط فہمی دور ہو۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آپؐ نے جتنی شادیاں کی ہیں وہ حکمتاً یا بحکم رب کئے ہیں۔ آپ ؐنے مختلف قبائل میں نکاح کئے، جس سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملی، آپؐ نے بحیثیت مجموعی جن خواتین سے نکاح کیا، ان کی تعداد گیارہ ہے، ان میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ سب کی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں،

آپؐ نے پہلا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا جو عمر میں آپؐ سے پندرہ سال بڑی تھیں، اور ایک بیوہ خاتون تھیں، بچپن 55/ سال کی عمر ہونے تک آپؐ کے نکاح میں ایک ہی بیوی رہیں۔ حضرت خدیجہؓ اور ان کے بعد حضرت سودہؓ، زندگی کے آخری آٹھ سالوں میں بقیہ ازواج آپ کے نکاح میں آئیں۔ مولانا نے فرمایا کہ پہلا نکاح آپ ؐنے پچیس سال کی عمر میں چالیس سال کی خاتون سے کیا، دوسرے: ایک کے سوا آپؐ کی تمام بیویاں بیوہ یا مطلقہ تھیں، تیسرے: جو انسانی زندگی میں اصل زمانہئ شباب ہوتا ہے، اس میں آپؐ نے ایک ہی بیوی پر اکتفا فرمایا اور عمر کے آخری مرحلہ میں متعدد نکاح کئے، اگر ان نکات کو ملحوظ رکھا جائے تو وہ بہت سے غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ مولانا حذیفہ قاسمی نے فرمایا کہ جو اعداء اسلام کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں، جن میں سے ایک حضرت عائشہؓ سے نکاح بھی ہے۔ درحقیقت نکاح کے وقت راجح قول کے مطابق حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال تھی اور رخصتی کے وقت نو سال تھی۔ جہاں تک نکاح کے وقت کم سنی کی بات ہے تو اس کا تعلق اصل میں سماجی تعامل ورواج، موسمی حالات اور غذا سے ہے؛ اسی لئے مختلف علاقوں میں بلوغ کی عمریں الگ الگ ہوتی ہیں، عرب میں کم عمری میں لڑکیوں کے نکاح کا رواج تھا، عہد نبوت میں بھی اور آپؐ کے بعد بھی اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں، جن میں دس سال سے کم عمر میں لڑکیوں کا نکاح کر دیا گیا، اور جلد ہی وہ ماں بھی بن گئیں۔

مولانا نے فرمایا کہ اس کے علاوہ بھی دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی کم عمر لڑکیوں کی شادی کا رواج رہا ہے۔ غرضیکہ کم عمری میں لڑکی کا نکاح اور بیوی وشوہر کے درمیان عمر کا فرق طرفین کی باہمی رضامندی، معاشی رواج، موسم، صحت اور بلوغ سے متعلق ہے، مشرق ومغرب کے اکثر سماج میں کم عمر لڑکیوں کا نکاح ہوتا رہا ہے، مختلف مذہبی کتابوں میں نہ صرف اس کی اجازت دی گئی ہے؛ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور خاص کر ہندو سماج میں اس کا رواج زیادہ رہا ہے، اور مذہب کی مقدس شخصیتوں نے اس عمر میں نکاح کیا ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ ان سارے دلائل، واقعات اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کسی کو بھی اس نکاح پر اعتراض کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں رہتا۔

قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس”کی افتتاحی نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمدفرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین شوریٰ مولانا محمد نظام الدین مظاہری اور مولانا سید ایوب مظہر قاسمی خصوصی طور پر شریک تھے۔اس موقع پر حضرت مولانا مفتی سید حذیفہ قاسمی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس مفتی حذیفہ قاسمی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button