بین الاقوامی

نائن الیون سے متعلق ایف بی آ ئی کی دستاویزات: امریکہ میں خفیہ معلومات کیسے عام کی جاتی ہیں؟

واشنگٹن، 14ستمبر (ہندوستان اردو ٹائمز) امریکہ کے وفاقی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی) نے نائن الیون کے حملوں میں ملوث دو سعودی ہائی جیکرز کو مدد فراہم کرنے سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں۔ جاری کردہ دستاویز میں امریکہ میں ہائی جیکرز کے سعودی ساتھیوں سے رابطے کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ اس دستاویز میں سعودی عرب کے کسی سرکاری عہدے دار کے اس سازش میں ملوث ہونے سے متعلق کوئی ثبوت شامل نہیں ہے۔نائن الیون کے واقعات کی ابتدائی تحقیقات سے متعلق دستاویزات صدر بائیڈن کے احکامات کے مطابق اس واقعے کی بیسویں برسی کے موقعے پر جاری کیے گئے ہیں۔ایف بی آئی کی جاری کردہ 16 صفحات پر مبنی دستاویز اس شخص سے 2015 میں کیے گئے انٹرویو کا خلاصہ ہے جو حملوں سے قبل پہلے ہائی جیکر کو امریکہ پہنچنے پر معاونت فراہم کرنے والے یہاں مقیم سعودی شہریوں سے مسلسل رابطے میں رہا تھا۔

صدر بائیڈں نے گزشتہ ہفتے محکمہ انصاف اور دیگر اداروں کو آئندہ چھ ماہ کے دوران دستاویز جاری کرنے کے لیے ان کا جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔صدر بائیڈن کو نائن الیون حملوں کے متاثرین کے ان اہل خانہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا تھا جو سعودی حکومت پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ متاثرین کے خاندان اس سلسلے میں نیویارک کی عدالت میں درخواست بھی دائر کر چکے ہیں۔سعودی حکومت نائن الیون کے حملوں میں کسی بھی سطح پر ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ امریکہ میں سعودی سفارت خانے نے بھی حملوں کی تحقیقات سے متعلق صیغہ راز میں موجود دستاویز عام کرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔نائن الیون حملوں کے متاثرین کے اہل خانہ نے بھی دستاویزات جاری کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔متاثرین کے اہل خانہ کے وکیل جم کرینڈلر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایف بی آئی کی جاری کردہ دستاویز اور آج کی تاریخ تک عوامی سطح پر جمع کیے گئے شواہد سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امریکہ میں القاعدہ کس طرح سعودی حکومت کی معلوم معاونت کے ساتھ فعال تھی۔نائن الیون حملوں کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ طیاروں کے اغوا اور حملوں میں ملوث 19 افراد میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے سعودی حکام کے ان حملوں میں ملوث ہونے سے متعلق چہ موگوئیاں شروع ہوئی تھیں۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا تعلق بھی سعودی عرب کے ممتاز کاروباری گھرانے سے تھا۔یہ دستاویز ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں تنزلی آئی ہے۔اس سے قبل رواں برس فروری میں صدر بائیڈن کی حکومت نے 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے پر انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی تھی۔امریکہ میں معلومات اور دستاویزات کی حساسیت کے اعتبار سے درجہ بندی کے لیے ستمبر 1951 میں باقاعدہ ایک نظام بنایا گیا تھا۔ اس کے لیے صدر ہیری ٹرومین نے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا تھا۔صدارتی حکم نامے میں ’ٹاپ سیکریٹ، سیکریٹ اور کنفیڈیشنل‘ کی درجہ بندی کی گئی تھی۔ آج بھی معلومات خفیہ رکھنے کے لیے یہی درجہ بندی استعمال کی جاتی ہے۔امریکن ہسٹوریکل ایسوسی ایشن کے جریدے ’پرسپیکٹیوآن ہسٹری‘ میں تاریخ کے استاد اور مصنف سیم لیبووک کے مضمون کے مطابق 1951 میں ہونے والی مذکورہ قانون سازی سے قبل امریکی حکومت نے سرکاری دستاویز کی رازداری کا ایسا انتظام نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے سیکیورٹی ایڈوائزری بورڈ(ایس اے بی) قائم کیا۔ 1943 میں یہ بورڈ ’آفس آف وار انفارمیشن‘ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔یس اے بی کے عہدے داران کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ کلاسفائیڈ معلومات کے افشا ہونے کے خلاف کوئی قانون ہی موجود نہیں۔اس سے قبل 1917 کے ’اسپائنج ایکٹ‘ کے مطابق قومی دفاع سے متعلق معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کو فراہم کرنے کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ معلومات کے ’قومی دفاع سے متعلق‘ ہونے کا تعین کیسے کیا جائے گا۔اسی طرح معلومات تک رسائی کے لیے مجاز افراد اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا وغیرہ کا تعین بھی نہیں کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب اپریل 1993 میں صدر کلنٹن نے پہلی عالمی جنگ کے بعد سے صیغہ راز میں رکھے گئی سرکاری دستاویزات کو منظرِ عام پر لانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا۔صدر نے اس مقصد کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد تھا کہ دستاویز کا جائزہ لے کر تعین کیا جائے کہ ان میں سے کون سی دستاویزات خفیہ رکھی جائیں۔ دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کیسے کیا جائے اور حکومتی امور میں بہت زیادہ رازداری سے کس طرح گریز کیا جائے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close