بہارپٹنہ

میں نے کبھی برہمن نہیں کہا، پنڈت کہا ، ذات پات والے بیان پرموہن بھاگوت کی وضاحت، جانیں پورا معاملہ

بھاگل پور11فروری(ہندوستان اردو ٹائمز) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے بھاگلپور میں برہمنوں سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ میں نے کبھی برہمن کا لفظ نہیں کہا۔ میں نے کہا ہے کہ پنڈت وہ کسی بھی ذات کا ہو سکتا ہے۔ بھاگوت نے کہا ہے کہ میں نے کبھی برہمن نہیں کہا۔پنڈت نے کہاہے کہ یہ کسی بھی ذات کا ہو سکتا ہے۔ ذات پات میں تقسیم کی بات ہوئی۔

موہن بھاگوت نے یہ باتیں کل بھاگلپور میں مہارشی پرمہنس کے آشرم میں رضاکاروں کے ساتھ بات چیت میں کہیں۔ اس دوران انہوں نے مشورہ دیا کہ تنازعات سے متعلق غیر ضروری مسائل پر بات کرنے کے بجائے قوم کی تعمیر پر بات کریں۔ یہ بہت بہتر ہوگا۔موہن بھاگوت نے یہ بیان ملک بھر میں رام چریت مانس پرایک بیان پر تنازع کے درمیان دیا تھا۔ ممبئی میں سنت رویداس جینتی پر منعقد ایک پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہاتھاکہ ذات پات کو بھگوان نے نہیں بنایا، ذات پنڈتوں نے بنائی ہے جو کہ غلط ہے۔

بھگوان کے لیے ہم سب ایک ہیں۔ پہلے ہمارے معاشرے کو تقسیم کرکے ملک میں حملے ہوئے، پھر باہر کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ لوگوں نے ہمیشہ ہمارے معاشرے کو تقسیم کرکے فائدہ اٹھایا ہے۔برسوں پہلے ملک میں یلغاریں ہوئیں تو باہر کے لوگوں نے ہمیں تقسیم کرکے فائدہ اٹھایا۔ ورنہ کسی کو ہماری طرف دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اس کا ذمہ دار کوئی نہیں ہے۔ جب معاشرے میں اپنائیت ختم ہو جائے تو خود غرضی خود بخود بڑی ہو جاتی ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button