ممبئی

میرے ہندوتوا میں عصمت دری کرنے والوں کی آرتی نہیں اتاری جاتی: آدتیہ ٹھاکرے

مہاراشٹر میں انتخابی نشان اور نام پر جاری قانونی جنگ کے درمیان مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا ہے کہ 40 غدار ہم سے ہمارا نام چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گجرات کی بلقیس بانو عصمت دری کیس کے مجرموں کو رہا کرنے پر بی جے پی اور گجرات حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے پوچھا کہ کیا عصمت دری کرنے والوں کے لئے جشن منایا جا سکتا ہے؟

نیوز پورٹل آج تک سے بات چیت کے دوران ایک سوال کے جواب میں آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ انہوں نے جو ہندوتوا اپنے دادا سے سیکھا ہے، اس میں کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ عصمت دری کرنے والوں کی آرتی اتارو اور ان کی پوجا کرو۔ دادا کے ہندوتوا میں تو عصمت دری کرنے والے کو پھانسی دینے کو کہا جاتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ عصمت دری کرنے والے کو اس کے مذہب، صوبے، ذات، زبان کو دیکھے بغیر پھانسی دینی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عدالتی نظام بھی یہی کہتا ہے۔

آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جب کوئی ہمارے مذہب کے خلاف آئے گا تو ہم کھڑے ہوں گے۔ لیکن ہمارا مذہب یہ بھی کہتا ہے کہ تم سب کی خدمت کرو۔ ہمارا ہندوتوا کہتا ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلو۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندوتوا کی بات آتی ہے تو پورے ملک میں شاید ہی کسی شخص نے ایودھیا کا اتنا دورہ کیا ہو جتنا ادھو ٹھاکرے نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہندوتوا تھوڑا مختلف ہے۔ جب ہم نے اورنگ آباد کا نام تبدیل کیا، عثمان آباد کا نام تبدیل کیا تو کوئی تشدد نہیں ہوا۔ یہ ہے ہمارا ہندوتوا۔ ہم نفرت پھیلائے بغیر اپنا کام کرتے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button