کالم

میرے خیال میری تمنا: الطاف جمیل شاہ

میں اکثر اپنی تنہائیوں پے خوب دل کھول کر مسکراتا ہوں اپنی الجھنوں کو روند کر نکل جاتا ہوں دکھ الم مصائب و مشکلات میرے لئے اب کوئی خاص مسئلہ نہیں بس اللہ ان معاملات میں معاون ہے مددگار ہے

پر چند یوم سے میں تنہائیوں میں سسک رہا ہوں اداس ہوں آرام سے جسم تھرا جاتا ہے سکون و اطمنان برباد ہے نگاہوں میں الجھن حسرت و یاس خیالات میں سخت اضطراب
زندگی اب موت کے دہانے پر کب دستک دیتی ہے خبر نہیں پر کیا منہ لے کر حاضر ہوجاؤں حوض کوثر پر یہ سوچ کر بے حد تکلیف ہورہی ہے
دو خواہشیں جو شاید ناتمام ہی رہ جائیں گئیں
ایک
سیرت رسول ﷺ پر کام کرنے کی چاہ ہے جس کے لئے بہت سی کتابیں چاہئے
دوم
کشمیر کے عظیم بزرگ جن کی مساعی جمیلہ کی برکت سے ہم ایمان سے روشناس ہوئے ہیں ان پر کام کرنا مثبت انداز میں اور علمی رموز و نکات کا جمع کرنا
پر
ان دونوں کاموں کی انجام دہی کے لئے کتب درکار ہیں جو سب سے زیادہ کٹھن ہے میرے لئے
پر
اس امید پر زندگی رواں تھی کہ شاید کبھی سبیل ہوجائے اور اس جانب کام شروع کرسکوں مگر اب تک صرف خاکہ بنا سکا اور چند کتابوں کے حصول کے سوا کچھ میں کچھ نہ کرسکا
اب شرم سے سر جھک گیا ہے کہ الہی یہ کیسا امتحان ہے کہ دل عشق و محبت سے مزین ہے پر اپنے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں ایک عام سا نذرانہ محبت پیش کرنے کی میری اوقات نہیں بس
رب کعبہ گواہ کہ یہی غم ہے جو کھائے جارہا ہے اندر ہی اندر
اچھا
آپ میرے لیے اپنی دعاؤں میں تھوڑی سی وسعت پیدا کرکے مجھ سیاہ کار کے لئے دعا کریں کہ مولا کوئی تو سبیل ہوجائے
فی امان اللہ
الطاف جمیل شاہ

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button