مضامین

مولانا مودودی ، جن سے مجھے محبت ہے : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

عربی زبان کا مشہور شعر ہے :

أتاني هواها قبلَ أن أعرفَ الهوى
فصادفَ قلباً خالیاً فتمکّنا

( اس کی محبت مجھے اس وقت سے ہوگئی تھی جب کہ میں محبّت کے مفہوم سے نا آشنا تھا۔ اس محبت نے ایک خالی دل پایا تو اس میں جاگزیں ہوگئی۔ )

یہ شعر چاہے جس کا ہو ( ابن الطثریۃ کا بیان کیا جاتا ہے ) اور چاہے جس کے لیے کہا گیا ہو ، لیکن اپنے جذبات کی ترجمانی کے لیے میں اس سے بہتر شعر نہیں پاتا ۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی سے مجھے محبت ہے ، اس وقت سے جب کہ میں محبت کے مفہوم سے نا آشنا تھا ۔

مولانا مودودی سے محبت مجھے اپنے ابّا جان ( محمد شفیع خاں ) سے ورثے میں ملی ہے ، جو جماعت اسلامی کے رکن تھے ۔ وہ کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بہت شوقین تھے ۔ چنانچہ انھوں نے مولانا کی تمام کتابیں منگوالی تھیں ۔ انھوں نے مجھے ‘خطبات’ کے ابتدائی حصے اس عمر میں رٹا دیے تھے جب میں ان کا مفہوم بھی نہ سمجھتا تھا ۔ میری ابتدائی تعلیم کے لیے انھوں نے جماعت کا تیار کردہ مکمل نصاب منگوا لیا تھا اور ایک مولوی صاحب کو بلاکر مکتب کھول دیا تھا ، جس میں میرے ساتھ گاؤں کے بچے بھی پڑھتے تھے ۔ اس طرح میں نے چھ برس کی عمر میں درجۂ چہارم تک کا پورا کورس پڑھ لیا تھا ۔

مولانا مودودی کی محبت مجھے رام پور میں قائم ابتدائی درس گاہ کے اساتذہ سے ملی ، جہاں ابّا نے مجھے سات برس کی عمر میں بھیج دیا تھا ۔ تمام اساتذہ جماعت کے مشن سے وابستہ اور اس کے پُر جوش کارکن تھے ۔ جناب منظور الحسن ہاشمی ، جناب اسلام اللہ پریمی ، جناب عرفان خلیلی ، مولانا محمد ایوب اصلاحی جیراج پوری ، مولانا محمد سلیمان قاسمی ، جناب ابو المجاہد زاہد ، جناب رونق علی ، جناب رئیس احمد عثمانی ، جناب منظور فاخر وغیرہ ۔ سب نے مجھے مولانا مودودی سے محبت کی ایسی گُھٹّی پلائی کہ اس کا اثر تا زندگی باقی رہے گا ۔ رام پور میں مجھے جماعت کے متعدد اکابر کی شفقت اور سرپرستی حاصل رہی، مثلاً مولانا سید احمد عروج قادری، مولانا ابو سلیم عبد الحی، جناب مائل خیر آبادی ۔ ابّا نے رام پور سے نکلنے والے تمام تحریکی رسائل : نور، ہادی، الحسنات، بتول، حجاب، ذکری وغیرہ میرے نام جاری کروادیے تھے۔ اس کے علاوہ چچا میاں مولانا عبد السلام بستوی سے کہہ رکھا تھا کہ مولانا مودودی کی کوئی بھی کتاب شائع ہو، خرید کر مجھے دے دی جائے۔ اس طرح بچپن میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کی محبّت میرے دل میں رچ بس گئی تھی۔

مولانا مودودی سے میری محبت میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے زمانۂ طالب علمی میں اضافہ ہوا، جہاں ابّا نے میرا داخلہ جماعت اسلامی ہند کے پہلے امیر مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی کے مشورے پر کرادیا تھا۔ ندوہ کے اساتذہ کو میں نے بہت کھلے ذہن کا پایا۔ میرے ندوہ پہنچتے ہی بعض اسباب سے ( یہ ملک میں ایمرجنسی کا زمانہ تھا ) طلبہ اور اساتذہ سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ میرا تعلق جماعت اسلامی کے خاندان سے ہے، لیکن میں نے سب سے محبت پائی۔ ندوہ میں طلبہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے علاوہ مولانا مودودی کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ وہاں کی مرکزی لائبریری کے علاوہ طلبہ کی لائبریریوں میں بھی مولانا مودودی کی تمام کتابیں پائی جاتی ہیں۔ ندوہ کے اساتذہ، خاص طور سے مولانا محمد رابع حسنی ندوی، مولانا واضح رشید ندوی، پرنسپل مولانا محب اللہ لاری ندوی، مولانا شفیق الرحمٰن ندوی، مولانا شمس الحق ندوی، مولانا شہباز اصلاحی، مولانا مودودی کا نام بہت احترام سے لیتے تھے اور ان کی خدمات کی ستائش کرتے تھے۔ میرے سینیر ساتھیوں میں عطاء الرحمٰن صدیقی، خورشید انور، شعیب اسلم، اور کلاس فیلوز میں محمد اکرم ، حشمت اللہ، آفتاب، اسحاق حسینی، جعفر، عبد الحی، عمر لداخی، وزیر احمد، ضیاء الدین وغیرہ، کوئی کم کوئی زیادہ، سب مولانا مودودی کے قدر داں تھے۔ ذہن کی تشکیل میں ان اساتذہ کی تربیت اور ان ساتھیوں کی صحبت کا بھی وافر حصہ ہے۔

مولانا مودودی سے مجھے محبت ہے، اس لیے کہ میں نے ان کی کتابوں سے اسلام کا شعوری فہم حاصل کیا ہے، میں نے سیکھا ہے کہ اسلام صرف چند رسوم کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزارا جائے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دی جائے اور اس کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔

مولانا مودودی سے مجھے محبت ہے، اس لیے کہ میں نے ان سے سیکھا ہے کہ اصل کسوٹی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنّت ہے اور رسول کی ذات کے علاوہ کوئی دوسرا انسان تنقید سے بالا تر نہیں۔ (تنقید کا مطلب تنقیص نہیں) چنانچہ میں نے تنقیدی مطالعہ کو اپنی عادت بنا لیا، یہاں تک کہ خود مولانا مودودی کی تحریروں کا مطالعہ بھی تنقیدی نقطۂ نظر سے کرنے لگا۔

مولانا مودودی سے مجھے محبت ہے، اس لیے کہ میں نے ان سے اچھے اسلوب میں ما فی الضمیر کی ادائیگی کا طریقہ سیکھا ہے۔ میں نے ان سے سیکھا ہے کہ دقیق مباحث کو کس طرح آسان زبان اور قابلِ فہم پیرایے میں پیش کیا جائے۔ ایک بار حیدر آباد کے بزرگ جناب احمد ابو سعید نے، جو مولانا مودودی کے عاشق ہیں، مجھے سخت غصے میں لکھا : ” آپ اپنی تحریروں میں آیاتِ قرآنی کا ترجمہ تقریباً 75 فی صد مولانا مودودی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا تذکرہ اور اعتراف نہیں کرتے۔ ” میں نے انھیں جواب دیا : ” آپ نے فی صد کم بتایا ہے۔ میں 95 فی صد ترجمۂ قرآن مولانا مودودی کا استعمال کرتا ہوں، بہت کم کسی دوسرے مترجمِ قرآن کا ترجمہ لیتا ہوں، یا کہیں کہیں خود ترجمہ کرتا ہوں۔ میں نے اس کا تذکرہ اپنی بعض کتابوں کے مقدمے میں کردیا ہے، ہر جگہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اور یہ تو صرف ترجمۂ قرآن کی بات ہے، ورنہ میری فکر صد فی صد مولانا مودودی ہی کی ہے، بلکہ الفاظ، اصطلاحات، تعبیرات، بلکہ بہت سے جملے بھی مولانا ہی کے ہوتے ہیں۔ ”

میں مولانا مودودی کو فرشتہ نہیں، انسان سمجھتا ہوں، ایسا انسان جس سے بسا اوقات غلطیاں ہوئی ہیں، تحقیقات میں، استنباطات میں، نتائج بحث میں، لیکن میں انہیں ‘ضال و مضل’ نہیں کہتا، ان کی فکر کو ‘فتنہ’ نہیں قرار دیتا، بلکہ انہیں دین کا ایک ایسا خادم سمجھتا ہوں جس کے افکار نے عالمی اثرات ڈالے ہیں۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button