دیوبند

مولانا ریاست علی بجنوری ؒکے چھوٹے صاحبزادے مولانا سعدان کا اچانک انتقال

دیوبند، 10؍ مئی (رضوان سلمانی) عظیم علمی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے سابق استاذ حدیث و ترانۂ دارالعلوم دیوبند کے تخلیق کار حضرت مولانا ریاست علی ؒ کے چھوٹے صاحبزادے و جامعہ امام محمد انو ر شاہ کے استاذ حدیث مولانا سعدان جامی کا آج صبح اچانک انتقال ہوگیا،ان کے انتقا ل کی خبر سے علمی حلقو ں کی فضا مغموم ہوگئی ،صبح سے ہی کثیر تعداد میں علماء کرام، سماجی و سیاسی شخصیات اور شہر کے سرکردہ افراد کا مرحوم کی رہائش گا ہ محلہ خانقاہ پر تانتا لگ گیا۔ نمازجنازہ بعدنماز ظہر احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سلمان بجنوری نقشبندی نے ادا کرائی،بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قاسمی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ہے۔ مرحوم کے بڑے بھائی مولانا محمد سفیان نے بتایا کہ مرحوم صبح تک بخیر و عافیت تھے اور آرام کررہے تھے ،صبح قریب ساڑھے سات بجے اچانک سائلنٹ اٹیک کے سبب وہ مالک حقیقی سے جا ملے، مرحوم تقریباً 45؍ سال کے تھے۔

ان کے انتقال پر نامور علماء کرام،سرکردہ شخصیات کے علاوہ دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم قف دیوبند، جامعہ امام محمد انور شاہ، جامعۃ الشیخ حسین احمد مدنی، دارالعلوم زکریا دیوبند سمیت شہر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے گہرے رنج و الم کا اظہار کیا۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور د و بیٹیاں ہیں۔نماز جنازہ میں قائم مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، نائب مہتمم مفتی راشد اعظمی،دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم مولانا شکیب قاسمی،شیخ الحدیث و جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، مولانا مجیب اللہ گونڈوی،نائب امیر الہند مفتی سلمان منصورپوری، جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی،مولانا محمد مدنی، مولانا ازہد مدنی، مولانا غیور قاسمی،مولانا نجم الحسن تھانوی،مفتی عارف قاسمی،قاری واصف عثمانی،ڈاکٹر اختر سعید،ممتاز عالم دین مولاندیم الواجدی،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی،نائب منیجر سید آصف حسین، سابق چیئرمین انعام قریشی، عمیر احمد عثمانی،حافظ عبدالخالق ،قاضی دانش،جاوید عثمانی،عدیل صدیقی، فیضی صدیقی،ڈاکٹر سید جمیل حسین، سید خرم حسین،محمد طارق تھانوی،فوزان تھانوی، رکن شوریٰ مولانا انوار الرحمن، سید ماسٹر انظر حسین، ڈاکٹر مفضل سنسارپوری،قاری فوزان،سید حارث، حیدر علی،قاری وامق،قاری شارق،مولانا صدر الزماں قاسمی کیرانوی، مولانا قدر الزماں قاسمی کیرانوی،سید وجاہت شاہ، جامع مسجد کے متولی انور حسین،سرور حسین سمیت کثیر تعداد میں علماء اور شہر کی سرکردہ شخصیات نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ادھر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سیدارشد مدنی، مولانا سید محمود مدنی اورمفتی سید عفان منصورپوری نے بذریعہ فون اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عظیم حادثہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی۔دوسری جانب مولانا سعدان جامی استاذ جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے انتقال پر جامعہ میں ایصالِ ثواب کیا گیا اوریک روزہ تعطیل کا اعلان کیا۔مولانا سعدان جامی جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے قدیم ترین اساتذہ میں تھے۔ ان انتقال کی خبر ملتے ہی جامعہ کے اساتذہ اور مہتمم جامعہ نے مرحوم کے گھر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ جامعہ میں اساتذہ و طلبہ نے قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا۔ اس موقع پرمنعقد تعزیتی مجلس میں مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری ان کی حیات و خدمات اور خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی ۔

جامعہ کے صدر المدرسین مفتی وصی احمد بستوی اور جامعہ کے استاذِ حدیث و نائب ناظمِ تعلیمات مولانا سید فضیل احمد ناصری نے کہا کہ انہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ وہ میرے درسی ساتھی تھے۔ 1996 سے 1998 تک ہم دونوں نے ایک ساتھ دارالعلوم دیوبند میں پڑھا۔ بعد میں انہوں نے افتا بھی کیا۔ بڑے ہی اعلیٰ اخلاق اور خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے۔ فراغت کے بعد ہی جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں استاذ ہو گئے تھے اور کم و بیش 20 سال سے مسلسل درس دے رہے تھے۔ مرحوم نہایت ہنس مکھ، شریف النفس اور درد آشنا دل کے حامل تھے۔ سخاوت میں اپنے ہم عمروں میں قابلِ رشک حد تک بڑھے ہوئے تھے۔ نئے نئے نوٹوں کی گڈیاں جیب میں لیے رکھتے تھے اور کوئی غریب ملا تو فوراً اس کی دستگیری کر ڈالی۔ ہمدردی و غمگساری ان کی عادتِ ثانیہ تھی۔ اس کے گواہوں میں خود میں بھی شامل ہوں۔ ان کا ادبی ذوق بڑا ہی ستھرا تھا۔ اچھے اور خوب صورت اشعار انہیں خوب یاد تھے اور جب رو میں ہوتے تو ایک سانس میں کئی کئی اشعار پڑھتے ہوئے چلے جاتے۔تعزیتی جلسے کے بعد جامعہ میں یک روزہ تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button