مضامین

موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں : مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

موجودہ وقت میں حالات بہت خراب ہیں، ہر چہار جانب سے مسلمانوں پر مسلم مخالفت طاقتیں ٹوٹ پڑی ہیں، اس طرح پوری دنیا میں مسلمان مشکلات میں گھرے نظر آرہے ہیں، ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہزاروں برس سے اس ملک میں بسنے والے ہندو،مسلم، سکھ ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ امن وسکون سےرہتے آئے ہیں، مگر کچھ برسوں سے یہاں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے دی گئی، اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ اٹھاکر نفرت کا ماحول قائم کردیا گیا، جس کی وجہ سے مسلم سماج کے لوگوں پر ظلم وستم جاری ہے، کبھی ماب لنچنگ کی جاتی ہے ،تو کبھی طلاق کے مسئلہ کو اٹھایا جاتا ہے ،کبھی ان کی مساجد پر حملے کئے جاتے ہیں تو کبھی اذان کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے، کبھی ان کے تعلیمی اداروں کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے،تو کبھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، جبکہ اس ملک میں آئین کو بالادستی حاصل ہے، ملک کا آئین ہر شہری کو مساوات کا حق دیتا ہے، مذہبی آزادی ، لسانی آزادی، تعلیمی آزادی، سیاسی آزادی کا حق دیتا ہے، اس کے باوجود ان حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے دل آزاری ہوتی ہے، ایسے وقت میں مسلمانوں کو کے لئے چند مشورے تحریر ہیں۔
(۱) موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اللہ کی بشارت پر یقین رکھنا چاہئے، قرآن کریم میں ہے،جس کا ترجمہ یہ ہے: مسلمانو! تم شکستہ دل نہ ہو اور نہ غم کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم واقعی مومن ہو۔ (آل عمران:۱۳۹)
(۲) مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ موجودہ حالات ان کے لئے آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ آپ کے بُرے حالات لاکر آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ آپ اپنے دین پر قائم رہتے ہیں کہ نہیں،یا آپ کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں؟ اس آزمائش کی گھڑی میں استقامت اختیار کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے۔
(۳) موجودہ حالات میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور حالات کا مقابلہ صبر اور نماز سے کرنے کی ضرورت ہے۔
(۴) موجودہ وقت میں دنیا کے لوگ مسلمانوں کو ایک جذباتی قوم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ ان کو مشتعل کرکے کام نکالا جاسکتا ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے ، اس لئے آپ مشتعل اور جذباتی ہونے سے بچئے اور دشمنوں کی سازش کو ناکام بنادیجئے۔ایسے موقع پر صبر وتحمل سے کام لیجئے ۔
(۵)تکلیف پر اس کا اظہار فطری عمل ہے، اس لئے جب کسی جانب سے تکلیف پہنچائی جائے اور تکلیف کا اظہار نہ کیا جائے تو ظالم کا حوصلہ بلند ہوجاتا ہے۔اس لئے دفاع کا اختیار ملک کا آئین دیتا ہے، مگر اس کے لئے حدود متعین ہیں کہ آپ دکھ اور تکلیف کا اظہار ملک کے آئین کے دائرے میں کریں، قانون کی رعایت کریں، قانون شکنی سے بچیں۔
(۶) موجودہ حالات بہت خراب ہیں، ہر طرف نفرت کا ماحول ہے، اس لئے تکلیف کے اظہار کے لئے ضرورت محسوس ہو تو ان مقامات کا استعمال کریں جو سرکار کی جانب سے متعین کئے گئے ہیں، یا کسی محفوظ جگہ کا استعمال کریں اور وہاں بھی حفاظت کا مکمل انتظام کریںاور تجاویز منظور کرکے حکومت تک پہنچائیں۔
(۷) دکھ اور تکلیف کے اظہار کے لئے حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کریں ، ان کو میمورنڈم دیں یا مقامی سطح پر مقامی ذمہ داروں کو میمورنڈم دے کر آگے ارسال کرنے کی درخواست کریں۔
(۸) موجودہ وقت میں حالات بہت خراب ہیں، اس لئے رنج وغم کے اظہار کے لئے روڈ یا سڑک پر نہ آئیں، کیونکہ روڈ یا سڑک پر آنا مزید مصیبت کو دعوت دینا ہے۔
(۹) مسلمانوں میں قیادت کا بحران ہے، فقدان نہیں ہے، اس لئے جو بھی اور جیسی بھی قیادت موجود ہے، اس پر اعتماد اور بھروسہ کریں، اپنی قیادت کو مضبوط کریں۔
(۱۰) اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ، کیونکہ اتحاد ہی میں طاقت ہے، اور اسی میں کامیابی مضمر ہے۔

(مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی


Abul Kalam Qasmi Shamsi
Ex-Principal Madrasa Islamia Shamsul Hoda
Patna – 800006
Mob- +91-9835059987

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button