مضامین و مقالات

موت سےکس کورستگاری ہے-(ایک ذاتی حادثہ جس نےجسم وروح کوہلادیا)محمد قمر الزماں ندویؔ

۔ آج کا پیغام ۔ ۲۳/ فروری ۱۷/جمادی الثانیہ*  
  *موت  سے کس کورستگاری  ہے*
( *ایک ذاتی حادثہ جس نے جسم و روح کو ہلا دیا* )

         *محمد قمرالزماں ندوی**مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ* 
              *قارئین محترم !*

           *گزشتہ* رات ٹھیک بارے بجے جب کہ احقر گہری نیند کی آغوش میں تھا اچانک سیل فون کی گھنٹی بجی ۔ *عزیزم سلمان ریاض* نے یہ خبر جانکاہ سنائی کہ عزیزہ شگفتہ پروین اللہ کو پیاری ہو گئ۔ کلکتہ سے جنازہ کچھ گھنٹے بعد ایمبولینس کے ذریعے گاوں لے جایا جائے گا اور ممکن ہے عصر بعد ہی مٹی ہوجائے ۔ یہ خبر بجلی بن کر گری اور پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، اس وقت سے مسلسل طبیعت پر اس کا گہرا اثر ہے  ۔        مرحومہ میرے چچیریے بھائ *ماسٹر رئیس احمد صاحب*  کی تیسری لڑکی تھی اور جس نے ایک ماہ تک موت و حیات کی کشمکش کو جھیل کر اور زندگی کی صرف ۲۳ /۲۲ بہاریں دیکھ کر اپنے والدین ،جواں سال شوہر دو چھوٹے معصوم بچے اور ہم سب  لوگوں کو روتا بلکتا چھوڑ دیا اور دار فانی سے دار باقی کی طرف کوچ کرگئ۔ بعض موتیں یقینا ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اندر سے ہلاک کر رکھ دیتی ہیں پرسکون فضا میں ہلچل پیدا کر دیتی ہیں اور جو انسان کو اندر سے باہر تک  جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں ۔ اوپر جس موت کی خبر کا تذکرہ کیا اس نہ صرف مرحومہ کے والدین شوہر بھائ بہن اور رشتہ داروں کو غمگین و سوگوار کیا بلکہ پورے گاؤں اور علاقے  کے ماحول کو سوگوار بنا دیا ۔ رات بارے بجے سے اب تک بارہا کوشش کے بعد بھی اس غم کو بھلا کر کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں تو یہ میرے لیے ممکن نہیں ہو پارہا ہے ۔ اس لئے آج کا پیغام لکھنا میرے لئے انتہائی دشوار ہوگیا ۔ بس اپنے تمام رشتہ داروں عزیزوں اور خاص طور  مرحومہ کے والدین شوہر اور بھائیوں اور بہنوں کے تسلی اور تعزیت کے لئے چند الفاظ لکھ رہا ہوں تاکہ ان سب کے لئے باعث تسلی ہو ۔  ہمارے قارئین بس اسی تعزیتی تحریر کو آج کا پیغام سمجھ لیں ۔  م    ق   ن     

   *لائ حیات آئے قضا لے چلی چلے*

*اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے*

      پیاری بھتیجی *شگفتہ پروین* ہم سب لوگوں کو چھوڑ کر وہاں  پہنچ گئ اور وہاں چلے گئ جہاں باری باری ہم سب کو وقت متعین پر جانا ہے ۔ کیوں کہ خلاق ازل نے اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ *کل نفس ذایقة الموت* ( ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے) کی حقیقت ہر ایک پر صادق آکر رہے گی، اس سے کوئ بھی فرد بشر حتی کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ذات بھی مستثنٰی اور علحدہ نہیں ہے ۔

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج  وہ   کل   ہماری  باری    ہے

مشہور ادیب اور شاعر ماہر القادری صاحب مرحوم نے اپنی کتاب *یاد رفتگاں* جلد اول میں ایک جگہ موت اور زندگی  کے حوالے سے لکھا ہے :

*فروغ شمع تو باقی رہے گا صبح محشر تک*

*مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے*

اس عالم کون و فساد میں موت ہر جان کے ساتھ لگی ہوئ ہے ۔ اللہ تعالٰی کی ذات کے سوا ہر شئ فانی اور آنی جانی ہے ،احتیاج اور فنا مخلوق کی صفت ہے، آدمی کوئ شک نہیں خلاصئہ کائنات اور اشرف المخلوقات ہے مگر وہ ۔۔ ضعیف البیان۔۔ بھی تو ہے ۔ 

*کریں کیا اپنی ہستی کا یقیں ہم*

 *ابھی سب کچھ ابھی کچھ بھی نہیں ہم*

 جس جان کے لئے کاتب تقدیر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس میں کمی بیشی ممکن نہیں ،ایک لمحہ کے لئے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔مگر

*آدمی نشئہ غفلت میں بھلا دیتا ہے*

*ورنہ جو سانس ہے پیغام فنا دیتا ہے*

اور *موت میں اور حیات میں وقفئہ درمیاں کہاں*

حافظ شیرازی نے بڑی سچی بات کہی ۔۔۔*زمانہ جام بدست و جنازہ بردوش است* (یاد رفتگاں از ماہر القادری مرحوم)

*یاد رفتگاں* کے نام سے وفیات کا ایک دوسرا بہترین،شاہکار اور قیمتی مجموعہ *علامہ سید سلیمان ندوی رح* کا ہے اس کے مقدمہ میں جناب سید ابو عاصم ایڈوکیٹ (کراچی) نے موت اور زندگی کی جو تصویر کشی کی ہے وہ بہت ہی پر مغز اور مبنی بر حقیقت ہے ۔ مناسب معلوم ہوتا ہے اس کا تذکرہ بھی کر دیا جائے تاکہ خاندان  اور رشتہ داروں کے جتنے دل بھی اس حادثہ پر مغموم افسردہ اور رنجیدہ ہیں سب کے لئے باعث تسلی اور وجہ سکون ہوجائے اور میری طرف سے  مرحومہ   کے والدین شوہر ،پسماندگان اور متعلقین اور ان کے تمام سوگواروں کے لئے تعزیت نامہ بھی ہوجائے ۔ سید ابو عاصم صاحب لکھتے ہیں :*حکایت ہستی کے دو ہی اہم واقعات ہیں، پیدائش اور موت ،موت و حیات کا فلسفہ کائنات کے دوسرے اسرار کی طرح اب تک لا ینحل ہے ۔

فلسفی سر حقیقت نہ توانست کشود 

گشت راز دیگرآں راز کہ افشا می کرد

کچھ لوگ متحیر ہیں اور کہہ اتھتے ہیں، سنی حکایت ہستی تو درمیان سے سنی نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

حالانکہ انہیں دونوں کے تصور پر عمرانیات کی بنیاد کھڑی ہے ،موت کی حقیقت کچھ بھی ہو لیکن یہ زندوں اور مردوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے، اور اسی وجہ سے موت پر غم ایک فطری جذبہ ہے، مگر مسلمان کا غم دنیا کی تمام دوسری قوموں کے غم سے مختلف ہے،اس لئے کہ مسلمان اس کائنات اور کائنات سے ماوراء کے متعلق ایک خاص نظریہ اور تصور رکھتا ہے ،وہ موت کو زندگی کا خاتمہ نہیں سمجھتا ،بلکہ ایک نئ زندگی کا آغاز سمجھتا ہے ۔ اس لئے اس کو غم عارضی فراق کا ہوتا ہے ،اس کے برخلاف دوسری قومیں موت پر غم اس لئے کرتی ہیں کہ ان کے نزدیک محبوب کی ہستی فنا ہوگئ، ان اوراق میں موت پر فطری غم تو ضرور ہے لیکن ایک مسلمان کا غم ہے* (مقدمہ یاد رفتگاں از سید سلیمان ندوی رح)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close