مضامین

منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نسل نو کی تباہی کا باعث، نقصانات اور ہماری ذمہ داریاں :از۔۔۔۔۔۔۔ معراج خالد

معراج خالد جگنو
جوکی ہاٹ ارریہ بہار

کسی بھی قوم کے عروج و ترقی میں نوجوان سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں, اسی لیے نوجوانوں کو قوم کی ریڑھ کی ہڈی سے تشبیہ دی گئی ہے, لیکن اگر انہیں کسی بری لت میں بالخصوص نشے کی عادت میں مبتلا کردیا جائے تو نوجوان ذہنی ,جسمانی, تعلیمی واخلاقی ہر اعتبار سے کھوکھلے ہوجاتے ہیں اور ایسے نوجوانوں کی قوم کبھی ابھر نہیں سکتی, ترقی تو دور خدانخواستہ کبھی سخت حالات آجائیں تو وہ قوم اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتی.
سیمانچل بہار کے ضلع ارریہ کی سب سے زیادہ گھنی مسلم آبادی کا حامل جوکی ہاٹ بلاک کی حالت کا بغور مشاہدہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدانخواستہ یہاں جان بوجھ کر ہمارے نوجوانوں کو نشے کے جال میں پھنساکر کمزور کیا جا رہا ہے تاکہ یہ اتنے کمزور ہو جائیں کہ اپنے جائز حقوق بھی نہ مانگ سکیں ۔
آج یہاں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ نشے کی لت میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا جیسے ہماری نوجوان نسل کو خصوصی طور پر برباد کرنے کی کوششیں بڑے پیمانے پر کی جار ہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب اس بلا اور لت میں بڑی تعداد میں چھوٹی عمر کے لوگ بھی گرفتار ہوتے جا رہے ہیں۔ 2016 سے پہلے بہار میں شراب بکتا تھا تو جوکی ہاٹ کے گنے چنے لوگ ہی شرابی ہوتے تھے اور وہ شراب پی کر اپنی حد میں رہتے تھے لیکن 2016 میں بہار حکومت کی جانب سے شراب کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور شراب کی دکانیں بند کر دی گٸیں, علما ٕ و دانشوران نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور انسانی زنجیر بناکر اپنی حمایت دی ۔ لیکن شراب کے ٹھیکے بند ہو جانے کے بعد شرابیوں اور نشیڑیوں نے نشیلی ادویات کی طرف رخ کیا اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے مختلف قسم کی بڑی بڑی کھیپ جوکی ہاٹ تحصیل کے ہر گاؤں, محلے ہاٹ, چوک, چوراہے اور گلیوں بلکی کھیتوں تک میں بآسانی دستیاب ہونے لگی, انتظامیہ نے برائے نام بعض جگہوں پر دبش ماری لیکن منشیات فروش ریکٹوں کا صفایا نہیں کیا, آج نتیجہ یہ ہے کہ دس بارہ سال کے بچوں سے لیکر پچاس ساٹھ سال تک کے ضعیفوں کو نشہ کرنے کی ایک امنگ پیدا ہوگئ ہے گویا ایک وائرس کی طرح نشہ خوری کی بیماری میں اضافہ ہورہا ہے. بوڑھے, بچے اور نوجوان ہرعمر کے لوگ اسپاسمو اور نیٹرابھیٹ، جیسی ٹیبلیٹس, سن فکس جیسی پھیپھڑے کو برباد کرنے والی گم کے عادی ہوگٸے ہیں, بہت سی دوا کی دکانیں تو مکمل طور پر شراب خانہ بنادی گئی ہیں جہاں کوریکس، ریسکف، ایسکف، پولیس کی مجرمانہ خاموشی میں بکتے ہیں۔ شروع میں پنچایت الیکشن 2016 کو فتح کرنے کے لٸے امیدواروں نے نشہ آور منشیات خوب لٹاٸیں لیکن عادت لگ جانے کے بعد الیکشن کا دور ختم ہوکر درندگی کا دور شروع ہو گیا۔ سب ہی جانتے ہیں کہ نشے میں انسان سے حیوان بن جاتا ہے ییاں صورتحال ایسی بگڑی کہ ایک بوتل کف سیرپ کی لالچ میں لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لٸے بھی تیار ہو گٸے۔ حالیہ چند برسوں میں سماج میں ایسے کٸی معاملے دیکھنے کو ملے ہیں کہ صرف نشہ کرنے والی چیزوں کی لالچ میں قتل تک کی نوبت آٸی ہے,ابھی دوتین ماہ قبل کی بات ہے کہ بگڈھرا ہاٹ میں ایک تعلیم گاہ کو نذر آتش کر کلام مقدس کو جلا دیا گیا اور سبھی ملزمان بدقسمتی سے اہل ایمان ہیں (برائے نام سہی) اور مارچ 2022 میں شیر لنگھا نامی بستی میں ایک دس سالہ معصوم کا معمولی بات پر قتل کر دیا گیا ,ایسے ہی ایک گاؤں میں دوسال پہلے رمضان کے مہینے میں جمعۃ الوداع کی رات بوقت سحر معمولی زمینی رنجش کے بہانے درحقیقت نشے میں حیوان بن چکے مجرموں نے ایک ماں اور اس کے تین معصوم بچوں کا گلا ریت کر قتل کردیا, یہ سب نشہ کے مہلک اثرات ہیں. اور یہ تو بس نمونے ہیں ورنہ چاقو زنی اور ادنی ادنی بات پر عدم برداشت کے ساتھ بےحد سفاکیت کے مظاہرے عام ہوتے جارہے ہیں جبکہ منشیات کا وائرس پھیلنے سے پہلے ارریہ میں دسیوں سال میں کبھی ایسے ہولناک واقعے شاذ ونادر ہی ہوتے تھے وہ بھی کسی شرابی کے ہاتھوں.
نشہ کرنے کے بعد انسان اپنی ماں ،بہن, بیٹی اور بیوی میں کوئی تفریق نہیں کر پاتا اور بسا اوقات ان کے ساتھ ایسی حرکت بھی کرجاتا ہے جس سے انسانیت شرم سار جاتی ہے۔ کیسی کیسی برائیاں معاشرے میں جنم لے رہی ہے ان سب کی کیا وجہ ہے؟ کیوں ہمارے ہی علاقوں میں منشیات کے کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے؟ کیوں ہماری نسل نو کو اس وباء میں مبتلا کیا جارہا ہے؟کیوں….؟
منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف ہماری قوم میں بلکہ پورے سماج میں خوف ناک گھناؤنی صورت حال پیدا ہوتی جا رہی ہے.
نشے کی یہ لت ہمارے خانگی حالات پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی جا رہی ہے, روزانہ کی اچھی خاصی کمائی ہونے کے باوجود ایک نشیڑی باپ اپنے بچے کا اسکول فیس نہیں دے پاتا اور اس کو اٹھوا کر پڑھنے کھیلنے اور کھانے کی عمر میں ہی دہلی وغیرہ بڑے شہروں میں مزدوری کرکے پیسہ کمانے کے لئے بھیج دیتا ہے اور قوم میں جاہلوں بے شعوروں کا اضافہ ہورہا ہے
ایک اور بڑا خاندانی نقصان یہ ہے کہ گھریلو اخراجات میں کوتاہی جیسے معاملات پیدا ہونے سے والدین ،بیوی اور اولاد کو مختلف قسم کی خرابیاں اور ضرر لاحق ہورہے ہیں گھر جہنم بنتا جارہا ہے۔
نشہ آور اشیاء کے استعمال سے جسم اور عقل پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔صحت ،اعصاب،عقل وفکر ،مختلف اعضا ،نظام ِ انہضام وغیرہ خراب ہوجاتے ہیں ,نشہ ان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔سارے بدن کو توڑ دیتا ہے۔
نشہ آدمی کے وقار اور انسانی عزت و حرمت کو خاک میں ملا دیتا ہے ۔نشے کا عادی مذاق کا نشانہ اور مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو کر رہ جا تاہے
نشہ آور اشیا کے استعمال سے ایسی اولاد پیدا ہوتی ہے جو اپاہج اور عقلی طور پر ناقص رہ جاتی ہے۔
نشے کی لت سے قوم کے ہر فرد خاص طور پر نوجوان نسل کو بچانا حالات کا احساس رکھنے والے ہر ہوشمند کی اس وقت اولین ذمہ داری ہے۔
منشیات سے نجات اور اجتناب کی فکر کرنے والے قوم کے دردمندوں کو بنیادی طور پر چند باتیں ذہن نشین رکھنا انتہائی ضروری ہے:
1۔ کسی بھی انسان کو غلط کاموں اور غلط عادتوں سے بچانے کی ذمہ داری سب سے زیادہ کن لوگوں پر ہے؟

2۔ منشیات سے باز رکھنے کی صلاحیت کن عوامل میں پائے جاتے ہیں؟

3۔ انسداد منشیات کی قوت نافذہ کس قسم کے لوگوں کے پاس ہے؟

4۔ منشیات کی لعنت سے سماج کو پاک کرنے کیلئے کیا طریقہ کار ہونا چاہئے؟

5۔ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری اور با شعور انسان ہر فرد کا اس سلسلے میں مستقل کیا فرض ہے؟

(1) جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو یقیناً کسی بھی انسان کے والدین، گارجین، گھر کے بڑے افراد، اور اساتذہ ومربی حضرات پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے، شاگر، اور ماتحت افراد کی اچھی تربیت کریں، غلط صحبتوں سے بچائیں، ہر حوالے سے نیک و بد کی تمیز سکھائیں، نگرانی رکھیں، خیر خواہانہ و حکیمانہ انداز میں روک ٹوک کریں، نیز خود کو اچھی اور مثالی شخصیت کے طور پر ان کے سامنے پیش کریں

(2) منشیات سے باز رکھنے میں سب سے مؤثر عامل اور کارگر سبب دینی ومذہبی تعلیمات ہیں پھر طبی معلومات اور پھر سماجی دباؤ اور افہام و تفہیم

(3) انسداد منشیات کی پوری قوت نافذہ اور بزور طاقت اس کے مکمل خاتمے کی اہلیت حکومت کو حاصل ہے بشرطیکہ وہ نیک نیتی کے ساتھ پابند عہد اور کاربند عمل ہو، کیونکہ حکومتیں جب قوت ارادی سے کام لیتی ہیں تو پولیس، فوج، انٹلی جینس بیورو وغیرہ سبھی طاقتوں کا استعمال کرکے اپنے ہدف تک پہنچ جاتی ہے,حالیہ متعد فیصلے اور قوانین اس کی دلیل کیلئے کافی ہیں

(4) منشیات کی لعنت سے سماج کو پاک کرنے کا طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کہ ہر مذہب کے مذہبی شخصیات اور سماج کے با شعور و ذمہ دار افراد آگے آئیں ۔ شعبۂ طب کے ماہرین کو بھی ساتھ لیں شعراء ادباء سے تعاون لیں اور تقریری و تحریری ذرائع سے منشیات کے خلاف بیداری لائیں اس کے صحت خاندان اور سماج پر برے اثرات سے تفصیلی طور پر آگاہ کریں اور ایسا ماحول پیدا کریں کہ منشیات سے لوگوں میں سخت نفرت پیدا ہو لیکن یاد رہے نفرت منشیات سے ہو اس میں پھنسے انسانوں سے نہیں کیونکہ قابل نفرت تو گناہ ہوتا ہے، نہ کہ گنہگار، اگر ہم نے اس فرق کو نہیں سمجھا، اور اس کا خاص لحاظ نہیں کیا، تو معاملہ پیچیدہ ہو جائے گا، منشیات کو سماج میں پھیلانے والے ذرائع کے خلاف قانونی ادارے، میڈیا، اور شوشل تنظیموں، سے سخت اقدام کرایا جائے

(5) کسی بھی سماج میں منشیات کی حفاظت کیلئے اس کے ہر فرد پر مستقل طور سے یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خود منشیات سے اجتناب کرے اور اپنے عمل اپنی زبان اور اپنے رویے سے منشیات سے نجات کیلئے متحرک رہے

اور ایک مؤثر عمل منشیات کے خاتمے کے لئے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر ایک گاؤں محلہ وارڈ کے اندر کسی میدان میں یا کھلی جگہ یا بڑے ہال یا مدرسہ اسکول عیدگاہ مسجد کے صحن وغیرہ کسی اجتماعی جگہ میں روزانہ مختلف قسم کے ورزش کا اس طرح اہتمام کیا جائے جیسے رمضان میں ہر عمر لوگ افطاری کا اہتمام کرتے ہیں, اس کام کو درست طریقے سے کرنے کے لئے کچھ دن تک کسی ماہرِ ورزش سے استفادہ کیا جائے , ان شاءاللہ پابندی واہتمام سے ورزش میں حصہ لینے والے خود بخود نشے سے دور ہوتے چلے جائیں گے.
آخری بات: اگر نشے کی لت سے نوجوانوں کو نجات نہ دلائی گئ تو وقت آنے پر یہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھہہ جائیں گے نہ ملک وملت کی حفاظت کرسکیں گے نہ اپنی ماں بہنوں کی عزت بچاسکیں گے. پس اے اہل درد آؤ اپنے نوجوانوں اور قوم کو نشے کے دلدل سے باہر نکالیں.

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button