دیوبند

ممتاز مفسر قرآن مولانا نثار احمد کا انتقال،علمی حلقوں کی فضا سوگوار

مولانا کی وفات علمی و دینی حلقے کے لیے بڑا خسارہ ہے: علماء

دیوبند، 21؍ مئی (رضوان سلمانی) جامعہ مظاہر علوم وقف سہارن پور کے سابق استاذ تفسیر وحدیث اور مشہورمفسر قرآن حضرت مولانا نثار احمد کا علالت کے باعث انتقال ہو گیا ہے، ان کے انتقال کی خبر سے علمی حلقوں کی فضا سوگوار ہو گئی۔مرحوم تقریباً 54 سال کے تھے اور گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک بڑے اسپتال میںزیر علاج تھے، جہاں گزشتہ شب تقریباً دو بجے وہ مالکِ حقیقی سے جاملے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ہفتہ کے روز بعد نماز ظہر مظاہر علوم وقف سہارنپور کے ناظم و متولی مولانا محمد سعیدی نے نماز جنازہ اداکرائی، بعد ازیں ہزاروں سوگواروں کے درمیان قبرستان حاجی شاہ کمال سہارن میں تدفین عمل میں آئی۔

ان کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، نائب مہتمم مولانا شکیب قاسمی، شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی،آل انڈیا ملی کونسل کے صدرمولانا حکیم عبداللہ مغیثی،جامعہ رحمت گھگرولی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی،نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی،نامور قلمکار مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی،دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا سلمان بجنوری،قاری محمد یوسف ،مولانا اصغر، قاری ممتاز احمد ،رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن اور جمعیۃ علماء ہند مجلس منتظمہ کے رکن و جامعہ دعوۃالحق معینہ چررہو کے مہتمم مولانا شمشیر قاسمی سمیت نامور علماء اور سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کے انتقال کو عظیم علمی اور ملی خسارہ قرار دیا۔

آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع سہارنپور کے صدر مولانا عبدالمالک مغیثی نے بتایا کہ مرحوم مولانا نثار احمد مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کے خلیفہ اور دارالعلوم الخیریہ سندر پورسہارنپور کے بانی تھے۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ودو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔مرحوم کی علمی، دینی، ملی ،اصلاحی اور فلاحی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع تھے اور ان کا شمارمقبول ترین مفسرین قرآن اور اساتذہ میں ہوتاتھا،وہ طلبہ اور عوام میں یکساں مقبولیت کا درجہ رکھتے تھے۔ان کا انتقال یقینی طور پر علمی حلقہ کا عظیم خسارہ ہے۔مولانا کے انتقال پر عاشق ملت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی وفات علمی و دینی حلقے کے لیے خسارہ عظیم ہے، آپ جیسے ذی علم استاذ کا سایہ بہت بڑی سعادت اور وفات بڑی محرومی اور عظیم نقصان ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو جنت الفردوس کا مکین بنائے، آپ کی تمام حسنات کو قبول فرمائے اور آپ کے لواحقین، پسماندگان اور متوسلین وتلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔مولانا مرحوم کی وفات پر جامعہ رحمت گھگھرولی میں ایک دعائیہ مجلس میں دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کیا گیا۔اس دوران مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ مولاناکا انتقال علمی حلقہ کا عظیم خسارہ ہے۔ادھرجامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے شیخ الحدیث ومدیر مولانامفتی خالدسیف اللہ گنگوہی نے مولانانثاراحمدمظاہری کے سانحہ وفات پر اپنے صدمات کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانانثاراحمدمظاہری تفسیروحدیث کے مقبول استاذ اور سھل نگار خطیب تھے،ان میں علم عمل اخلاق اور تواضع جیسی خصوصیات جمع تھیں جن کے نتیجہ میں وہ اھل علم اوربین الناس قدرکی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

مولانانثاراحمدجیسے کام کے افراد کا ہم سے بچھڑنا دین وملت کیلئے بڑا خسارہ ہے۔ اللہ تعالی مولانا کی بال بال مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبرجمیل نصیب فرمائیں آمین۔ جامعہ اشرف العلوم رشیدی کے استاذ مفتی محمدساجدکْھجناوری نے کہا کہ مولانانثاراحمد مظاہری بیک وقت تدریس تقریر اور تحریر کا اچھا ذوق رکھنے کے ساتھ تفسیر قرآن میں اختصاص کا پہلو رکھتے تھے اور عوامی لب ولہجہ میں ترسیل مواد کی وجہ سے فیضان کا سرچشمہ بنے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں اور اپنا قرب خاص عطا کرے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button