ممبئی

پرامن ماحول کے لئے غیرمسلموں کے ساتھ خوشگوار تعلقات ضروری : قاضی محمدفیاض عالم قاسمی

ممبئی۔ ۳۱؍جنوری: آئیے مسلم پرسنل لاسیکھیں کے عنوان سے سلسلہ وارمحاضرات کاپینتیسواں موضوع مسلم-غیرمسلم تعلقات پر گزشتہ سنیچرکو جناب مولانامفتی محمد فیاض عالم قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ نے کیڈی مسجد ناگپاڑہ ممبئی تفصیلی محاضرہ پیش کیا، جس میں آپ نے کہا کہ ہر انسان کاپیداکرنے والا، اس کا پالنے والا اوراس کی نگرانی کرنے والااللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے، اس لیے اس کے نزدیک ہر انسان برابرہے، اورسب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔چنانچہ نبی کریم ﷺ فرمایا: اے اللہ آپ ہمارے اورہرچیزکے رب ہیں،میں اس بات کاگواہ ہوں کہ آپ کے سارے بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔(ابوداؤد)،قاضی موصوف نے کہاکہ تکثیری معاشرہ میں جہاں ہر مذہب کے ماننے والے موجود ہوں ایک دوسرےسے تعلقات استواررکھنااوران کے ربط میں رہناناگزیر ہے،اس تعلق میں جس قدر استواری ہو گی اسی قدر الفت و محبت اور قربت پیداہوگی ۔معاشرہ میں امن وامان قائم ہوگا،ہر کوئی سکون و اطمینان کی سانس لے گا،ایک دوسرے کے دکھ، درد اور آسائش وراحت میں باہم شرکت کی وجہ سے معاشرہ امن وسلامتی کا گہوارہ بنے گا۔قاضی موصوف نے غیرمسلم کی وضاحت کرتےہوئے کہاکہ غیرمسلم وہ شخص ہے جو اللہ اوراس کے آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے اورنہ ہی قرآن پر اس کاایمان ہو، انھوں نے کہاکہ غیرمسلموں سے تعلقات رکھنےکے لحاظ سے ان کی تین قسمیں ہیں: پہلے ایسے غیرمسلم جن کے ساتھ مسلمانوں کاامن وآشتی اوربقاء ِ باہم کامعاہدہ ہواہو، اورہرایک کی جان ومال دوسرے سے محفوظ ہوں۔دوسرےایسے غیرمسلم کہ مسلمانوں کاان کے ساتھ معاہدہ تو نہ ہواہو، لیکن دونوں کوحکومتی سطح پر امن وامان کا پروانہ ملاہواہے، دونوں کوقانونی طوپریکساں حقوق دئے گئے ہوں، اورقانونی طورپر دونوں کے حقوق ایک دوسرے سےمحفوظ ہوں، ایک دوسرے کی جان ومال سے کھلواڑقانونی طورپر جرم ہو۔تیسرے ایسے غیرمسلم جن سےمعاہدہ نہ ہواہو،اورنہ حکومتی سطح پراورقانونی طورپرایک دوسرے کے مال وجان محفوظ ہوں،اوروہ مسلمانوں سےہمیشہ برسرِپیکارہوں۔مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتےہوں،حتی کہ موقعہ ملے تومارپیٹ اور قتل وغارت گری سے بھی باز نہ آئیں۔قاضی صاحب نے کہاکہ ہندوستان کےہرشہری کوخواہ وہ کسی بھی مذہب کاماننے والاہو،چوں کہ قانونی طورپرجان ومال کاتحفظ حاصل ہے،اورہر ایک نے حکومت سے امن وامان اوربقاء باہم نیز کسی کو جانی ومالی نقصان نہ پہونچانے کاعہد کیاہواہے،اس لیے ہندوستان کےغیرمسلم دوسری قسم میں داخل ہیں،ان کے ساتھ وہ معاملہ اوررویہ اپناناضروری ہے، جو ذمی، معاہد، اورمستامن کے ساتھ اپنایاجاتاہے۔یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا،ہمدردی کرنا، صلہ رحمی کرنا، ا ن کے دکھ درد میں شریک ہونا، ان کے مریضوں کی عیادت کرنا وغیرہ ضروری ہے۔انھوں نے مزیدکہاکہ سماجی زندگی کو پرامن بنانے اورفتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کاحامل انسان کی عزت وآبروکے تحفظ کویقینی بناناہے،کیوں کہ ہر ایک کو اپنی عزت پیاری ہوتی ہے،جب کہ ذلت تلیفا دہ اور نہایت ہی ذہنی کوفت میں مبتلاء کرتی ہے،دوسرے کی برائی کرنا، بدنام کرنا، الزام اوربہتان لگانا،مذاق اڑانا،غیبت کرناوغیرہ گناہ کبیرہ ہیں، ان سے بہت سارے فتنے جنم لیتے ہیں، جھگڑالڑائی اورقتل غارت گری تک کی نوبت پہونچ جاتی ہے۔اس میں مسلم غیرمسلم سب برابرہیں،کسی کی بھی عزت کی نیلامی کرناجائزنہیں، بلکہ عزت واحترام کرناواجب ہے،جس طرح ایک مسلمان کی عزت وآبروکی حفاظت کرناضروری ہے اسی طرح ایک غیرمسلم کی بھی عزت واحترام کرناضروری ہے۔جناب قاضی محمد فیاض عالم قاسمی نے کہاکہ اسلام میں غیرمسلم پڑوسیوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو ایک مسلمان پڑوسی کے ہیں، انھوں نے کہاکہ غیرمسلموں کو ہدیہ وتحائف دینااوران کے حلال ہدیہ وتحائف کو قبول کرنا، انھیں دعوت دینااوران کی دعوت قبول کرنابھی جائزہے۔قاضی صاحب نے کہاکہ جب آیت کریمہ وأنذر عشيرتك الْأَقْرَبين نازل ہوئی آپ نے دعوت ِطعام کااہتمام فرمایااوراپنے رشتہ داروں کو کھانےپرمدعوکیافرمایا،کھاناکھاچکنے کے بعد آپ نے پیغام حق سنایا، اسی طرح آپ نے ایک یہودی کی دعوت قبول فرمائی۔محترم جناب مفتی محمدفیاض عالم قاسمی نے کہاموجودحالات میں غیرمسلموں سے تعلقات استوارکرنااورشریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنا نہایت ہی ضروری ہے،تاکہ ایک پرامن معاشرہ اورپاکیزہ ماحول بنایاجاسکےاورظلم وعدوان اورباہمی نفرت کو ختم کیاجاسکے،قاضی صاحب نے کہاکہ نبی کریم ﷺ اورآپ کے خلفاء نے غیرمسلموں کے تعلق سے گراں قدروصیتیں بھی کی ہیں،اوران کےساتھ ہمدردی وغم گساری کرنےکی مسلمانوں کو تلقین کی ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close