ممبئی

حکومت کےپاس جو ڈیٹا موجود ہے این آر سی کے لئے وہی کافی ہے

ہم بھارت کے پر امن شہری ہیں حکومت وطن سے محبت کا سرٹیفکیٹ نہ مانگے: علماے اہل سنت ممبئی

ممبئ -۷؍جنوری: دن میں گیارہ بجے جامعہ قادریہ اشرفیہ چھوٹا سونا پور ممبئ میں *معین المشائخ حضرت سید معین میاں صاحب قبلہ* کی سرپرستی *قائد ملت الحاج محمد سعید نوری سربراہ رضااکیڈمی* کی قیادت میں جناب پرکاش امبیڈکر صاحب کی علماے اھلسنت وائمہ مساجد کی ایک اھم مٹینگ ھوئی جناب پرکاش امبیڈکر صاحب نے بڑے ہی واضح انداز میں علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ این آر سی، این پی آر سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سارے پچھڑے سماج کے لوگ متاثر ھورہے ھیں بھارت میں 16 سے 21 فیصد لوگوں کے پاس کو ڈاکیومینٹ نہیں ہیں مثلا بنجارہ سماج، مالی سماج، بھٹکی سماج، دھنکر سماج اور تقریبا چالیس ذاتیاں ھیں جن کے پاس کوئی کاغذات نہیں ہیں اور ادیواسی، اوبی سی کا بھی تقریبا یہی حال ھے لہذا گورنمنٹ کے پاس جو ڈیٹا پہلے سے موجود ہے اسی بنیاد پر این آر سی کرے زبردستی نئے کاغذات کے چکر میں جنتا کو لائن میں نہ کھڑا کیاجاے اس لئے کہ بھارت کے لوگ مندی، بے روزگاری اور دو وقت کی روٹی روزی کیلئے پریشان ھے اب ایسے وقت میں لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالیں یا آفس میں لائن لگائیں حضرت معین میاں صاحب نے جناب پرکاش امبیڈکر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ علماے کرام وائمہ مساجد ہیں کہ جب ھندوستان میں ناگفتہ بہ حالات پیدا ھوتے ہیں تو یہی علماے کرام اپنی اپنی مساجد سے ملک میں امن و سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں اور شانتی کی اپیل کرتے ہیں آج یہ علماء خوف و دہشت سے دوچار ھیں لہذا آپ انہیں تسلی دیں کہ اگر حراستی کیمپس میں جانے کی بات آئی تو پہلے پرکاش امبیڈکر جائیں گے اسکے بعد آپ جائیں گے پرکاش امبیڈکر صاحب نے کہا پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں ہے ھمارے دادا ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر صاحب نے دیش کا اتنا مضبوط قانون مرتب کیا ہے کہ کسی کی ماں نے دودھ نہیں پلایا ھے کہ وہ کسی دیش واسی کو باہر نکال سکے قائد ملت جناب الحاج محمد سعید نوری سربراہ رضااکیڈمی نے کہا کہ ملک کا ھر شہری سراپا احتجاج بنا ھوا ھے مگر حکومت کو اپنے کرسی کی پڑی ہے حکومت لگاتار مظلوم مظاہرہ کرنے والوں کی آواز کو دبانے اور ڈرانے کی سازش کررہی ہے کثیر تعداد میں ممبئ عظمی کے علماء وائمہ نے شر کت کیا کرلا، بھانڈپ، ممبرا اندھیری،جوگیشوری، گونڈی دھاراوی اور دیگر علاقوں سے علماء کرام وائمہ مساجد تشریف لاے تھے-

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close