ممبئی

لاک ڈاؤن کےخدشہ کے باعث ممبئی سے لوٹ رہےہیں تارکین وطن مزدور : کمپنیاں نوکری سے نکال رہی ہیں،ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کا ہجوم

ممبئی ، 7اپریل (ہندوستان اردو ٹائمز) کرونا کے ایک سال گزر جانے کے بعد صورتحال ایک بار پھر اسی طرح شروع ہوئی ہے جیسے پچھلے سال تھی۔ ممبئی میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام نے پھر لمبے عرصے کیلئے نافذ لاک ڈاؤن کے خدشہ کا اظہار کردیا ہے لہٰذا ممبئی میں مقیم مزدوروں نے اپنی اپنی ریاست اور شہروں کی طرف لوٹنا شروع کردیئے ہیں ۔ ممبئی کے تمام ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروںکی بھیڑ ہے۔ ٹرین کے ٹکٹ کے لئے لمبی لمبی قطاریں ہیں۔ بھونڈی اور تھانہ میں حالات ابتر ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں نے لاک ڈاؤن کے خوف سے ملازمین کوبھی نوکری سے ہٹانا شروع کردیا ہے ۔

ممبئی کے لوکمانیہ تلک ٹرمنل اسٹیشن میں اتوار سے ہر روزبیرون ریاست کے مزدوروں کا بہت بڑا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لوگ یہاں اپنے سامان اور کنبے کے ساتھ ہیں۔ ٹکٹ کی کھڑکیوں پر لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں۔ یوپی کے رہائشی ممبئی کے دھاراوی میں کنٹریکٹ ہیلتھ ورکر کی حیثیت سے کام کرنے والے نعمان فاروقی کے مطابق گزشتہ بار جس طرح حکومت نے اچانک لاک ڈاؤن لگا کر ہمیں پریشانی میں ڈال دیا ، لوگوں کو پولیس کے ڈنڈے کھانے پڑے تھے، ایسی صورتحال سے دوبارہ ہمیں سامنانہ کرنا پڑے ، ا س لئے ہم اپنے گاؤں واپس جارہے ہیں۔یوپی کے باندہ کا رہائشی راجیش پریہار کئی سالوں سے ممبئی میں سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔لاک ڈاؤن کے خوف سے کمپنی نے ایک ہفتہ قبل اسے نوکری سے فارغ کردیا ۔ گھر واپس جانے کے لئے ان کے پاس اتنی رقم نہیں تھی، کسی طرح گھر سے پیسے منگواکر وہ گھر لوٹ رہاہے ۔

راجیش نے بتایا کہ صورتحال معمول کے ہونے کے بعد میں یہاں لوٹ آیا تھا۔ ملازمت چھو ٹنے کے بعد میرے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا کہ کھانا بھی کھا سکوں ، میں کسی طرح گھر لوٹ رہا ہوں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تارکین وطن مزدور اترپردیش اور بہار سے آتے ہیں ، جو ممبئی اور دہلی میں سب سے زیادہ ہوا کرتے ہیں ، اس کے بعد مدھیہ پردیش ، اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے علاوہ دیگر ریاستوں آئے ہوئے مزدورہیں ۔پچھلے سال مارچ میں ممبئی میں کام کرنے والے لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کو ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ، جس کی وجہ سے لاکھوں مزدور کو ممبئی سے اتر پردیش ، بہار ، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈجیسی آبائی ریاست لوٹنا پڑا تھا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close