ممبئی

ایک سورج جوغروب ہوگیا : امیر شریعت،وجنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب ؒ دارفانی سے داربقاکی طرف

ممبئی (ہندوستان اردو ٹائمز) اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں ارشادفرمایا’’ کل نفس ذائقۃ الموت ‘‘ موت ہی ایک ایسی ناقابل انکارحقیقت ہےکہ جس کا مزہ ہر ذی روح کو چھکنا ہے ،آج ان کی توکل ہماری باری ہے ’’کل من علیھافان ‘‘جس کی شہادت دیتی ہے
آسماں سے موت کیسے آئےگی سوچاہی تھا
اک پرندہ جھیل سے مچھلی اٹھاکرلےگیا

آہ ! صدآہ ! کہ کل جنہیں مدظلہ العالی کہاکرتےتھے آج ان کو رحمۃ اللہ علیہ کہنا پڑرہاہےا مت اسلامیہ کی عظیم قابل قدرشخصیت دینی وعلمی سرمایہ حضرت مولاناسیدمحمدولی رحمانی صاحب ؒ کے انتقال کی خبر جب کانوں میں پڑی تو ہرایک کیلئےبجلی بن کرگری جس نے ذہنی وفکری قوتوں کوجلاکررکھ دیا حضرت کی طبیعت چندایام سے ناسازتھی علاج ومعالجہ جاری تھا لیکن قدرت کافیصلہ کچھ اورتھا مگریہ حقیقت ہےکہ کچھ لوگ ایسے دنیامیں آتےہیں وہ اپنی ابتدائی زندگی سےہی بڑے ہونہار اورلوگوں کی توجہات کامرکز بن جاتےہیں ، ان کی خدادادصلاحیتوں کی وجہ سے ان کی ذات کے ساتھ لگائی گئی امیدوں کوپوراکرتےہیں ،ایسے ہی خوش قسمت انسان تھے امیرشریعت عالم وخادم دین حضرت ؒ ؒ جن کی ذات ہر خاص وعام کی امیدوں کامرکز تھی اورہم جیسے بےنظم اوربے ربط زندگی سے تھکے ماندے بھی یہ امیدلگائے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے خوابوں اورخاکوں کی تعبیر اور تکمیل کریں گے کسے معلوم تھاکہ وہ اپنی زندگی کے ماہ وسال پورے کرکے ایسے دوڑتےبھاگتے اچانک راہ بدل کر موت کے دریاسےپارہوکر اس سجن المومن دنیا کوخیرباد کہہ کر اپنے رب کے حضور اپنی خدمات کاملہ کابدلہ لینے اس کی جواررحمت میں چلےجائیں گے مگر قضاءوقدر کافیصلہ اپناکام کرتارہا اوروہ ہم سبھی کی آرزئووں اورارمانوں کوخیرباد کہہ کر اپنی زندگی کے اس میدان جہادمیں دین اور علم دین کی خدمات کرتےہوئے اچانک چندروز کے بخار کے عارضہ میں مبتلا رہ کر عالم آخرت کوکوچ کرگئے انا للہ واناالیہ راجعون
بدلا ہوا ہے رنگ گلوں کا تیرے بغیر
کچھ خاک سی اڑی ہوئی سارےچمن میں ہے
حضرتؒ کے سامنے ملت اسلامیہ کی مجموعی وبنیادی مصلحت اوران کی وحدت واتفاق کی اہمیت برابر رہتی تھی ،حضرت ؒ ان سب کاموں کیلئے کوشاں رہتے تھے اوران میں اپنی عقلی وعملی توانائیاں صرف کرتےتھے جس کاتذکر ہ آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مرشد الامۃ حضرت مولاناسید محمدرابع صاحب حسنی دامت برکاتہم نے اپنےتعزیتی پیغام میں فرمایا۔
یقیناوہ آج اپنے ملک وقوم اپنی ملت اوراپنے قدردانوں سے جداہوگئے لیکن اپنے پیچھے اپنے کاموں اوراپنی خصوصیات وصفات کے روشن نقوش چھوڑگئے جن کوقائم رکھنا اوربڑھانا ان کے قدردانوں کی ذمہ داری ہے اوراس ذمہ داری کوپوراکرنےمیں ہماری اجتماعی وانفرادی بھلائی مضمرہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضر ت صفات عالیہ کےجوہر،رحم دل ،رحم کاپیکر، سخاوت کے بادشاہ،حق گو ،حق شناس، اللہ کے مقرب ،اس کے عزیز،علم و آگہی ،زہدوتقوی، معرفت وللہیت، ایثاروتواضع کاپیکر تھے قرآن وحدیث سے اشتغال کے اثرات آپ کی پوری زندگی میں دیکھے جاسکتے ہیں ،آپ کی بے ریازندگی ،صلح پسندی ،تقوی وطہارت کودیکھ کر بلاشبہ یہ کہناپڑتاہے کہ آپ کی زندگی قرآن کی برکتوں کی خوشبوسے مشکبارتھی ۔
حضرتؒ 1974 سے 1996 تک بہار قانون ساز کونسل کے ارکان کی حیثیت سے خدمات انجام دیںآپ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ۱۹۹۹کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے موجودہ سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست تھے ، آپ کے دادا مولانا محمد علی مونگیری بانی ندوۃ العلماء ہیں۔ اس خانقاہ کے روحانی سلسلہ میں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی بہت ہی اہم کڑی ہیں۔آپ آخری سانس تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیتےرہے ،رحمانی 30 کے بانی بھی تھے ، وہ پلیٹ فارم جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے ،اس ادارے سے ہر سال NEET اور JEE میں ۱۰۰سے زائد طلبہ منتخب ہوتے ہیں۔ حضرتؒ عوامی تقریر ، اپنی شخصیت و ملی مسائل میں جرأت صاف گوئی و بےباکی اور دونوں ہی شعبوں میں تعلیم کے لیے جانےجاتھےحضرت ؒ کا ماننا تھا کہ کسی کو ایک وقت میں دونوں طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور کسی بھی چیز سے پہلے انسان کو انسان ہی ہونا چاہیے۔
اللہ رب العزت سے دعاہےکہ اللہ حضرت ؒ کواپنے شایان شان جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں ،اورحضرت کے جانشین وارثین کےقلوب کو صبر عطافرما کر ان کو مسرت وشادمانی نصیب فرما۔آمین
شریک غم ! مولانا نوشاداحمد صدیقی
صدر ! جامعہ عربیہ منہاج السنہ وامام الہندفائونڈیشن ممبئی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close