ممبئی

اصلاح معاشرہ پرجمعیۃ علماء مہاراشٹر کا اہم اجلاس ، معاشرہ کی بگڑی ہوئی صورتحال پر اظہار تشویش ،اصلاح کے لئے چندامور پر علماء کرام کا اظہار خیال

ممبئی 21جنوری(آئی این ایس انڈیا) صابو صدیق مسافر خانہ ،ممبئی میں مولانا حافظ مسعود احمد حسامی نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ناگپور) کی صدارت میں ایک اجلاس کا انعقاد ہوا۔حضرت مولانا محمد اسلم صاحب صدر جمعیۃعلماء شمال مغربی زون ،ممبئی ملاڈ کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔وہ چند موضوعات جو اجلاس میں موجود علماء کرام کی فکر کا محور رہے وہ کچھ اس طرح تھے۔حقوق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ انحطاط کا شکار ہورہا ہے ۔ہمارا باہمی تعلق ادائے حقوق میں کوتاہی کے سبب کمزور پڑتا جارہا ہے ۔ایک منظم سازش کے تحت ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔منشیات کے استعمال کی عادت ہمارے نوجوانوں میں ڈالی جارہی ہے ،تاکہ ان کی تمام تر صلاحیتیںا ور طاقتیں بے کار ہوجائیں ۔ اور اب ایک اور نیا فتنہ (فتنہ ارتداد)بہت تیزی سے مسلم معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے کہ کچھ ناقبت اندیش مسلم لڑکے اور لڑکیاں مذہب اسلام ہی کو خیر باد کہہ کر غیروں کا دامن تھام رہے ہیں ۔موجودہ وقت کے یہ وہ سلگتے مسائل تھے جو اجلاس میں زیر بحث رہے۔اس حساس موضوع پر جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے ضلعی و مقامی صدور و نظماء اعلیٰ اور رفقاء کار کا تبادلہ خیال ہوا ۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر نے اپنے ابتدائی کلمات میں فرمایا کہ معاشرہ افراد کے مجموعہ سے تشکیل پاتا ہے ۔لو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ،رشتوں کے اپنے تقاضے اور حقوق ہوتے ہیں ،ان حقوق کی ادائیگی اگر ہوتی رہے تو اصلاح معاشرہ ہے اور اگر ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو تو فساد معاشرہ ہے۔مولانا نے فرمایا کہ ہم اپنا اور اپنے معاشرہ کا احتساب کریں ،اور جو خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں اور دن بدن بڑھتی جارہی ہیں ان کی اصلاح کریں ۔ اصلاح معاشرہ صرف نکاح، طلاق، جہیز اور رسم و رواج ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرہ اور اس سے جڑے ہوئے سارے مسائل کا حل اصلاح معاشرہ ہے ۔ مہمان خصوصی مفتی عبد القیوم منصوری (احمد آباد گجرات ) نے حاضرین سے خطاب کے دوران فرمایا کہ ارتداد کا فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ،اس کی روک تھام کے لئے ہمیں حکمت اور مصلحت سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ اس معاملہ سے جڑے بہت سارے افراد کی عزت نفس کا مسئلہ ہوتا ہے۔اس لئے اس کام کی نزاکت اور اس کے خطرات کو سمجھتے ہوئے انتہائی راز داری اور احتیاط سے کام کیا جائے۔مفتی صاحب نے مزید کہا کہ اب اصلاح معاشرہ کے ہفتہ واری ،ماہانہ یا ضلعی پروگرام سے ارتدادی سیلاب کو روکا نہیں جاسکتا ۔اس کے لئے ہمیں پورے طور سے منظم ہونا پڑے گا ۔اور یہ کام ہمیں مسلسل کرنا پڑے گا۔ اور اس کام کو مسجد وارطریقہ پر کرنا ہوگا ۔ جس شہر میں ہماری یونٹ قائم ہے اس شہر کے ہر محلے میں ہماری اصلاح معاشرہ کمیٹی ہو اور اس کے ذمہ دار ہوں ، اور اس محلے کے جملہ گھروں پر ان کی نظر ہو اور جس طرح جماعت کا کام چلتا ہے اسی طرح مسجد وار کمیٹی رہے ، محلہ کا جائزہ لے کر کے یہ کمیٹی جو مسائل ہیں اس پر غور کرے ۔ ہر طبقہ کو جوڑ کر اس کام کی نزاکت اور اس کی خطرناکی کا احساس دلائے۔مفتی محمد اسماعیل قاسمی مالیگائوں نے بھی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بنیادی بات جو ہمارے سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ہم میدان عمل میںتنہابھی اتریں گے تو بھی رفقاء کاراور معاونین اللہ پاک ہمیں فراہم کردیںگے ۔تمام تر بگاڑ کے باوجود ایک بے نمازی شخص اس بات کی فکر میں ہوتا ہے کہ اس کے بچے اور اس کی اولاد بہتر اور اچھے مستقبل پائیں ۔ سماج کے ایسے لوگ جو صوم و صلاۃ کے پابند نہیں ہوتے وہ بھی ایسی برائیوں(ارتداد) پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں ۔اس کے لئے سب سے مؤثر اور کار گر طریقہ ہے کہ تمام مسجدوں میں اصلاحی کمیٹی بنائیں ،ہر جگہ ،ہر مسجد سے کام کرنے والوں کو منتخب کریں۔ آخر میںمفتی محمدیوسف قاسمی (ناظم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء مہاراشٹر)کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close