ممبئی

کرونا وائرس کے پیش نظر اپنے گھروں میں نمازیں ادا کرنے کی درخواست! از: سید نصراللہ حسینی سہیل ندوی نقیب امارت شرعیہ جالنہ

جالنہ (شیخ احمد جالنوی ) کرونا وائرس کی مہلک وباسے پوری دنیا اس کے لپیٹ میں ہے اس سے بچنے کے لئے حکومتیں مختلف قسم احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہیں اسی ذیل میں حکومت ہند نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے اور عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،اسی بنیاد پرمساجد میں نماز کے لیے زیادہ تعداد میں آنے سے روکا جارہا ہے یہ عمل مجبوراً ہورہاہے، لیکن اس کے باوجودہمارے بہت سے مسلمان بھائی اس معاملے میں شکایت کررہے ہیں، اورایک ہجوم و جھنڈ ہے جو مساجد کی جانب دوڑتا آرہا ہے،(یہ اچھی بات ہے) ان حالات میں ہمارے ایمان اور خدا تعالیٰ سے تعلق کا تقاضا ہے کہ ایسی صورتحال میں ہم اپنے گھروں میں نمازوں اور دیگر اعمال دینی کو پوری تندہی سے انجام دیں، اور اپنے مکانوں کو مساجد بنادیں، اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کو ہمارے لئے مسجد بنادیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ” قال صلى الله عليه وسلم: «أعطيت خمسا لم يعطهن نبي قبلي، نصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الأرض مسجداً وطهوراً، فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل، وأحلت لي الغنائم ولم تحل لأحد قبلي، وأعطيت الشفاعة، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى الناس عامة»، وفي رواية: «جعلت لي الأرض كلها مسجداً وطهوراً».(بخاری) یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصائص میں سے ہے کہ اللہ ربّ العزت نے پوری زمین کو مسجد بنادیا،
بنی اسرائیل کو جب مساجد میں عبادت کرنے سے روکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا ” اجعلوا بیوتکم قبلۃ”(القرآن) یعنی تم اپنے گھروں کو مساجد بنادو، مطلب یہ کہ اپنے گھروں کو اعمال مساجد سے معمور کرو،
اگر ہم حکومت کے احتیاطی تدابیر کے خلاف ورزی کرتے ہیں اور مسجدوں میں ہی بڑی تعداد میں نمازیں ادا کرتے ہیں اور خدا نخواستہ یہ بیماری طول پکڑتی ہے اور زیادہ پھیلتی ہے تو مسلمانوں پر یہ الزام آئے گا کہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ یہ ہوا،
ہمارے گھر ایک عرصے سے عبادات و اسلامی اعمال سے خالی تھے اور کن چیزوں سے آباد تھے ہم ان سے واقف ہیں، موجودہ حالات میں انشاءاللہ ہم جب نمازوں، تلاوت قرآن، اذکار مسنونہ اور دعاؤں سے آباد کریں گے تو ہمارے بچوں میں بھی یہ تمام باتیں منتقل ہوں گی، نیز ہماری عبادتیں شعوری و اختیاری ھوں گی جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے،
نیز ہمارے وہ تمام پروٹیسٹ اور احتجاجات اور دھرنوں کو وقتی طور پر مؤخر کرنا چاہیے، ہم اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہورہے ہیں بلکہ موجود سچویشن صاف ہوجانے کے بعد(خدا کرے وہ جلد ختم ہو جائے) ہم دوبارہ پوری قوت کے ساتھ یہ عمل جاری رکھ سکتے ہیں،
بعض دفعہ حالات جو طاری ہوتے ہیں ان میں اللہ ربّ العزت کی حکمتیں پوشیدہ ھوتی ھیں وہاں تک ہماری رسائی مشکل ہوتی ہے، لہذا ان حالات میں جو صورتحال بنتی ہے اسے خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنا یہ مومن ہونے کا تقاضا ہے،
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ موجودہ تشویشناک صورتحال و آزمائش کو جلد از جلد ختم فرمائے اور اس وبا و بلا سے سب کو محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین،

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close