مضامین و مقالات

ملت سے کچھ باتیں ان کی تر جیحات کے حوالے سے ( ۶ ) موجودہ جمہوریت اور ہماری سیاسی جدو جہد : فتح محمد ندوی

موجودہ جمہوریت اور ہماری سیاسی جدو جہد
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا کا جمہوری نظام اسلام کے جمہوری نظام سے نہ صرف با لکل الگ ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں یعنی اسلام کی جو اصولی جمہوری صورت ہے دنیا میں رائج اس وقت عملی جمہوری نظام اپنی کچھ بھیانک صورت اور شکل کے اعتبار سے اسلام کے نظر یہ سیاست اور جمہوریت سے اس کا کوئی وا سطہ اور تعلق نہیں۔ قیوم نظامی لکھتے ہیں اقبال نے’’ اس موجودہ جمہوری نظام کو شیطا نی جمہوریت دیو استبداد قرا ر دیا تھا اپنی مشہور زمانہ نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ میں تحریر کیا ہے کہ جب آدم خود نگر اور خود شناس ہونے لگا تو سرمایہ داروں نے ملوکیت کو جمہوری لبا س پہنادیا ‘‘بہ قول اقبا ل :
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر
اس جدید جمہوریت کی بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں عوام حا کمیت کا درجہ رکھتی ہے جبکہ اصل حا کمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ اس جدید جمہوریت کے حوالے سے عوام کسی بھی شخص کو اکثر یت دیکر اپنا نما ئندہ بنا سکتی ہے ۔ پھر وہ نمائندہ شخص اپنی اکثریت کی بنیاد پر نہ کہ
قا بلیت اور اہلیت کی بنیاد پر بہت سے معا ملات میں من مانی کر سکتا ہے بلکہ اختیارات کا غلط استعمال بھی کر سکتا ہے ۔ جدید مسا ئل کا حل نا می مشہور کتا ب میں ایک فتویٰ درج ہے ۔ موجو دہ مغربی جمہور یت کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تھا ۔ اس کا جواب تھا کہ اسلام میںمغربی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں اس میں متعدد گروہ کا وجود (حزب اقتدار اور حزب ا ختلاف ) ضروری ہے جبکہ قرآن اس تصور کی نفی کر تا ہے ۔ وا عتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا ۔ اس میں تمام فیصلے کثرت را ئے سے ہوتے ہیں جب کہ قرآن اس انداز فکر کی بیخ کنی کر تا ہے۔ وان تطع اکثر من فی ا لارض یضلوک عن سبیل اللہ ۔ ا لا نعام : ۱۱۶ / یہ غیر فطری نظام یوروپ سے درآمد ہوا ہے جس میں سروں کو گنا جا تا ہے تو لا نہیں جاتا اس میں مرد و عورت ، پیر و جوا ں ، عامی و عالم بلکہ دانا و ناداں سب ایک ہی بھاؤ تلتے ہیں‘‘۔ ( جدید مسائل کا حل ص ۵۶۲ / مرتب اشرفیہ مجلس علم و تحقیق)
جمہوری نظام میں ایسا ہزاروں بار ہوا ہے کہ اکثریت نے من مانی کر کے ایسے انسا نیت اور حیا سوز قا نون پاس کر ا ئے جن ہو ں نے پورے اخلاقی اور سماجی نظام کو در ہم برہم کر کے رکھ دیا، انسانوں کی جا ن و مال عزت و آبرو آدمیت اور احترام آدمیت سب کا جنازہ نکال دیا ۔ شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صا حب اس موجودہ جمہوری نظام کے مکروہ چہرے کے نقا ئص اور جرائم پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’ اس جمہوریت کے مبینہ مقا صد میں کہیں بھی آپ یہ نہیں پائیں گے کہ خیر کو پھیلا یا جائے گا اور شر کو رو کا جائے گا ، اچھائی کو فر و غ دیا جائیگا اور برائی کو رو کا جا ئیگا ۔ یہ اس لئے نہیں کہتے کہ اول تو اچھائی اور برائی کا کوئی ابدی دائمی معیار ان کے پاس نہیں ہے کہ فلاں چیز اچھی اور فلاں چیز بری ہے ۔ بلکہ اب تازہ ترین فلسفہ یہ ہے کہ خیر اور شر کوئی چیز نہیں ہے دنیا میں ساری چیزیں اضا فی ہیں ، ایک زمانے میں ایک چیز خیر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ شر ہے ، ایک زمانے میں ایک چیز شر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ خیر ہے اور ایک ملک میں خیر ہے ، دوسرے میں شر ہے، ایک ما حول میں خیر ہے اور دوسرے ماحول میں شر ہے۔ یہ اضافی چیزیں ہیں ان کا کوئی اپنا وجود نہیں ہے بلکہ خیر و شر کے پیمانے ماحول کے زیر اثر متعین ہوتے ہیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب سے سیکولر جمہوریت کا رواج ہوا ہے اسی وقت سے مٖغرب میں اخلا قی بے راہ روی اور جنسی بے راہ روی کا طوفان اٹھا ہے جب تک جمہوریت وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ یا تو بادشاہتیں تھیں یا عیسائی تھیوکریسی تھی اس وقت تک اخلاقی بے راہ روی کا وہ طوفان نہیں اٹھا تھاجو جمہوریت کے بر سر کار ہونے کے بعد یوروپ میں اٹھا ہے ۔حا لت یہ ہے کہ کوئی بد سے بد تر کام ایسا نہیں جس کو آج آزادی کے نام پر سند جواز نہ دی گئی ہو یا کم از کم اس کا مطالبہ نہ کیا جا رہا ہو ، کیوں کہ جمہوریت نہ کسی اخلاقی قدر کی پابند ہے ، نہ کسی آسمانی ہدایت سے فیض یاب ہے بلکہ عوام کی اپنی مرضی اور خوا ہشات پر سارا دار و مدار ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ برطانیہ کی پا رلیمنٹ نے ہم جنس پر ستی کو سند جواز دی اور اس کے جواز کا قا نون تالیوں کی گونج میں منظور کیااور اس کے بعد یوروپ کے بعض ممالک میں ہم جنس شا دیوں کو قا نونی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ جس وقت بر طانیہ کی پا ر لیمنٹ میں یہ بل پیش ہوا تو سب لوگ اس کے حامی نہیں تھے اختلاف رائے موجود تھا ۔ اس ختلاف رائے کو دور کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی رپور ٹ کا خلا صہ یہ ہے کہ ہم جنس پر ستی ایک برائی ہے ، لیکن ہماری دشواری یہ ہے کہ ہم نے اپنے پروگرام کو اچھائی یا برائی پر تعمیر نہیں کیا ہے بلکہ اس بنیاد پر تعمیر کیا ہے کہ افراد اپنے قانون طے کر نے کے لئے آزاد ہیں اور جب ہم نے یہ اصول تسلیم کر لیا تو قا نون کا دائرہ کا ر اخلاق کے دائرہ کار سے با لکل الگ ہو گیا ہے قا نون اور چیز ہے اور اخلاق اور چیز ہے ۔ ا خلاق انسا ن کا ذاتی معاملہ ہے اور قانون رائے عا مہ کا مظہر ہے آزادی کا مظہر ہے ۔ لہٰذا جب تک
معا شرے میں کوئی ایسی کوشش نہیں کی جاتی جو بد اخلاقی یا گناہ کو جرم کے مساوی قرار دے دے تو اخلاق اور قانون کا دائرہ کار الگ رہے گا اور یہ قا نو ن کا کام نہیں کہ وہ خیر اور شرکا فیصلہ کرے کہ کونسی چیز اچھی ہے اور کونسی چیز بری ہے ۔لہٰذا ہم اس قانون کی حمایت میں رائے دینے پر مجبور ہیں جب رائے عامہ اس کے جواز کی طرف جاری ہے تو ہم اس پر یہ رائے دیں گے کہ یہ قا نون بنا دیا جائے چنا ں چہ اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر برطانیہ کے دا ر لعوام نے یہ فیصلہ کردیا کہ ہم جنس پرستی قا نو ناً جائز ہے اور جب برطانیہ نے یہ قانون بنایا تو امریکہ نے بھی بنایااور اب یوروپ اور امریکہ میں ان کی با قاعدہ جما عتیں قائم ہیں ۔ سرعام یہ لوگ اپنے آپ کو gay کہتے ہیں اور عورتیں lesbian کہلاتی ہیں‘‘ ۔اسلام اور سیا سی نظریا ت مفتی تقی عثمانی/ ۱۴۹/
حاصل خلاصہ یہ ہے کہ اس جدید مغربی جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ دو متضاد جنس ہیں جو جمع نہیں ہو سکتی۔دراصل یوروپ اور مغرب نے اپنے مفاد کی خا طر اس چنگیزی سیا ست کا سہارا تلاش کر کے اس کو عوامی جمہوریت کا نام دید یا ۔اس کے پس پشت امریکہ اور یورپ نے انسانی حقوق اور تحفظ نام پر انسانیت کا خون بہایا ہے۔ یوروپ نے اپنے منا فقانہ نعروں سے دنیا کو غلامی ، دہشت گردی اور بد امنی اور بے اطمینانی اور استعمار کے بد ترین تحفے پیش کئے ہیں ۔ اپنے مزید مذموم مقا صد کی تکمیل کے لئے اسلامی دنیا میں اس تعفن زدہ نظام کو زبر د ستی تھو پنے کے لئے ہر ممکن حربے اور طاقت کا استعما ل کیا ہے ۔تاکہ پوری اسلامی دنیا اسلام نظام سیاست اور جمہوریت سے بیزار ہوجائے۔افغا نستان سے لیکر عراق بلکہ پوری دنیا میں بد امنی اور ظلم و جبر کا جو بازار گرم ہے سب اس شیطانی اور دیواستبدادی نظام
جمہو ر یت اور سیاست کا نتیجہ ہے ۔
یہاں یہ بات بھی کسی کے ذہن اور خیال میں آسکتی ہے بلکہ کوئی بھی اعتراض کر سکتا ہے کہ آخر اس طرز جمہوریت کو اپنا نے کی ضرورت کیا تھی جبکہ یہ اسلام کے نظریہ سیاست اور جمہوریت سے ٹکراتی ہے ۔ در اصل ہندوستان کے حالات اور ماحول میں ہمارے اکابر نے اس وادی میں با دل نخواستہ قدم رکھا یعنی عوامی سطح پر ہندوستان کی جمہوریت اور یہاں کے سیاسی اور جمہوری نظام میں اشتراک اور شمولیت کے ساتھ جد و جہد کا فیصلہ ۔ تاہم یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ ہندوستان کا معاملہ دیگر جمہوری ملکوں کے مقابلے میں مسلم اقلیت کے حوالے سے الگ ہے۔ اس لئے ہمارے لئے دیگر نظاموں کے مقابلے میں بحالت مجبوری یہ بہتر نظام ہے۔البتہ ہم اس کا مقابلہ اپنے ووٹ کی طاقت اور جہد مسلسل سے کر سکتے ہیں ۔ عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا زاہد الراشدی صا حب لکھتے ہیں۔ سیا سی جد و جہد حضرت شیخ الھند کے دور سے ہماری دینی محنت کا نا گزیر حصہ چلی آرہی ہے ہم نے اس کے ذریعہ بہت کچھ حا صل کیا ہے اور بہت کچھ بچا یا اور اب بھی دینی جد وجہد میں پیش رفت اور اسلام دشمن رجحانات کی روک تھا م کے لئے یہی را ستہ سب سے مو ثر ہے ۔ دوسری اہم بات جن لوگوں نے اس طرز حکومت کو اپنا یا ہے وہ پنے علم اور فہم و فراست کے اعتبار سے بڑے مرتبہ پر فائز تھے۔ جا ری

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close