کالم

مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی حیات وخدمات : محمد سلمان ندوی

زیر نظر کتاب”مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی حیات وخدمات”ڈاکٹر حبیب اللہ منصور کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔جوانھوں نے ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی(اسسٹنٹ پروفیسر عالیہ یونیورسٹی کولکتہ) کے زیر نگرانی تیار کیا ہے۔جس پر انہیں عالیہ یونیورسٹی نے2020میں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی ہے۔افادہ عام کے لیے مرکزی پبلی کیشنز دہلی نے2021میں اسے شایع کیا ہے۔کل صفحات 314ہیں ۔محقق نےمقدمہ خود سے تحریر کیا ہے،پشت پر ان کا تعارف درج ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر حبیب اللہ منصور مغربی بنگال کے ضلع مالدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن اور عالم وفاضل بھی ہیں۔اس لحاظ سے وہ اپنے ہم عصروں میں جنہوں نے صرف عصری علوم حاصل کیا ہے فایق نظر آتے ہیں۔دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کے حصول نے حبیب اللہ منصور کو فکری اور علمی اعتبار سے دوآتشہ کردیا ہے اور اس میں وہ حقیقتاً حبیب اللہ اور منصور نظر آتے ہیں۔انھوں نے مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی مرتب فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ومفتی دارالعلوم کی حیات وخدمات اور احوال و آثار کواپنا موضوع مقالہ بنایا ہے،گرچہ اس سے قبل مفتی صاحب کی حیات وخدمات پرخود ان کی خودنوشت سوانح حیات”علمی زندگی کا سفر”شایع ہوکر مقبول ومعروف ہوچکی ہے،اورسانحہ وفات کے بعد ڈاکٹر سعود عالم قاسمی(سابق ناظم دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کی مرتبہ کتاب”حیات ظفیر”اورمولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی(مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف) کی مرتبہ کتاب "فقیہ عصرمیرکارواں”طبقہ اہل علم ودانش میں پذیرائی حاصل کرچکی ہے ۔یہ کتاب بھی اسی کی ایک سنہری کڑی ہے ۔ کتاب محقق کے پیش گفتار سے شروع ہوتی ہے۔مصنف نے کتاب کا انتساب اپنے والدین اور مرحوم چچا کے نام کیا ہے جن کی تربیت،شفقت،محبت اور دعا زندگی کے ہر موڑ پر مشعل راہ بنی ہے۔محقق نےکتاب کوچھے ابواب میں تقسیم کیا ہے،جن کے عناوین کچھ یوں ہیں۔باب اول: پیدائش سے وفات تک،باب دوم: تعلیم و تربیت،اخلاق وعادت،باب سوم: معاصرین کی نگاہ میں،باب چہارم: علمی و تدریسی خدمات،باب پنجم:تصنیفی خدمات،باب ششم: علمی اسفاروغیرہ۔اورہرباب کے زیر تحت متعدد ذیلی عناوین ہیں جس میں محقق نے خوب داد تحقیق دی ہے۔موضوع انتخاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے وہ رقم طراز ہیں کہ:”جب میں نے عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا تو اس وقت بہت سے موضوعات ذہن میں تھے،لیکن میرے استاذ مکرم ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی (اسسٹنٹ پروفیسر عالیہ یونیورسٹی) نےمیرا تعارف مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی صاحب (١٩٢٦-٢٠١١ع) سے کرایا،میں نے سوچامفتی محمد ظفیر الدین صاحب کون ہیں کیا ہے ان کی شخصیت؟کہ استاذ محترم ان کی حیات وخدمات پر ریسرچ کرنے کے لیے بول رہے ہیں؛مجھے تعجب ہوا تھا۔استاذ مکرم بھی میری اس کیفیت کو دیکھ کر سمجھ گئے تھے،تو انھوں نے مجھے اہل علم کے مضامین کا ایک مجموعہ ہاتھ میں تھمادیا،جومفتی صاحب کے سلسلہ میں لکھا گیا ہے اور پروفیسر محمد سعود عالم صاحب قاسمی نے اس کو ترتیب دیا ہے۔اسے میں نے پہلے مطالعہ کیا تو میں سمجھ گیا کہ سر کیوں ان پر ریسرچ کرنے کے لیے مشورہ دے رہے تھے،ان کی شخصیت کویی معمولی نہیں ہے،مفتی صاحب نے اپنی زندگی کا سفر ایک معمولی گھرانہ سے ایک طالب علم کی حیثیت سے شروع کیا اور شب وروز کی محنت سے غیر معمولی ترقی کرتے ہوۓ فضل و کمال کے بلند مقام تک پہنچے،آخر انھوں نے دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی کے منصب عظیم پر فائز رہ کر قوم وملت کی رہنمائی کی۔مفتی صاحب نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ جس طرح دین اور علم دین کی خدمت کے لیے صرف کیا اور تلامذہ کے علاوہ تصنیفات کا بڑا عظیم علمی سرمایہ چھوڑا ہے وہ ان کی جلالت علمی کے لیے کافی ہے۔اب میں نے یہ طے کرلیا کہ ان کی حیات وخدمات پر ریسرچ کرنا ہے تاکہ نئی نسل کے لیے یہ نمونہ بن سکے”.(ص:١٣’١٤) حقیقت میں اس کے لیے محقق نے خوب سیاحت اور صحرا نوردی کی،تب جاکر انھیں گوہرمرادو مقصود ہاتھ آیا۔اس مرحلہ شوق کوانھوں نے کس طرح طے کیا اور سمندشوق انھیں کہاں کہاں لے کر گیا،اس کی رودادان کی زبان سے ہی سنیے،وہ لکھتے ہیں:”مفتی صاحب کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لیے دارالعلوم دیوبند،فقہ اکیڈمی دہلی اور علی گڑھ کا بھی سفر کیا،ان کے آبائی وطن پورہ نوڈیہادربھنگہ بھی بارہا حاضر ہوا،اورمفتی صاحب کی جتنی کتابیں ملیں اسے پڑھ ڈالا،مزید جاننے کے لیے ان کے صاحبزادوں،شاگردوں اور ہم عصروں سے رابطہ کیا۔درحقیقت مفتی صاحب کی شخصیت میں کافی گہرائی ہے،اس گہرائی تک جانے کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی،جو بھی کتابیں ان سےReletedجہاں ملی اسے پڑھتا گیا اور اس مقالہ میں، اس کو حتی الامکان شامل کرنے کی جدو جہد کی ہے”(ص:١٤,١٦) یہ بات کتاب کے ہر ورق سے عیاں ہے۔آییےذرا مفتی صاحب کی شخصیت پر ایک طاءر انہ نظر ڈالتے ہیں تا کہ مزید باتیں سمجھنے میں آسانی ہو۔درحقیقت بیسویں صدی میں اسلامی علوم و فنون،تحقیق و تدوین اور فقہ وفتاویٰ کے علمی میدان میں جو ممتاز علمی شخصیات نمودار ہوئیں اور جریدہ عالم پرایک نقش دوام ثبت کر گئیں،ان میں حضرت مولاناو مفتی محمد ظفیر الدین مفتاحی کی ذات بابرکات بھی ہے۔وہ ایک جلیل القدر عالم ،مفسر،محدث،فقیہ،نقاد،مبصراور مقنن تھے۔نیزوہ دقیق النظر اور کامل الفنون دانشور اور سحر البیان مقرر اور مدرس بھی تھے۔انھوں نے اپنی بے لوث علمی،فقہی،تدریسی اور تصنیفی خدمات کے ذریعےنہ صرف بہار و یوپی بلکہ پورے ہندوستان کو نیک نامی عطا کی۔چنانچہ مفتی محمد ظفیر الدین صاحب ٢١/شعبان ١٣٤٤/بموافق ٧/مارچ١٩٢٦کوبہارکےمشہورشہر دربھنگہ سے پانچ کیلو میٹر دور’پورہ نوڈیہا،گاوں میں پیدا ہوئے،آپ کے والد گرامی کا نام منشی شمس الدین(وفات:١٩٤٦ع) تھا جو ریلوے میں ملازم تھے۔آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق سے ملتا ہے اور اسی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ’صدیقی،لکھا کرتے تھے۔اس خاندان کے علمی مرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مفتی صاحب کے منجھلے چچا منشی بشارت علی مرحوم جو خود پڑھے لکھے تھے اور ان کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب (١٩٠٣-١٩٩٨)أمیر شریعت خامس بہار واڈیشہ نے بہار پٹنہ بورڈ میں فرسٹ کلاس فرسٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے تھے،اس پر ان کو برٹش گورمنٹ کی جانب سے گولڈ میڈل عطا کیا گیا تھا۔چنانچہ مفتی صاحب کی ابتدائی تعلیم چار سال کی عمر میں گاؤں کے مکتب سے شروع ہونی،پانچ سال کی عمر میں عربی و فارسی کی تعلیم کے لیے مدرسہ محمودیہ راج پور ترایی نیپال بھیج دیے گئے، وہاں ایک سال گزارنے کے بعد، مدرسہ وارث العلوم چھپرہ کا رخ کیااور وہاں مسلسل اٹھ سال تک تعلیم حاصل کی۔ آمد نامہ سے لے کر شرحِ وقایہ تک کی تعلیم کی تکمیل وہیں کی،پراییوٹ طور پر اسی دوران فوقانیہ،مولوی اور عالم کا امتحان دیا اور امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے۔مزیداعلی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ مفتاح العلوم مئوکا قصد کیا اور یہیں سے١٩٤٤ع میں سند فراغت حاصل کی۔ پھرافتاوتمرین فتاویٰ کی مشق بھی محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی (١٩٠١١٩٩١)کی خدمت میں رہ کرکی، اسی مدرسہ کی نسبت سے’مفتاحی،کا لاحقہ آپ کے نام کا جزو ہے۔دوران تعلیم ١٩٤٢میں ‘ہندوستان چھوڑوتحریک’شروع ہوئی تو اس میں قائدانہ رول ادا کیا،جس کی پاداش میں آپ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا اور روپوش ہوگئے،بالآخروطن واپسی ہوئی۔’جنگ آزادی کا ایک یادگار سفر’اسی کی سرگزشت ہے۔آپ کو علم کی تشنگی کشاں کشاں دارالعلوم ندوۃ العلما لے گئی،ڈھایی تین ماہ تک آپ وہاں کے طالب علم رہے، حالات کے ناسازگار ہونے کی وجہ سے ندوہ کو خیرآباد کہہ کر نگرام گیے اور معدن العلوم نگرام سےدرس و تدریس کا آغاز کیا۔ملک آزاد ہوا کشت و خون اور فسادات کاسلسلہ شروع ہوگیا،مفتی صاحب نے وطن کو مراجعت کی۔پھر ایک عرصہ تک سانحہ مونگیر میں درس وتدریس کی خدمات انجام دی۔سانحہ سے آپ ١٩٥٦ع میں اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور حکیم الاسلام مولانا قاری طیب صاحب کے بلاوے پر دارالعلوم دیوبند آے، شعبہ تبلیغ میں آپ کی تقرری عمل میں آئی۔دارالعلوم کے حکم پر آپ نے شروع کے نو مہینوں میں ‘جماعت اسلامی کا دینی رجحانات، اور’اسلامی عقائد، کے نام سے دوکتابیں لکھیں۔پھر آپ کو دارالعلوم کے دارالافتاء میں ذیقعدہ ١٣٧٦ھ کو بحیثیت مفتی منتقل کیا گیا اور ساتھ ہی ترتیب فتاویٰ دارالعلوم کی اہم ذمہ داری سپرد کی گئی،ساڑھے پانچ سال کے بعد فتاویٰ کی ترتیب کے ساتھ ساتھ کتب خانہ دارالعلوم کی ترتیب و تزئین کے لیے صفر١٣٨٢ھ سے بحیثیت مدیر کتب خانہ اضافی خدمت بھی سپرد کیاگیا،نیزماہنامہ دارالعلوم کا اداریہ لکھنے اور طلباے علوم قرآنی کی راہنمایی بھی آپ کے ذمے عاءد تھی،جس کوآپ نے بحسن وخوبی انجام دیا،دو جلدوں میں دارالعلوم دیوبند کے مخطوطات کا تعارف بھی اسی دور کی یادگار ہے۔دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مخطوطات کا تعارف بھی آپ ہی کے قلم کا مرہون منت ہے۔پھر اس کے بعد آپ مستقلاً دارالافتاء آگییے،حبیب اللہ منصور رقمطراز ہیں:”١٩٨٢ع کے انقلاب کے بعد دارالعلوم کی نئی انتظامیہ نے مفتی صاحب کا تبادلہ دارالافتاء میں کردیا،چونکہ مولانا مفتی مہدی حسن(صحیح مفتی محمود حسن گنگو ہی ہے) کے سہارن پور منتقل ہوجانے کی وجہ سے دارالافتاء میں ایک بالغ نظرمفتی کی ضرورت پیش آئی توشوری کی نظر انتخاب آپ پر پڑی، چنانچہ دوبارہ دارالافتاء میں آپ کی واپسی ہوئی،مفتی صاحب بڑے احسن طریقے پر اس فریضہ کو انجام دیتے رہے،تدریس کے ساتھ نئے مسائل سے متعلق جوابات زیادہ تر آپ ہی سپرد قلم کرتے۔اس عرصہ میں طلبہ دارالافتاء کوتمرین افتا کے علاوہ’رسم المفتی’اور ‘درمختار’کادرس بھی دیتے تھے۔جس کی وجہ سےایک ہزار سے زائد مفتیان کرام کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے،جوملک کے أکثر علمی و دینی اداروں میں درس وتدریس اور افتا کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس طرح دونوں قسطوں کو ملا کر آپ تینتیس ٣٣/سال تک بحیثیت مفتی دارالعلوم میں خدمات انجام دینے۔اس عرصہ میں ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے استفتا کے جوابات بھی لکھتے رہے،مفتی صاحب رقمطراز ہیں:”اوسطاً ہر سال دوہزار لفافوں کے جواب لکھنا ایک مفتی کے حصہ میں آتا ہے”اس طرح اگر ہر لفافہ میں ایک ہی استفتا ہوتب بھی چھیاسٹھ ٦٦ہزارفتاوی آپ کے قلم سے صادر ہونے،جب کہ عموماً ہر لفافہ میں ایک سے زائد فتاویٰ ہوتے تھے،اس حساب سے لاکھوں سے زائد فتاویٰ آپ نے لکھے ہونگے،اس سلسلے میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) کی رائے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے تقریباً ایک لاکھ فتاویٰ تحریر فرماے ہیں” ۔(ص:٣٠) محقق محترم مزید آگے لکھتے ہیں کہ :”مفتی صاحب کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ’فتاوی دارالعلوم دیوبند’کی ترتیب وتدوین ہے،اس کے ذریعے آپ کی شخصیتوں (صحیح شخصیت)بھی علمی دنیا کے لیے متاثر کن بنی ۔دارالعلوم دیوبند کے مفتی اول عارف باللہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی صاحب کے چھتیس ٣٦/سالہ فتاوے جو تاریخ وار اور سن واررجسٹروں میں منتشر تھے،سب کوابوابوں اور فصلوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے موضوع اور مسایل کے تحت جمع کیا۔مسایل کی دلیلوں کو ان کے اصل مآخذ سے نکال کر تحریر کیا،حوالہ جات کی عبارتوں کو صفحہ نمبر کے ساتھ لکھا،فی زمانہ کسی مسلہ میں کسی دوسرے مفتی کی اس سے مختلف رائے ہے تو اسے بھی قلمبند کیا۔یہ سارے کام بڑے جاں فشانی کے طالب تھے،مفتی صاحب نے بڑے ذوق و شوق اور اخلاص و لگن کے ساتھ انجام دیے،بالآخرفتاوی دارالعلوم بارہ جلدوں میں دارالعلوم سے شایع ہوکر منظر عام پر آئی اور پوری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کی ہے،بارہویں جلد کا اختتام’کتاب اللقطہ’پر ہوا ہے”۔(ص:٣٠’٣١) مزید افتا کی اہمیت اور آداب پر چونسٹھ ٦٥/صفحات پر مشتمل ایک شاہکار مقدمہ بھی تحریر فرمایا۔صاحزادہ گرامی عم محترم حضرت مولانا احمد سجاد ساجد قاسمی کے بقول:” فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کی بارہ جلدیں تین ہزار سات سو پینتیس (3735) صفحات اور آٹھ ہزار چار سو چھیاسی مسائل پر مشتمل ہے”۔فتاوی دارالعلوم کی ترتیب بڑی محنت و کاوش اور پتہ ماری کا کام تھا،کتنے ہی لوگ اس سنگ گراں کو چوم کر رکھ چکے تھے،یہ تو مفتی صاحب ہی کی شخصیت تھی کہ اس کواس پایۂ تکمیل تک پہنچا یا۔بقول حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ (١٩١٣-١٩٩١ع) "اگر مفتی ظفیر الدین صاحب فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کی ترتیب کے علاوہ کوئی اور علمی کام نہ کرتے، تب بھی یہ ان کی علمی عظمت اور دینی و فقہی خدمت کے لیے کافی ہے”۔(ص:١٥٧’١٥٨)خودمفتی صاحب نے اپنی محنت و کاوش کا ذکر کرتے ہوئے فتاویٰ دارالعلوم جلد یا زدھم کے پیش لفظ میں حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی ناظم شعبہ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (١٩٠٧-١٩٨٥)کایہ قول نقل فرمایا ہے کہ :”حضرت مولانا سعید احمد اکبر آبادی مدظلہ نے ایک بار فرمایا تھا کہ ہمارے یہاں یونیورسٹی میں کسی معمولی قدیم پرانی کتاب کو کوئی آڈٹ کرتا ہے تو تین سال تک اسے یونیورسٹی گرانقدر وظیفے دیتی ہے،پھر اس کی تیاری اور منظوری پر اسے ڈاکٹری(پی ایچ ڈی) کی ڈگری سے نوازتی ہے،ایک استاذ مستقل محنت کرکے اس کی رہنمائی کافریضہ بھی ادا کرتا ہے،اور تم نے حضرت مفتی صاحب (مفتی عزیز الرحمن عثمانی) کے چھتیس سالہ دور افتا پر کافی محنت کی دارالعلوم جیسے مرکزی دارالافتاء کے بکھرے ہوئے فتاویٰ کو مرتب کیا،حاشیہ اور حوالہ جات درج کیا،اس کی کئی جلدیں شائع ہوکر مقبول عام ہو چکیں،مگرتمہارے علما کی نظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کام ہی نہیں ہوا،کویی کلمہ خیر کہنے کے لیے بھی شاید آمادہ نہیں،حالانکہ یہ بڑا عظیم الشان تحقیقی کام انجام پارہا ہے،مستقبل میں یہ علمی و فقہی ذخیرہ امت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو گا اور ایک دنیا اس سے مستفید ہو گی”.(پیش لفظ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد یازدہم،ص:١٤.١٥) قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید کے مصداق آج بر صغیر ہندوپاک میں جو استناد ومقبولیت فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کوحاصل ہے،کسی دوسرےاردوکے مجموعہ فتاویٰ کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ہرزمانےمیں اس کے فتوی کو مرجعیت حاصل رہی ہے۔اس کی جامعیت کے بارے میں اظہار خیال فرماتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد(١٨٨٨-١٩٥٨) نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ:” اس سے ایک دوسراتاتارخانیہ مرتب ہوسکتا ہے”.

یہ تو مفتی صاحب کا زمانہ عروج تھا جب کہ آپ کی شہرت ومقبولیت کاستارہ نصف النہار پر تھا۔آغاز بھی آپ کاکم قابل رشک اورلایق ستایش نہ تھا، چنانچہ جب آپ کی پہلی تصنیف’اسلام کانظام مساجد’ پر نظر ثانی سلطان القلم مولانا مناظر احسن گیلانی(١٨٩٢-١٩٥٦) نےایک ہی نشست میں ظہر سے عصرکے درمیان کی، تووہ کافی متاثر ہوئےاوراپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:”اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مساجد کے متعلق اتنی جامعیت کے ساتھ تمام پہلوؤں پر اتنی حاوی کتاب نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی میں بھی میری نظر سے نہیں گزری،وقت کی ایک بڑی ضرورت میں مولانا نے اپنا وقت صرف فرمایا ہے”۔(ص:١٢٧)مزیداپنے ایک خط میں مستقبل کی پیشنگوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں”واقعہ تو یہ ہے کہ اس میدان کے آپ تازہ وارد نوجوانوں میں ہیں،آپ کی صلاحیتوں کو دیکھ کر دل اس پیشنگوئی کی جرات کرتا ہے کہ مستقبل میں آپ کا قلم ان شاء اللہ اسلام کی کوئی نمایاں خدمت انجام دے گا”۔(ص:١٢٧.١٢٩.١٣٠)ہو نہ ہواس مرد قلندر کی پیشنگوئی
کا مصداق فتاویٰ دارالعلوم دیوبند کی ترتیب وتدوین ہو،واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔ دارالعلوم دیوبند آمد سے قبل ہی آپ کی دوتین تصانیف منظر عام پر آچکی تھیں،اہل فضل وکمال کے درمیان ایک بہترین قلمکار کی شناخت ہو چکی تھی۔برہان،الفرقان،دارالعلوم اور صدق جدید جیسے مشہوررسالوں میں پابندی سے برابر آپ کے مضامین ومقالات اشاعت پذیر ہورہے تھے۔پھر دارالعلوم دیوبند آمد ہوئی اور آپ نے اپنے ذمہ کی ساری خدمات کو بحسن وخوبی انجام دیا۔جشن صد سالہ کے بعد دارالعلوم دیوبند میں جو قضیہ نامرضیہ پیش آیا اور اس طوفان بلا خیز میں جو واقعات رونما ہونے۔ اس میں آپ پراوردیگر اساتذہ پر کیا قیامت گزری ۔اس چشم کشا اقتباس کو ملاحظہ فرمائیں،ڈاکٹرمنصورحبیب اللہ رقمطراز ہیں:”دارالعلوم دیوبند کا انقلاب مفتی صاحب کی زندگی کا ایک عظیم حادثہ ہے،جس میں بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی(١٨٣٣-١٨٨٠) کی اولاد،زمانہ کے جید عالم دین حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب(١٨٩٧-١٩٨٣) مہتمم دارالعلوم دیوبند کواہتمام سے جبراً ہٹایا گیا تھا۔اس انقلاب میں طلبہ کا اہم رول تھا۔٢٣/مارچ ١٩٨٢ع کے دن گزار کر رات میں انقلاب کا ایسا اندوہناک منظر سامنے آیا کہ صد سالہ کی تمام خوشیاں دکھ و رنج میں تبدیل ہو گئیں،نتیجہ یہ ہوا کہ انتظامیہ میں تبدیلی آئی اور حضرت مہتمم صاحب کو مجبوراً انخلاء کرنا پڑا تھا۔انقلابی تحریک کے شکار وہی لوگ ہوے جو قاری صاحب سے تعلق رکھنے والے تھے۔چونکہ مفتی صاحب کو قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبندسے گہری عقیدت تھی اسی وجہ سے مفتی صاحب کو بھی ہدف بنایا گیا۔٢٤/مارچ صبح صادق کے بعد انقلابیوں نے جن کواپنا مخالف سمجھا ان کے کمروں پر حملہ کیا ،اورحضرت مولانامحمد حسین بہاری(١٩٠٥-١٩٩٢)مولانابدرالحسن قاسمی،مولاناخالد،مولانا فضل الرحمن (عرف فضلو بھائی کاتب) مولانا محمد اسلام قاسمی اور مولانا مفتی محمد ظفیر الدین صاحب کے کمروں کے سارا سامان تقریباًپچاس ساٹھ ہزار کتابیں ،سند،نقدرقم،زیورات،کپڑےوغیرہ سب کولوٹ لیا،کمرہ میں چہار دیواری کے سوا کچھ باقی نہ چھوڑا۔سب سے اہم چیز جو ضائع ہوئی وہ مفتی صاحب کی غیر مطبوعہ کتابوں کی مسودات کا بڑا ذخیرہ تھا،جس کا افسوس مفتی صاحب کوزندگی کے آخر دن تک رہا”.(ص:١٩٣)مشیت ایزدی سے انقلاب کے وقت مفتی صاحب اپنے وطن میں تھے۔اس کی خبر آپ کو قاضی مجاہد الاسلام علیہ الرحمہ والرضوان کے ایک خط سے ملی،آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور صبر سے کام لیا۔چنانچہ اس انقلاب کے سب سے بڑے حامی وپیادہ اور سپہ سالار مولانا وحید الزمان کیرانوی تھے۔جوہندوستان کے مشہور علما میں تھے،دارالعلوم پرقبضہ کےبعد انہیں بھی قائدانقلاب نے دودھ کی مکھی کی طرح نکال باہر پھینکا،اس واقعہ کو بھی مفتی صاحب کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر ابو بکر عباد(اسسٹنٹ پروفیسر دہلی یونیورسٹی )کے حوالہ سے بگوش عبرت وبچشم بصیرت ملاحظہ کریں _کیونکہ ہندوستان میں مدارس پر قبضے کی تاریخ یہیں سے شروع ہوتی ہے۔بقول مولانا بدر الحسن قاسمی: مدارس سے ہی حقدار وں کو بے دخل کر کے غصب کردہ اداروں کی روایت دیوبند نے قائم کردی ہے اور دوسرے مدارس بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں”۔ _حبیب اللہ منصور لکھتے ہیں:”ایک دن عشا کی نماز کے بعد ابو جان کمرے پر آے تو بے حد افسردہ تھے۔ بسترپردرازہوگیےاورکسی سے کوئی بات نہ کی،رات کا کھانا بھی براے نام کھایا،بظاہراس قدر غمزدہ کرنے والی وجہ سمجھ میں نہ آئی،دوسرے دن پوچھنے پر بتایا کہ کل مسجد قاضی سے مغرب کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہا تھا تو مولانا وحید الزمان صاحب ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے کہ آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں،چاے کے دوران انھوں نے کہا،مفتی صاحب! مجھے پورا یقین ہے کہ قاری طیب صاحب کے صبر اور خاموشی کا مجھ پر عذاب پڑ رہا ہے،پھراپنےساتھ کی گئی اپنے لوگوں (نئی انتظامیہ/اہل اقتدار) کی زیادتیوں اور بدسلوکیوں کاذکر کرتے رہے،اس تمام عرصے میں ان کی آنکھوں سے بارہا آنسو چھلکے،وہ حد سے زیادہ پشیماں اورافسردہ ہیں،بیچارے تنہائی کی اذیت جھیل رہے ہیں،ان کی حالت سے مجھے بے حد صدمہ پہنچا ہے،خدا صبر دے.(ص:١٠٤) دراصل مفتی صاحب بڑے رقیق القلب تھے دوسرے کے رنج وغم کو دیکھ کر خود بھی آزردہ خاطر اور ملول ہوجاتے تھے۔جب کوئی مشورہ کے لیے اتاتو اسے صحیح مشورہ دیتے تھے،مفتی صاحب کے اسی وصف کے بارے میں مولانا نور عالم خلیل امینی(١٩٥٢-٢٠٢١) لکھتے ہیں:’مفتی صاحب میں یہ سارے اوصاف بہ تمام وکمال پاے جاتے ہیں،ان سے جب بھی کوئی مشورہ کیا اور مشورے کے بعد اٹھا تو دل میں انشراح محسوس ہوا اور دل سے دعا نکلی اللہ اپنے اس بندے کو بہت نوازے کہ اس نے مجھے میرے مطلب اور مفاد کی صحیح راہ دکھائی”۔(ص:١٠٢)۔
مفتی صاحب کا اصل مزاج علم وتحقیق اور تصنیف و تالیف کا تھا۔زمانہ طالب علمی سے ہی پڑھنے لکھنے کا ستھرا ذوق تھا،آپ کاسب سے پہلا مضمون ٨/ستمبر ١٩٤٧ع کو الہلال پٹنہ میں’مسلمانان بہار اور علوم و فنون’کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔اور آپ کی پہلی تصنیف’اسلام کانظام مساجد’١٩٥١/١٣٧٠میں ندوۃ المصنفین دہلی سے شائع ہوئی تھی،جس پر”نقاب کشائی”کے عنوان سے مقدمہ حضرت مولانا گیلانی نے تحریر فرمایا تھا۔پہلی بار اس پر نظر ثانی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ(١٩١٣-١٩٩٩) نے کیا تھا۔اس لیے مفتی صاحب نے ان کو اپنے اساتذہ میں شمار کیا ہے وہ لکھتے ہیں:”اس میدان کے (تصنیف وتالیف میں) مولانا (علی میاں ندوی) میرے مربی واستاذہیں”(ص:١٣١)آپ کے قلم گوہر بار سے ساٹھ ٦٠سےزیادہ تصانیف اور تین سو کے قریب مضامین نکلے ہیں۔لیکن محقق موصوف نے محض پچاس مجموعی قرار دے کر سینتیس تصانیف کاذکر کیا ہے۔مفتی صاحب نے بہت سے اساتذہ سے علمی استفادہ کیا۔انھوں نے خود کوہمیشہ طالب علم ہی سمجھا ان کے بعض اہم اساتذہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب امیر شریعت خامس بہار واڑیسہ،محدث جلیل مولانا حبیب الرحمن اعظمی،مولانا عبد اللطیف نعمانی،مولانا محمد ایوب اعظمی،مولاناحلیم شاہ عطا،مولانامحمد ناظم ندوی،مولانا حمیدالدین صاحب اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے نام قابل ذکر ہیں۔ اور آپ کے تلامذہ میں مولانا سعید الرحمن اعظمی (مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ)،مولانا ولی رحمانی( امیر شریعت امارت شرعیہ بہار واڑیسہ)مولاناشاہین جمالی،مولانا ریاست علی شیر کوٹی ،مولانارضوان القاسمی ،مولانااخترامام عادل،مولانامفتی جنید احمد قاسمی اور مفتی اشتیاق احمد قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔نیزآپ کو علامہ سید سلیمان ندوی اور مولانا مناظر احسن گیلانی سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔آپ باضابطہ حضرت مولانا مدنی کے دست گرفتہ اور مولانا قاری محمد طیب اور مولانا فضل اللہ رحمانی سے اجازت بیعت یافتہ تھے۔اس کے باوجود سادہ مزاج،صاف دل،نرم خو،نرم گفتارتھے۔عبادات،معاملات،معاشرت اور اخلاق سب میں معتدل تھے،لین دین میں بھی کافی احتیاط کر تے تھے،اس سلسلہ کا یہ سبق آموز واقعہ ملاحظہ فرمائیں،مفتی اشتیاق احمد صاحب لکھتے ہیں:”ایک بار دارالافتاء کا سادہ لفافہ مجبوری میں استعمال کرنے کی نوبت آئی تو فرمایا کہ میں نے وصیت کردی ہے کہ میرے مال میں سے ایک ہزار روپے احتیاطا دارالعلوم کے خزانہ میں جمع کردیا جائے،کیونکہ احتیاط کرنے کے باوجود دیکھو نااس طرح کی نوبت آجاتی ہے”۔(ص:١٠٩) مفتی صاحب کم و بیش تیرسٹھ ٦٣/سال تک دینی،علمی اور تصنیفی خدمات میں سرگرم عمل رہے،اس میں ٥٣/سال دارالعلوم دیوبند کی خدمت کا عظیم الشان اور ناقابل فراموش زمانہ بھی ہے۔اورجب وہ ٥٣/سال کے بعد٢٠/شعبان ١٤٢٩ھ/٢٢اگست٢٠٠٨ع کواپنےگھر لوٹے تو اپنے ساتھ دولت کے نام پر کتابوں کے ذخیروں کے سوا کچھ ساتھ لے کر نہیں آے۔جس کی حسین یادگار”مولانا مفتی ظفیر الدین لاءبریری”ہے۔دوسال کے بعد و طن ہی میں ٢٥ربیع الثانی ١٤٣٣ھ/٣١مارچ٢٠١١ع بروز جمعرات کو وصال ہوا،اناللہ وانا الیہ رجعون۔ آج بھی ان کی یہ کتابیں اسلام کانظام عفت و عصمت،اسلام کانظام تعلیم وتربیت،اسلام کا نظام امن،اسلامی حکومت کے نقش و نگار،اسلام کانظام سیرت،امارت شرعیہ کتاب و سنت کی روشنی میں،امارت شرعیہ: دینی جدو جہد کا ایک روشن باب ،کشف الاسرار،اسلام کا نظام معیشت ،جماعت اسلامی تحقیقی جائزہ،حکیم الاسلام اور ان کی مجالس،تعارف مخطوطات دارالعلوم دیوبند،مشاہیر علما ہند کے علمی مراسلے،جرم وسزاکتاب و سنت کی روشنی میں،تاریخی حقائق،تاریخ مساجد،مشاہیر علما دیوبند،حیات گیلانی،دارالعلوم: قیام اور پس منظر،دارالعلوم ایک عظیم مکتب فکر،تذکرہ مولانا عبداللطیف نعمانی ،حیات مولانا عبد الرشید رانی ساگری اور حضرت نانوتوی ایک مثالی شخصیت وغیرہ ہمیں دعوت فکر وعمل دے رہی ہیں۔خیر فاضل محقق کی یہ کوشش ہر طرح لایق تحسین اور سزاوار آفرین ہے،چونکہ محقق کی یہ پہلی تصنیف ہے،اس لیے اس میں کمی کوتاہی کا درآنا کویی بعید نہیں۔پھربھی طباعت عمدہ ہے اور سرورق جاذب نظر ہے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button