دہلی

معروف سماجی کارکن عمر خالد کی ضمانت پر سماعت ملتوی

نئی دہلی ، 4جولائی ( ہندوستان اردو ٹائمز ) دہلی ہائی کورٹ نے پیرکوشمال مشرقی دہلی تشدد کیس میں عمرخالد کی ضمانت کی درخواست پرسماعت ان کے وکیل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملتوی کر دی۔ان کے وکیل ایڈوکیٹ تردیپ پیس ان دنوں کورونا وائرس سے متاثرہیں۔خیال رہے کہ اپریل میں عمر خالد کی جانب سے کورٹ کے ضمانت سے انکار پر ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔آج جسٹس سدھارتھ مردول کی سربراہی میں ڈویڑن بنچ نے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

اب اس معاملے کی سماعت 27 جولائی 2022 کو ہوگی۔اس معاملے کی سماعت آج دوپہر 2:15 بجے ہونی تھی۔کرکڑ ڈوما کورٹ نے مارچ 2022 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم عمر خالد کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ ان پردہلی پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں(روک تھام)ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھااوراسے13ستمبر2020 کوگرفتارکیا گیا تھا۔جسٹس سدھارتھ مردول نے کہا تھا کہ اگر استغاثہ کا معاملہ اس بنیاد پر ہے کہ تقریر کتنی جارحانہ تھی، تو یہ بذات خود کوئی جرم نہیں بنتا، ہم انہیں موقع دیں گے۔

بنچ نے مزید کہا کہ یہ ہتک عزت کے مترادف ہو سکتا ہے لیکن یہ دہشت گردانہ سرگرمی کے مترادف نہیں ہے۔ اس سے قبل اپریل2022میں سماعت کے دوران بنچ نے تقریر کو جارحانہ اور ناگوار قرار دیا تھا۔تاہم سینئر وکیل تردیپ پیس نے دلیل دی تھی کہ چارج شیٹ میں الزامات کے لیے کوئی مواد اوربنیاد موجود نہیں ہے اور یہ صرف افواہوں پر مبنی ہے۔ گذشتہ 23 مئی 2022 کو ایک سماعت کے دوران انہوں نے یہ دلیل دی تھی کہ شرجیل امام نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ایک سیکولر تحریک پر تنقید کی تھی جب کہ عمر خالد اس سے متفق نہیں تھے۔

تردیپ پیس نے کہا تھا کہ عمرخالد کو ایک ایسے شخص کے ساتھ پھنسایا جا رہا ہے جو سی اے اے کیخلاف گہرے فرقہ وارانہ احتجاج کا حصہ تھا۔یہ معاملہ فروری2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی بڑی سازش سے متعلق ہے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button