حیدرآباد

معروف افسانہ نگار و اسسٹنٹ پروفیسر مانو عشرت ناہید کے اعزاز میں محفل افسانہ کاانعقاد

حیدرآباد (راست) معروف افسانہ نگار ڈاکٹر عشرت ناہید (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، لکھنؤ کیمپس) کے اعزاز میں ’’بزمِ نثّار‘‘ کولکاتا کی جانب سے ایک محفلِ افسانہ منعقد کی گئی جس کی صدارت معروف صحافی، شاعر اور ادیب جناب انجم عظیم آبادی نے فرمائی۔ یہ تقریب ہیسٹنگس (خضر پور) کولکاتا میں آراستہ کی گئی۔ جس میں مشہور افسانہ نگارمحترمہ شہیرہ مسرور اور ابھرتی ہوئی معروف افسانہ نگار ڈاکٹر صوفیہ شیریں نے بھی شرکت کر کے محفل کی شان و اہمیت بڑھا دی۔

پروگرام کا آغاز دلشاد جاوید حشمی کے ذریعہ تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ نظامت کے فرائض برادر مکرم ارشد جمال حشمی نے ادا کیے۔ مہمان خاص ڈاکٹر عشرت ناہید اور صدر محفل جناب انجم عظیم آبادی کے لیے طرہ گل پیشی کے بعد معتمد بزم اشرف احمد جعفری نے بزم کی جانب سے تمام شرکاء کو قلم اور پھول کا تحفہ پیش کیا۔ جاویدنہال ہاشمی نے مہمانِ خاص کا تعارف دیگر حاضرین سے کرایا۔ معتمد بزم نے بزم کا مجلّہ اور دیگر کچھ کتب مہمانِ خاص کی خدمت عالیہ میں پیش کیں۔ڈاکٹرصوفیہ شیریں نے اپنا افسانہ ’’سفل یاترا‘‘ اپنی خوبصورت آواز و انداز میں پیش کر کے سامعین سے داد وصول کی۔ محترمہ نے دیگر افسانہ نگاروں کے افسانوں پر بھرپور تبصرہ کر کے اپنی ناقدانہ صلاحیتوں کا بھی لوہا منوا لیا۔

عشرت صراط حشمی نے بھی ایک خوبصورت افسانہ ’’احساس کی کرچیاں‘‘ سنایا اور بیساختہ مہمان خاص ڈاکٹر عشرت ناہید اور ڈاکٹرصوفیہ شیریں کی جانب سے داد و تحسین وصول کیے۔ڈاکٹر ناہید نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گرچہ وہ تانیثی تحریک کے علم برداروں میں سے ایک ہیں، وہ یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتیں کہ عورت اب وہ پہلے والی عورت نہیں ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر وہ کہیں مظلوم ہے تو کہیں ظالم بھی ہے۔شکیل احمد نے اپنا افسانہ ’’جانور‘‘ سنایا جس میں موجود سسپنس نیسبھی کو واہ واہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ شکیل احمد کے افسانے پڑھنے کے انداز سے سامعین بہت متاثر ہوئے۔شہیرہ مسرور صاحبہ نے اپنے منفرد انداز کا افسانہ ’’اَنت ہی آرمبھ ہے‘‘ سنایا جسے بہت پسند کیا گیا۔ آخر میں ناظمِ محفل نے مہمانِ خاص کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دی جس کے بعد انہوں نے اپنے دو افسانے ’’سنگ تراش‘‘ اور ’’منزلِ بینشاں‘‘ بھی سنایا۔ اکثر قلم کاراپنی تحریر اور تقریر میں یکساں صلاحیت رکھنے والے نہیں پائے جاتے۔

مگر ڈاکٹر ناہید نے اپنی خوبصورت آواز اور انداز میں مکالموں کی ادائیگی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ تحریر کے ساتھ تقریر (اندازِ خطابت) میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ سب سے آخر میں صدر محفل جناب انجم عظیم آبادی نے پڑھی گئی تخلیقات پر سیر حاصل تبصرہ کیا اور پھر اپنے ایک منی افسانے ’’سایہ دار شجر‘‘ کے علاوہ ڈاکٹر عشرت ناہید کی کلکتہ آمد پر استقبال کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی خوبصورت تہنیتی نظم بھی سنائی۔پروگرام کے اختتام پر معتمد بزم جناب اشرف احمد جعفری نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

ہماری یوٹیوب ویڈیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button