مضامین و مقالات

ملک کو دوسرا اسرائیل بنانے کی کوشش ! ذوالقرنین احمد

9096331543
جب تمام انصاف پسند عوام و رہنما شہریت ترمیمی بل کے خلاف ہے، اور یہ بل نا تو عوام کیلے مفید ہے نا‌ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے حق میں تو پھر اس بل کو جبراً مسلط کرنے کا کیا مطلب ہے۔ جبکہ دیگر کمیونٹی کی عوام بھی سڑکوں پر ہے۔ کوئی بھی‌ اس بل سے خوش نہیں ہے سیوائے کچھ فرقہ پرست عناصر کے، یہ بات قابل غور ہے او اس پر سوچنا ضروری ہے۔ جس طرح سے ملک کو بد امنی کے طرف لے جایا جارہا ہے۔ اس سے یوں محسوس ہورہا ہے، کہ ہندوستان دوسرا اسرائیل بننے جارہا ہے۔ اس بل کی نقصانات ابھی دیکھائی نہیں رہے ہیں لیکن اسکی حقیقت جلدی ہی منظر عام پر آئیں گی، جو تسلیاں وزیر داخلہ مسلمانوں کو دے رہے ہیں وہ جھوٹی ہے۔ اور سراسر آئین ہند و انصاف اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک کو قوم کے نام مذہب کے نام پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وہاں جمہوریت ختم ہوچکی ہے جمہوریت کے پس پردہ کوئی اور ہی فرقہ پرست کالے قانون لاکر تاناشاھی کر رہی ہیں۔
انہیں اصل میں مسلمانوں کی آبادی کی فکر ستا رہی ہیں اور یہ ان سے دیکھا نہیں جارہا ہے کیونکہ ان سے‌ ایک پیدا نہیں ہوپاتا تو یہ دوسروں کو دیکھ کر جل بھن رہے ہیں۔ ملک کا وکاس تک نہیں کر سکے۔ اس لیے دوسرے راستے سے ایک طرح کی نسل کشی کی کوشش کی جارہی ہے۔ جو ابھی سمجھ نہیں آرہا ہے لیکن یہ اپنی اصلیت جلد دیکھانے لگ جائے گے۔ یہ سنگھی تولہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں اپنے کارکنان کو تیار کر چکا ہے اور ہر ادارے اور فیلڈ میں یہ لوگ سرگرم عمل ہیں پورے منظم طریقے سے ملک کے سسٹم کو ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ یہ سنگھی اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اب سیول کوڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انکی تعداد یہ جتنی بتاتے ہیں اتنی ہے نہیں کیونکہ یہ ان کمیونیٹی کے افراد کو بھی اپنی کمیونٹی میں شمار کرتے ہیں جو ہندو نہین ہے وہ کسی اور مذہب کو ماننے والے ہیں۔ یہ جبرا انہیں کہنے پر مجبور ر رہے ہیں کہ تم ہندو ہو، جبکہ وہ چیخ چیخ کر کہے رہ ہیں کہ ہم ہندو دھرم کو نہیں مانتے ہمارا دھرم اس سے مختلف ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ان افراد کا سہارا لے کر اپنے آپ کو اکثریت میں دیکھانے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔ پھر کوئی کمیونٹی انکے خلاف اگر دیکھائی دیتی ہے تو ہے صرف مسلمان تب یہ لوگ ان دیگر کمیونٹی کو مسلمانوں کے خلاف ورگلاتے ہیں اور انکے دلوں میں مسلمانوں کے خالف نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ ہمارا یہ ذمہ داری ہیں کہ ان دیگر کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کرکے ان تک یہ پیغام کو پہنچائے کہ تمہارے ذہنوں میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہر بھرا گیا ہے وہ غلط فہمی کہ سیوا کچھ نہیں ہے۔ ہم کسی کمیونٹی کے خلاف نہیں ہے۔ اور اسلام عدل و انصاف مساوت فراہم کرتا ہیں۔ ایک اللہ کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے۔ ان میں اکثر کمیونٹی ایسی ہے جو اپنے پیروکاروں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور انکا تصور ایک خدا کا تھا وہ الگ الگ دیوتاؤں کے خلاف تھے تو کوئی مرتی پوجن کے خلاف تھا۔
ہندوستان بھر میں جس طرح سے شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج ہورہا ہے وہ ہونا ضروری ہے۔ حکومت اپنے اقتدار کے نشے میں کچھ اور ہی کام انجام دے رہی ہیں۔ جو ہندؤ راشٹر کی طرف اشارہ کر رہا ہیں۔ یہ بل کے زریعے دیگر کمیونٹی کو تو شہریت دینے کی بات جارہی اور مسلمان اگر غیر ملک سے آکر بسا ہے تو اسی گھوسپیٹا کہ کر ملک بدر کردیا جائے گا۔ اب یہ بات صاف ہیں۔ اگر دیگر کمیونٹی کو موجودہ حکومت شہریت دیگی تو ہو سکتا ہے وہ یہ شرائط انکے لیے عائد کردے کہ تمہیں اس وقت شہریت دی جائے گی اگر تم اپنا دھرم بدل کر ہندو مذہب کو قبول کرلوں تو ہوسکتا ہے یہ افراد ڈر و خوف کے ماحول میں مجبوراً انکی شرط قبول کرلے۔ اور پھر جب ملک میں مردم شماری کی جائی گی تو اس مین اکثریت اگر ہندؤں کی بتائی گئیں تو یہ سنگھی فرقہ یہ کہے گی کہ جس ملک میں اتنی بڑی تعداد ہندؤں کی ہے تو پھر یہاں ہندو راج ہونا چاہیے اور ہندؤ راشٹر کیلے یہ مہم شروع کردیگے۔
پھر مسلمانوں پر جبرا ایسے قانون کو لانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہیں۔ کہ انہیں ارتداد کے دہانے پر کھڑا کردیا جائے۔ اسی لیے اس بل کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بل کی مخالفت کو اس وقت تک جارہی رکھنا چاہیے جبتک یہ بل کو حکومت واپس نہیں لیتی ہیں۔
ورنہ حالات یہ اشارہ کر رہ ہیں کہ فرقہ پرست اقتدار جماعت اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلے کسی بھی طرح کمپرومائز نہیں کرنا چاہتی ہیں چاہے انصاف کا قتل کرنا بڑے یا آئین کی دھجیاں اڑائی جائے۔ یا قومی دھارے کو ہی بھگوا کردیا جائے۔ تاکہ نا اس پر کوئی ایکشن لے سکے نا کوئی آواز بلند کر سکے۔ انصاف کی بات کرنے والوں کو خاموش احتجاج کر رہے طلباء و طالبات پر لاٹھی چارج کی جارہی ہیں۔ ان پر آنسوں گیس کی گولے داغے جارہے ہیں۔ پولس بدترین ظلم بے قصور عوام پر کر رہی ہیں۔ نا ان لوگوں نے ابتک قانون کے خلاف ورزی کی ہیں نا ہی آئین کی پامالی کی ہیں وہ اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بل کسی بھی طرح سے فائدہ مند نہیں ہے۔ اور آرٹیکل 14,15 اسی طرح آرٹیکل 13 کے خلاف ہیں۔ آج پورے ہندوستان میں جگہ جگہ بل کی مخالفت میں ال کو جلایا جا رہا ہے۔ احتجاج کیے جارہے ہیں۔ لیکن حکومت اپنے اقتدار کا ناجائز استعمال کرکے بے گناہ کو جیلوں میں بند کر رہی ہیں، یہ سراسر انصاف کا قتل ہے۔ یہ آئین ہند کے خلاف ورزی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اسی طرح دیوبند، وغیرہ میں طلباء و طالبات میدان میں اتر چکے ہیں اور اپنی بات حکومت کی سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں روک دیا جارہا ہیں ان پر زیادتی کی جارہی ہیں۔
لیکن یہ بات ضروری ہیں کہ اس بل کو واپس لینے کیلے حکومت کو مجبور کردیا جائے۔ ورنہ آنے والی نسلوں کا مستقبل ملک میں محفوظ نظر نہیں آتا۔ جس کی فکر آج ہر انصاف پسند شخص کو ہورہی ہے۔ یہ ملک دوبارہ تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ پھر سے پھوٹ ڈالوں اور حکومت کروں کی پالیسی کو اپنایا جارہا ہیں ان کی اس ناجائز پالسی کو پاش کرنے کیلے تمام کو آگے آنے کی ضرورت ہیں اور جو افراد احتجاج کر رہے ہیں انکے قدم سے قدم ملانے کی ضرورت ہیں ورنہ کل کو تمہارے ساتھ پھر کوئی کھڑے نہیں ہوگا۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close