مضامین و مقالات

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے کارناموں کی ایک جھلک(مفتی حسین احمد ھمدم)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے کارناموں کی ایک جھلک
(مفتی حسین احمد ھمدم)

جن کا ہر کارنامہ یہ کہنے کو مجبور کردے کہ:

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جااینجا ست ایسی عظیم اور عبقری شخصیت کا نام ہے مسندالہند حکیم الامت حضرت قطب الدین احمد المعروف بشاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ (پ21فروری 1703ء۔ م 20اگست 1762)
بلاشبہ شاہ صاحب رح کا ہرکام ایسا کارنامہ ہے کہ اگر صرف وہی ایک کام ہوتا تب بھی ان کی عظمت وجلالت کے لئے کافی تھا، لیکن ان کی ذات سے حق تعالی و جل مجدہ نے متعدد ایسے کارہائے نمایاں لئے کہ جنمیں سےہراک کام یقینی طورپر آپ کا خاص میدان محسوس ہوتا ہے اورآپ اس کے موجد ومجتہد معلوم ہوتے ہیں ۔
مثلا: (۱)علم صحیح کوعام کرنے کے لئےسب سے پہلے قرآن پاک کا فارسی ترجمہ "فتح المنان” لکھنا، جس کی وجہ سے آپ کے قتل کی سازش تک ہوئ کہ قرآن کاترجمہ (نعوذباللہ) کفر ہے ، جبکہ آج دنیاکی تمام مشہور زبانوں میں ترجمۂ قرآن دستیاب ہے اور پوری دنیامیں پیغام الہی کو سمجھنے میں آسانی ہورہی ہے حالانکہ ایک وقت وہ بھی آگیاتھا جب اہل ھند منطق وفلسفہ کے امام ہوتے تھے لیکن قرآن کی ایک آیت کاصحیح علم نہیں رکھتے تھے اور حدیث میں مشکوہ سے آگے کچھ نہیں جانتے تھے جیسا خواجہ نظام الدین اولیاء کےمناظرے سے بھی پتہ چلتاہے ۔
(۲) سب سے پہلے علم صحیح کو عام کرنے کے لئے باضابطہ صحاح ستہ کےدرس کاآغاز ہندوستان میں حضرت شاہ صاحب نے فرمایا جو بعد میں دورۂ حدیث کے عنوان سے برصغیر کے دارالعلوموں میں رواج پایا اور تمام اصحاب حدیث کا علمی سلسلہ شاہ صاحب سے ہوکر آگے بڑھتا ہے خواہ وہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو ،اسی وجہ سے شاہ صاحب رح کو "مسند الھند” بھی کہا جاتا ہے۔
(۳) فقہی اختلافات کی اصل وجوہات کو واضح کرتے ہوئے اتحاد امت کی مضبوط علمی وفکری بنیادیں فراہم کرنے کے لئے”الانصاف فی بیان سبب الاختلاف”…….
(۴) اپنے موضوع پر بالکل نئی الہامی تحقیق اورانوکھاعلمی شاہکار "حجتہ البالغہ” جس میں شرعی احکام کے اسرار ورموز کو معقول اورسائنٹفک ثابت کرکے دین وشریعت کو آئندہ کے سینکڑوں سال کے اندرپیدا ہونے والے ہزاروں قسم کے حالات کے مقابلے مضبوط کردیا گیا:
ایں سعادت بزور بازو نیست۔
(۵) اسلامی نظام سیاست کی رحمت ،حکمت اورعالمگیریت کی وضاحت ، نیز شیعہ سنی اختلافات اور فضیلت شیخین کے مسئلے کی وجہ سے بڑھتے ہوئےخلیج کوپاٹنےکیلئے خالص علمی اورتحقیقی کارنامہ "ازالتہ الخفا ء عن خلافتہ الخلفاء”….
(۶)بے شمار ایسے رسائل ومکتوبات جن میں ہر رسالہ مجتہدانہ شان کی مثال اورایک ایک رسالہ اور مکتوب کئی کئی ضخیم جلدوں کے برابر۔۔۔۔۔
(۷) ہرفن اورکام کے لئے رجال سازی کا کارنامہ ۔۔۔
(۸) زوال پذیر اسلامی حکومت کی کمزوری کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے والے کفار کےظلم سے مسلمانوں کی حفاظت کےلئے شاہ افغانستان احمد شاہ ابدالی کی کامیاب ذہن سازی اور پانی پت کی تیسری لڑائی میں کفار کی شکست۔۔۔۔۔۔
(۹) انگریزوں کے بڑھتے تسلط کے خلاف جذبۂ حریت اور جہاد آزادی کا بیج بونا ۔
(۱۰). امت کے ہر طبقے میں درآنے والی خرابیوں کا پردہ چاک کرنا، اور حکمراں، لشکری، علماء، طلباء، فلاحین، تجار، مزدوری پیشہ غرض ہرطبقے میں موجود افراط وتفریط کی نشاندہی اور دلسوزی کے ساتھ انہیں اپنا مخاطب بناکر اصلاح امت کا عظیم الشان کارنامہ۔۔۔۔۔
یہ بس چند نمونے ہیں شاہ شاحب رح کے کارناموں کے بطور: مشتے نمونہ از خروارے
ورنہ پوری تفصیل تو میں تقریبا تین سال سے لکھنے کی کوشش کررہاہوں ہوں لیکن قلم حیران ہوکر رہ جاتا ہے کہ کس کس کام کو احاطۂ ذکر میں لاؤں ؟
کس کام کو سب سےبڑا کارنامہ لکھوں؟
کیا پہلے بیان کروں کسے بعد میں رکھوں؟
ان کی زندگی اور کارناموں کا مطالعہ قوم مسلم کے لئے علاج زوال کا ایک بہترین نسخہ ہے، اگر آپ کے پاس وقتی شہرتوں کے پیچھے بھاگنے سے کچھ فرصت ہو۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close