مضامین و مقالات

اللہ کی حاکمیت تسلیم کئے بغیر کوئی راہِ نجات نہیں ……! محمد مجتہد اعظم ندوی

محمد مجتہد اعظم ندوی
رابطہ نمبر: 7301664044
وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون (القرآن)
ارشاد ربانی ہے کہ ہم نے ثقلین (انسان و جنات) کو محض اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔ یعنی خدا کی عبودیت و وحدانیت کا اقرار ہی ہم انسانوں کا فرض منصبی ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا کے اکثر انسان اس بات سے ناواقف ہیں کہ ان کی پیدائش کا کیا مقصد ہے اور ان کو اس فانی دنیا میں جس کو کچھ بھی قرار نہیں کیا کرنا چاہئے؟ اکثر لوگ اپنی زندگی کا واحد مقصد کھانا، کمانا اور عیش پرستی میں مصروف رہنا ہی سمجھتے ہیں۔ اس کے ماسوا اس کے لئے کوئی مقصد حیات نہیں۔ یہ لوگ دنیا میں اپنی من مانی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا انکار کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صاف لفظوں میں فرمایا ہے: بیشک تمام معاملات اللہ کی ہی قبضہ قدرت میں ہے بندوں کو صرف اتنا ہے ہی اختیار ہے کہ وہ خدائے واحد کی دی ہوئی نعمتوں کو برتے اور ان کے شکرانہ میں ہمیشہ خدائے رب واحد کے دربار میں تسلیم ِنیا زخم رکھے اور سکی غیر کی اتباع و پیروی کو اپنے اوپر سراسر حرام سمجھے۔ کیونکہ بندوں کی زندگی گزارنے کا صحیح راستہ اللہ کی حاکمیت و ربوبیت کا اقرار ہی ہے اور آیت کریمہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ کے لئے وقف کردے اور اپنے ہر کام میں اللہ کی مرضی و خوشنودی کا طلب گار ہو، وہی ہمارا معبود حقیقی ہے۔ اسی نے دنیا اور ماسوائے دنیا کو وجود بخشا، وہی مختار کل ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ مرنے کے بعد اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے کئے اعمال کا حساب دینا ہے۔

اس لئے جو شخص اس حقیقت سے واقف ہیں اور جس کے دلوں میں خدا کا خوف غالب ہے وہ اپنی دنیوی زندگی کو آخرت کے تابع کردیتے ہیں اور اسے اس راہ میں جو بھی مشکلات پیش آتے ہیں وہ اسے برضا و رغبیت برداشت کرتے ہیں۔ مگر اس کے برعکس جو شخص خدا کی حاکمیت کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ اپنے قول وعمل کے ذریعہ چیلیج کرتے ہیں اور ہزار ہاں بدعات و خرافات کو جائز اور لائق صلاح و فلاح سمجھتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ موت اس کا پیچھا کر رہی ہے اور جس نے اس کو پید اکیاہے وہ ان پر انگنت احسانات کئے ہیں وہ ان سے ان کی پوری زندگی کا حساب لے گا۔ مگر اس دن اس کے لئے سوائے افسوس اور پچھتاؤے کے کچھ نہ ہوگااور اس دن پچھتانا اور افسوس کرنا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔
لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے راہِ نجات ہو اور ہم عقوبتِ الٰہی سے بچ جائیں .

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close