مضامین و مقالات

منشیات سے نجات اور اجتناب کی تدابیر : محمد مجتہد اعظم ندوی

محمد مجتہد اعظم ندوی
رابطہ: 7301664044
کرۂ ارض آج منشیات کے حصار میں ہے۔ جہاں جہاں تہذیب نو موجود ہے ممکن نہیں کہ وہاں نشہ آور اشیاء موجود نہ ہوں۔ بالخصوص نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے بے پرواہ ہو کر تیز گامی کے ساتھ اس زہر ہلاہل کو قند سمجھ رہی ہے اور کھلے عام اس کا استعمال کر رہی ہے۔ دنیا میں پانچ سو سے زائد ایسے مرکبات و مفردات ہیں جنہیں بطور نشہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں سے معروف نام شراب، بھنگ، چرس گانجا، افیون، سگریٹ، حقہ اور ان کے مشتقات ہیں۔ موجودہ ایام میں انسانوں نے نئے نئے اقسام کے نشے ایجاد کر لئے ہیں۔
منشیات کے معنی اور تعریف: منشیات (Narcotic) ایک عام لفظ ہے جس کے مختلف تعریفات کی گئی ہیں۔ قومی انگریزی اردو لغت میں اس کے لغوی معنی نشہ آور چیز، خواب آور چیز بیان کئے گئے ہیں اور اصطلاحی معنی یہ بیان کئے گئے کہ منشیات ایک مادہ ہے جو درد دور کرتاہے اور نیند لاتا ہے اور جس کا زیادہ مقدار میں استعمال بے حسی اور سکتہ طاری کرتاہے یہاں تک کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ (بحوالہ قومی انگریزی اردو لغت ڈاکٹر جمیل جالبی)
منشیات کیا ہے؟ منشیات ایک میٹھا زہر ہے، جو انسان کو دنیا و مافیہا سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کا استعمال کرنے والا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں کی بدمست جنگل میں مست الست کا عارضی الاگ الاپتا ہے۔ منشیات اپنے شکار کو اپنے دام فریب میں کچھ اس طرح پھنساتی ہے کہ پہلے پہل نشہ اس کی تفریح اور بعد ازاں ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کی تلاش میں زندہ رہنے کی جستجو اور زندہ رہنے کے لئے نشے کی آرزو اس کا مقصد ِ حیات بن جاتا ہے اور پھر منشیات کا عادی اس دردناک کرب میں مبتلا ہو کر ہر لمحہ موت کے قریب تر ہوتا رہتا ہے۔ منشیات انسانی عقل و فہم میں فتور پیدا کرتاہے، حالانکہ عقل ایک قیمتی جوہر ہے، انسان جب عقل و شعور کھو دیتا ہے تو وہ اپنے حیوانات و جمادات کے درمیان فرق نہیں کر پاتا نیز وہ انسانیت کے دائرہ سے نکل کر جرم و بے حیائی کا ایسا لبادہ اوڑھ لیتا ہے کہ پھر اس میں اور حیوانیت میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔
اس میں شک نہیں کہ عقل خیر و شر میں امتیاز کا ذریعہ ہے اس لئے جو چیز اس قوت امتیاز پر پردہ ڈال دے وہ حرام ہے کیونکہ جب عقل پر پردہ پڑجائے تو بندہ ان فرائض کے خیال سے غافل ہو جاتا ہے جن کی ادائیگی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی صلاحیت کی قدو قیمت کی وجہ سے شراب جیسی تمام نشہ آواز چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔
نئی نسلوں میں منشیات کا بڑھتا رجحان اور اسباب : یہاں بوڑھوں اور عمر رسیدہ افراد میں منشیات استعمال کرنے کی وجہ و سبب بیان کرنا میرا مقصد نہیں بلکہ ہماری وہ نوجوان نسلیں ہیں جو منشیات جیسی مہلک و مضر بیماری کا شکار ہیں کہ کس طرح اکثر بچے اور نوجوان، والدین کی غفلت اور ان کی سر درویہ کی وجہ سے نشے کی لت کا شکار ہوجاتے ہیں اور بعض دفعہ تو غلط صحبت کا اثر انہیں لے ڈوبتا ہے۔ بعض اوقات مسائل سے چشم پوشی اور حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لئے بھی نشہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوجوان نسل فیشن کے طور پر سگریٹ نوشی یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال شروع کرتی ہے پھر یہ شوق وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور اس طرح انسان مکمل طور پر نشے کا عادی بن جاتا ہے۔
معاشرہ میں منشیات اور دیگر فواحش کے فروغ کی بنیادی وجہ مغرب کی اندھی نقالی اور اس کی ذہنی و فکری غلامی ہے۔ اسلام کا مکمل علم نہ ہونے، اپنے دینی تعلیمات پر بصیرت و اعتماد نہ ہونے اور روح کے بجائے مادے کو ترجیح دینے کے مزاج کی وجہ سے امت ی اکثریت مغرب کے مادر پدر آزاد تہذیب اور منکرات سے لبریز کلچر کی اندھا دھند نقالی اور غلامی کررہی ہے۔ اسی مغرب پرستی نے ہمارے سماج میں دیگر لعنتوں کے ساتھ منشیات کی لعنت کو بھی پروان چڑھایا ہے اور یہ خمار اس وقت تک نہیں اترے گا جب تک نقالی اور غلامی کا مزاج ختم نہ ہوجائے۔ یہاں یہ بات بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ شراب ”مشروب مغرب“ ہے۔ تمباکو امریکہ اور یورپ والوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ افیون سے اخذ کی جانے والی ان تمام بلاؤں کی ایجاد کا سہرا بھی تقریباً امریکہ کے سر ہے اور اسی نے دنیا کو ان سے متعارف کروایا ہے اور جس کی اندھی نقالی میں پوری دنیا ملوث ہے۔

منشیات کا استعمال شریعت مطہرہ کی نظر میں: اسلام دین فطرت ہے اور مکمل ضابطہ حیات بھی۔ قانون قدرت کا اصولی فلسفہ ہے”فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا“ چنانچہ اسلام نے زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور بنی نوع انسانی کی زندگی کے نشیب و فراز پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ خداوند تعالیٰ نے انسان کو عارضی دنیا میں بھیج کر اچھے بُرے اعمال کی نشاندہی کردی ہے وھدیناہ النجدین“ کی دلالت قطعیہ سے بھی ثابت ہے اور پھر یہ کہ انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا گراں قدر عطیہ اور اس کی انمول نعمت ہے جس کی قدر و قیمت ہر فرد بشر پر عیاں ہے اور اس کی حفاظت ہر ہوش مند آدمی پر واجب ہے۔ اگر وہ اس کی ناقدری کرتے ہوئے اسے ضائع کرتا ہے یا اس کی حفاظت سے روگردانی کرتا ہے تو یہ اس نعمت کے ساتھ ناانصافی اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت کے مرادف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا حکم دینے کے ساتھ اس کی زیاں پر سخت نکیر و و عید ِ شدید سنائی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: ”اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے اور جو شخص یہ (نافرمانیاں) سرکشی اور ظلم کرے گا تو عنقریب ہم اس کے کو آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پر آسان ہے۔“ (سورہ النساء) ایک اور مقام پر فرمان الٰہی ہے: ”اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔“ (البقرہ)
ذرا غور کریں آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے شراب کو حرام قرار دیا تھا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ”کل مسکر حرام“ اور آج چودہ سو سال بعد سائنس اسی نتیجہ پر پہنچ پائی ہے کہ نشہ انسان کی صحت کے لئے زہر قاتل ہے۔
بایں طور اسلامی تعلیمات کی رو سے منشیات سے پرہیز لازم ہے۔ قرآن و حدیث میں ان کے استعمال سے سختی سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ”اے ایمان والو! شراب اور جوا، بت اور پاسہ (یہ سب) شیطانی عمل ہے سو تم ان سے بچتے رہو تاکہ تم (دنیا و آخرت میں) نجات حاصل کرسکو۔“
ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے : ”شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہاری آپس میں دشمنی اور رنجش پیدا کردے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے۔ لہذا تم کو چاہئے کہ تم اپنے آپ کو ان اعمال بد سے روکے رکھو۔“

احادیث کی کتابوں میں بھی منشیات کی حرمت کے بارے میں بکثرت روایات موجود ہیں۔ ارشاد نبوی ؐ ہے:
(۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں شراب پیتا ہے اور اسی حالت میں مرتا ہے اور توبہ نہیں کرتا تو وہ اگلے جہاں میں اسے نہیں پئے گا(یعنی اسے جنتی شراب سے محروم رکھا جائے گا۔)“
(۲) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جو چیز بڑی مقدار میں نشہ دیتی ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔ (ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ)
(۳) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ اور مفتر (اعضاء کو بے حس کرنے والی)چیز سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد)
(۴) حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی والدین کی نافرمانی کرتا ہے، جوا کھیلتا ہے، صدقہ دینے میں سختی کرتا ہے اور شراب کا عادی ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (دارمی)
اس کے علاوہ متعدد احادیث میں منشیات کی ممانعت آئی ہے اور ان کی قباحت بیان ہوئی ہے۔ محققین اور علماء کرام نے بھی منشیات کے بُرے اثرات پر دنیاوی و مذہبی نقطہ نظر سے روشنی ڈالی ہے۔
عالمہ ابن حجر ؒ نے کئی محققین سے حشیش استعمال کرنے کے ۱۰۲ دنیاوی اور روحالی نقصانات دریافت کئے ہیں۔
ابن سینا کہتے ہیں ان کی بڑی مقدار منی کو خشک کرتی ہے اور اس طرح آدمی کے جنسی جذبہ کو ختم کردیتی ہے۔
ابن بیطار کہتے ہیں کہ لوگوں کے ایک گروپ نے منشیات کے استعمال کیا اور پاگل ہوگئے۔
ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں جو نقصانات شراب میں شامل ہیں اس سے زیادہ حشیش میں شامل ہیں، کیونکہ شراب کے اکثر نقصانات دین کو متاثر کرتے ہیں، مگر حشیش دین اور جسم دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
منشیات کے طبی وسماجی نقصانات: تدارک اور علاج سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ یہاں ان کے نقصانات کا بھی مختصراً ذکر کیا جائے۔
٭ منشیات سے استعمال سے جسم میں خون کے سرخ ذرات کم ہوجاتے ہیں اور جسم انتہائی کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے۔
٭ کندھے کے نیچے بغل میں یا گردن غدود بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
٭ بار بار نشہ کے انجکشن لگوانے سے نبض کی رفتار سست پڑجاتی ہے نیز شریانوں میں سوزش اور ورم ہونے لگتا ہے۔
٭ جسم میں رعشہ اور لرزش پیدا ہوجاتی ہے۔
٭ آنکھوں کی چمک دمک ختم ہوجاتی ہے، کچھ نشوں سے آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں۔
٭ دانتوں کی حالت خستہ ہوجاتی ہے اور بعض اوقات دانت بوسیدہ ہو کر گر جاتے ہیں۔
٭ ہر نشہ آور غذا، دوا یا انجکشن گردوں اور ان کے نالیوں میں نقص اور درد پیدا کرتا ہے۔
٭ نشہ کی زیادتی بالآخر مردوں میں ضعف باہ، سرعتِ انزال اور نامردی اور عورتوں میں ترک خواہش کا باعث بنتی ہے۔
٭ معدہ اور آنتیں زخمی ہو جاتی ہیں اور ان کا السر کسی بھی وقت کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
٭ ہیروئن کا نشہ کرنے والا شخص ہر ۳-۲ گھنٹہ بعد انجکشن کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کے حصول کے لئے ہر نیچ سے نیچ حرکت پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ سماجی برائیوں کا مرتکب ہو جاتا ہے۔
اسی طرح منشیات کے استعمال کے بہت سارے سماجی نقصانات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، ان میں سے چند اہم سماجی نقصانات درج ذیل ہیں:
٭شراب و دیگر منشیات کا شکار غریب طبقہ اپنے بال بچوں کی پرواہ کئے بغیر اس بُری لت کے شکار ہوتے ہیں، نتیجتاً غریبی و مفلسی اور دیگر مہلک بیماریاں انہیں گھیر لیتی ہے۔ اس طرح سے بچے بے سہارے اور یتیم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ امیر زادے پر تواس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں ملتا۔
٭ شراب اور دیگر منشیات کا شکار شخص نشہ کی حالت میں کچھ اس طرح بدمست ہو جاتا ہے کہ اسے کسی چیز کی تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اب چاہے وہ نالی ہو یا قومی شاہراہ۔ وہ مانند زندہ لاش کے شڑکوں، میدانوں اورنالوں میں ہی تخت شاہی کے مزے لوٹتا رہتا ہے۔
٭ شراب و دیگر منشیات کے استعمال کے نتیجہ میں خاندانی نظام میں بکھراؤ پیدا ہو جانا عام بات ہے۔ اکثر آپس میں ناچاقی کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی طرح منشیات کے شکار طبقہ میں شرح طلاق میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
منشیات کے بڑھتے رجحانات اور اس کے سبب رونما ہونے والے جسمانی نقصانات کو دیکھتے ہوئے آج سے تقریباً نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی ”تم شراب کی آدھی دکانیں بند کردودو، میں تمہیں آدھے ہسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کو بند ہونے کی ضمانت دیتا ہوں۔
المختصر منشیات سے بچاؤ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ان سے احتراز لازمی ہے۔ یہ لوگوں کے زندگیوں کو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی طور پر تباہ کردیتی ہے۔ آج اقوام متحدہ پوری دنیا میں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے، کہیں منشیات کے خلاف ہفتے اور مہینے منائے جاتے ہیں اور کبھی پورے سال کو منشیاتکے خاتمے کا سال قرار دیا جاتا ہے۔ بے شمار ہسپتالوں میں اس کے علاج کے مراکز بھی قائم ہیں۔ ہم مبارک باد پیش کرتے ہیں موجودہ حکومت بہار کو جنہوں نے منشیات کے روک تھام کے لئے حتی الامکان کوشش کی ہے اور کڑے سے کڑے اقدامات کئے ہیں۔ مگر افسوس کہ ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ کے مصداق یہ لعنت مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور کمی کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے۔
ذیل میں ہم اسلامی تعلیمات اور طبی نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے منشیات کا تدارک کرنے کے لئے چند تدابیر درج کئے دیتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ اس پر عمل کرنے سے منشیات کے استعمال میں معتد بہ کمی ہوسکتی ہے۔
٭ حکومت سے گزارش کریں کہ وہ منشیات کے روک تھام کے لئے مستقل بنیادوں پر پالیسی وضع کرے۔ دور رس نتائج و اثرات کے حامل اقدامات کرے اور منشیات کے کثرت کی اصل اسباب کے تدارک کی فکر کرے اور محض وعظ و تلقین، افہام و تفہیم پر اکتفا نہ کرے بلکہ سخت سے سخت ترین اقدامات کئے جائیں۔
٭ والدین اور بچوں کے سر پرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اور نگرانی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں اور انہیں دینی تعلیمات، بالخصوص منشیات کے استعامل کے نقصانات و عواقب سے ضرور آگاہ کریں۔
٭ میڈیا اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد پر لازم ہے کہ وہ بھی اس سیلاب بلاخیز کو روکنے کے لئے اپنی اور اپنے ذرائع ابلاغ کی حیثیت کو مکمل طور پر استعمال کریں۔ کسی ٹی وی پروگرام یا ڈرامے وغیرہ سے ذریعے سے حتیٰ کہ بین السطور میں بھی یہ پیغام نسل نو کی طرف نہیں جانا چاہئے کہ وہ منشیات میں کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار کریں۔
٭ تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو چاہئے کہ قوم کے بچے اور بچیاں، ان کا کردار اور ان کا مستقبل ان اداروں اور اساتذہ کے پاس امانت ہوتا ہے، اس کی مکمل پاسبانی کا اہتمام کریں اور کوئی ایسا چور دروازہ باقی نہ رہنے دیں جہاں سے کسی کے بچے یا بچی کو نشے کی لت پڑسکے۔
اور سب سے اہم اور بھاری ذمہ داری امت محمدیہ کے فکر ارجمند اور دل دردمند رکھنے والے غیور و باہمت افراد پر عموماً اور حضرات علماء کرام پر خصوصاً عائد ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ کے فضل و کرم سے علماء کا تمام دینی اور سماجی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے۔ لوگ ان کی بات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ لہذا علماء کرام کو چاہئے کہ وہ اسے دینی فریضہ سمجھتے ہوئے اپنے حلقہ اثر کے مدارس و علماء، عوام الناس اور منبر و محراب کو اس لعنت سے چھٹکارے کے لئے استعمال فرمائیں اور عوام الناس کا رشتہ دین و شریعت سے استوار کریں، کیونکہ دین کے ساتھ جتنا گہرا تعلق ہوگا، جتنا دین کا فہم انسان کے اندر ہوگا اتنا ہی وہ لغویات، لہو و لعب اور منشیات سے محفوظ رہے گا۔ اس لئے کہ اس قوم کو ان لعنتوں سے بچانا ہے تو اس کا رخ دین کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے خود بخود ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ لیکن اگر ہمارے عصری تعلیمی اداروں، تفریح گاہوں، نائٹ کلبوں میں آج منشیات کے استعمال پر قد غن نہیں لگائے گئے تو یہ بھی ادارے صرف نام نہاد مراکز ہی نہیں بلکہ معاشرہ کے لئے قتل گاہیں ہیں۔ آوارگی اور بدچلنی کے گڑھ اور سیکولرزم کے نام پر تجارت چمکانے کی دکانیں ہیں۔
آخری بات یہ کہ قرآن و سنت کی تعلیم عام کریں ان ہی کے ذریعہ سے منشیات کی نفرت سمجھتے ہوئے ان کا سوشل بائیکاٹ کریں، ساتھ ہی ساتھ اپنے بھائیوں، اپنے ملک و شہر کے باشندوں کو عموماً اور مسلمانوں کی حرمتوں کی غیرت رکھنے والے سبھی حضرات کو خصوصادعوت دیتے رہیں کہ منشیات کے خلاف جو بھی، جہاں کہیں بھی کوئی تحریک چلا رہا ہے، یا سماج سدھار کی کوئی اسکیم لارہا ہوتو ہم سب امن و امان کے ان ذمہ داروں کو اپنا تعاون پیش کریں۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close