مضامین و مقالات

کچھ تو سوچ ہے ! فتح محمد ندوی

جمہوریت اور شخصی نظام بلکہ تانا شاہی کے درمیان میں جو دیواریں سب سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہیں ان میں عدلیہ کو اولیت حاصل ہے گویا جمہوری نظام کا راستہ عدلیہ سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔ اگر اس راستے پر لوگ خوف ڈر یا کسی اور وجہ سے چلنا چھوڑ دیں تو جمہوری نظام خود بہ خود ختم ہو جائے گا۔جمہوری ملکوں میں جب عدالتیں طرفدار کا شکار ہونے لگتی ہیں تو اقلیتوں کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کا ایمان عقیدہ تہذیب و تمدن بھی متاثر ہونے بغیر نہیں رہتا۔ یہ ایک قطعی اور مسلم ضابطہ ہے کہ وہ نظام۔ تہذیب اور کلچر جن کو سرکاری سرپرستی حاصل ہو جاتی ہے ان کو دوسری تہذیبوں اور نظام حیات کو پچھاڑ کر آگے بڑھ نا آسان تر ہوجاتا ہے۔
ہندوستان کے مسلمانوں نے آزادی حاصل ہونے کے بعد تمام میدانوں میں کسی نہ کسی درجے میں کام کیا ہے۔ لیکن دو میدانوں میں ان سے بڑی چوک اور غلطی واقع ہوئی۔ ایک دعوت اور دوسری اہم چیز سیاست کو مسلمانوں نے بہت کم اہمیت دی بلکہ آج تک غفلت کا شکار ہیں۔ اس کے برعکس دوسری معاصر قوموں نے جہاں اپنی قوم میں دوسرے فلاحی کاموں میں ذمہ داری کے ساتھ کام کیا ہے وہیں سیاسی سوچ اور کام پر سو فیصد سرگرمی کا مظاہرہ پیش کیا ہے۔ آج یہ اسی کا نتیجہ ہے جو آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم ایک بیماری میں ہمیشہ مبتلا ء رہیں ہیں کہ جو کام ہم کر رہیں وہی حرف آخر ہے اس کے علاوہ ان کا دعویٰ یہ بھی رہاکہ فراست بس ہم ہی کو حاصل ہے باقی سب بصارت اور بصیرت سے دونوں سے محروم ہیں۔ اس گمان میں وہ مزید اضافہ اپنی ماضی قریب کی تابناک روایت کو بیان کرنے پر کرتے رہے وقتاً فوقتاً اس کو اتنی اہمیت دی کہ دوسرے مسائل پیچھے چلے گئے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close