مضامین و مقالات

آہ! آج تیری وہ جنت نشانی،جوشاید کہیں اب دم توڑ گئی ہے!تحریر :✍️ وزیر احمد مصباحی (بانکا)

 آہ! آج تیری وہ جنت نشانی، جو شاید کہیں اب دم توڑ گئی ہے 
تحریر :✍️ وزیر احمد مصباحی (بانکا) رکن ____ تنظیم حافظ ملت اسلامیہ رابطہ نمبر :  6394421415 


      کہتے ہیں کہ جب کبھی سماج و معاشرے میں کسی انسان کے اندر اعتماد و ایقان کے حوالے سے درست آثار و قرائن کے اثرات دکھنے لگ جاتے ہیں اور اس کی طرف سے ہر دکھ و درد میں مدوا بن کر کسی مسیحائی بھیس میں ظاہر ہونے کی ساری ممکنہ راہیں مسدود ہونے کے بجائے واشگاف ہونی لگتی ہیں تو پھر کوئی بعید نہیں ہے کہ ایسوں کی ذات پہ کوئی بھی شخص اعتماد کر لے. فطرت انسانی بھی کچھ یوں ہی واقع ہوئی ہے کہ آدمی اپنے حق میں خیر خواہ نظر آنے والے کسی بھی شخص پر تکیہ ڈال دیتا ہے. چاہے وہ اپنے وقت کا کوئی غریب سے غریب یا پھر انتہائی درجے کا امیر ہی کیوں نہ ہوں.      میرے اپنے خیال کے مطابق شاید آج سے ٧٠،٧٢/سال قبل تقسیم برصغیر کے وقت جموں و کشمیر کے حکمراں راجہ ہری سنگھ نے بھی وطن عزیز "ہندوستان” اور اس وقت کے کاریکرتاؤوں کے اندر بھی شاید یہی وہ خواب ( برے وقت میں ساتھ آنے و شانہ بشانہ چلنے کا) دیکھا تھا کہ جس نے اولاً نہ سہی، آخر کار اسے کسی طرح اس بات پر آمادہ ہی کر دیا کے وہ ملکِ پاکستان کے بجائے ہندوستان کے ساتھ انضمام کر لے،اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے انڈیا کے ساتھ مشروط طور پہ الحاق کر لیا . اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہندی دستورِ اساسی میں غالباً وہاں کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی پانچ ماہی مشاورت و تصویب کے بعد سن 1947ء ہی میں دفعہ 370، نافذ کیا گیا اور اس کے تحت جمو و کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہوا. یہ ایک ایسا آرٹیکل تھا جس کی رو سے بھارتی آئین وہاں کی سرکار پہ نافذ نہیں ہو سکتی تھی. اسی کے رو سے وہاں آر ٹی آئی بھی نافذ نہیں ہو سکتی تھی. پھر کچھ سالوں بعد سن 1952ء میں ایک صدارتی حکم نامہ کی بدولت آرٹیکل 35A نافذ کی گئی، جس کے تحت کشمیریوں کو بھی حقوق و مراعات ملے. اس کے تحت یہ باتیں بھی درج کی گئیں کہ جو شخص وہاں کا باشندہ نہیں ہوگا وہ وہاں زمین خرید کر مستقل سکونت اختیار نہیں کر سکتا ہے یوں ہی سرکاری اداروں میں پیشہ ملازمت سے منسلک ہونے میں کشمیری عوام ہی ہوں گی. ساتھ ہی ریاست کو اپنا آئینی نظام مرتب کرنے اور الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا. در اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں آرٹیکل مرکزی حکومت اور ریاست جمو و کشمیر کے گونا گوں تعلقات کے خد و خال کا تشخیص و تعین کرتا ہے.      یہ دونوں آرٹیکل پاس ہو جانے کے بعد وہاں کی جنتا نے بھی اسے بڑی خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیا. انھوں نے انڈیا کے ساتھ رہنے میں اپنے لیے سلم و سلامتی کے سنہرے خوب بھی دیکھے اور خوب خوب محنت و جتن کر کے ملک و قوم کی فلاح و بہبود میں جُٹ گیے. ایک تو کشمیر کے حصے میں شامل مناظر قدرت کی فیاضیاں ہمیں یوں ہی کارخانہ قدرت کی کرشمہ سازیوں سے آشنا کراتی ہیں تو وہیں دوسری طرف انڈیا کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہاں بھرنا اور راجہ ہری سنگھ کے ذریعے دوستی کا ہاتھ بڑھانا وہاں کے عوام و حکومت کی پختہ یقینی و اعتمادی کو خوب خوب اُجاگر کرتے ہیں. قدرت نے کشمیر کو پہاڑیوں، جھرنوں، وادیوں، سمندروں، ندی نالوں، اور رنگ برنگ پھول پتیوں کے ذریعے جو حسن و جمال بخشا ہے، وہ اپنے آپ میں بڑے ہی کمال و خصوصیات کے حامل ہیں. لوگ دور دور سے وہاں بغرض سیر و تفریح کھینچے چلے آتے ہیں. خاص کر ان دنوں میں جب کہ انڈیا کے اور دوسرے حصوں میں شدید گرمیاں پڑ رہی ہوتی ہیں، وہاں کی معتدل آب و ہوا اور فضائے دلربا بوجھل طبیعتوں کو نشاطگی و سرور کی کچھ اور ہی چاشنی عطا کرتی ہیں.سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں میں سیاحوں کا منظر بھی بڑا دیدنی ہوا کرتا ہے. جی ہاں! سیب کی پیداوار نے تو اس کی اہمیت میں چار چاند ہی لگا دی ہے. شاید کشمیر کے حصے میں یہی وہ گونا گوں کمالات و خصوصیات ہیں کہ جس نے اسے پوری دنیا میں "جنت نشان” ہونے کا اہم شرف بخشا ہے. یہی سب دیکھتے ہوئے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے سچے بہی خواہ اور اردو کے ایک بہت ہی مشہور شاعر امیر خسرو نے تو اس حوالے سے اپنا خیال اس پیرائے میں بیان کیا ہے کہ یہ شعر” جنت نشان کشمیر” کی  شناخت بن گیا ہے. کہتے ہیں __ 

        اگر فردوس بروئے زمین است    

  ھمیں است و ھمیں است و ھمیں است

 جی، اس شعر کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ” اگر روئے زمین پر جنت کہیں ہیں تو وہ یہیں ہے، یہیں ہے اور صرف یہیں ہے”. مگر افسوس کہ آج یہی کشمیر جو کبھی ایشیا کا سویٹزر لینڈ کہا جاتا تھا آج وہ برما و فلسطین کی قالب میں ڈھل چکا ہے. غالباً پچھلی تین دہائیوں سے یہاں ظلم و ستم و خون خرابہ کا ماحول گرم ہے. ہر آئے دن یہاں کے نہتھے باشندوں کو مشق ستم بنایا جاتا ہے،ایک آدمی کو گھر سے لے کر آفس تک یہی دہشت ستاتی ہے کہ کہیں کوئی صورت ناگہانی نہ پیش آ جائے. حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہاں کے عوام نے دشمنوں سے دفاعی تدابیر اختیار کرنے میں حکومت ہند کی ہر موڑ پہ ساتھ دیا ہیں. جب بھی چین یا پڑوسی ملک سے کوئی خطرے کی گھنٹی بجتی ہے تو یہی وہ کشمیری عوام ہوتے ہیں جو وہاں کے فوجی دستوں کو سب سے پہلے آگاہی دلاتے ہیں. بس یہی جان کر کہ کہیں یہ ہماری تغافلی و تساہلی قوم و ملت کے حق میں مضر نہ ثابت ہو جائے. تاریخِ کشمیر پڑھیے تو ان حقائق سے پرت کے پرت کھلتے جائیں گے.آج جب میں  آرٹیکل 370 کے کالعدم قرار دے دیئے جانے کے خلاف  کانگریس کے سینئر لیڈر اور میدان سیاست کی قدآور شخصیت جناب غلام نبی آزاد صاحب کی تقریر سن رہا تھا تو معلوم ہوا کہ جناب عالی سانسد میں وراج مان ہوئے تمام ممبروں کو واقعی ایک سچی پکی تاریخ سنا رہے ہیں لیکن شورش کی اس بھیڑ میں حق و عدل کی یہ بات اکثر کہیں اپنی دم توڑ توڑ سی جا رہی تھی .      

 آخر ایسی کون سی تکلیفیں ہیں جو کشمیریوں نے نہ برداشت کیا ہو؟ اپنے بچوں کی مستقبل برباد ہوتےدیکھنا، ماں بہن کے ساتھ ان کی عزتوں سے کھیلنے والوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہنا، پلیٹ گنوں سے ہزاروں معصوم چہروں کی لہو لہانی، مہینوں مہینوں بھر کے لیے تعلیم گاہوں پہ قفل بندی کر دینا، بندوق کی گولیاں اور بات بات پہ ایمرجنسی نافذ ہونے و دوار ڈیڑھی فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل ہو جانے جیسے بھانیک مناظر سے آنکھیں ملانا آخر انھیں کشمیریوں ہی کے نصیبے میں تو آئی ہیں. سالوں بھر سے مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے سلجھانے کے بجائے بس سیاست کے نام پر حکومت سیاسی روٹیاں ہی سینکتی چلی آئی ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ ان کی زندگی کے تمام سیاہ و سفید کی ملکیت نیوز اینکروں نے ضبط کر لی ہے. میڈیا میں ہر تصویر ہی غلط امیج کے سانچے میں پیش کی جاتی ہیں. کل تک وہی باشندے جو اس جنت نشان دنیا میں امن و امان سے دو وقت کی روزی روٹی کماتے کھاتے تھے، آج خوف و ہراس کے مہیب سائے تلے اپنی زندگی گزر بسر کرنے پہ مجبور و بےبس ہیں. یہ بات سچ ہے کہ ہندوستان کشمیر کو اپنا ایک اٹوٹ حصہ مانتا ہے، پر یہاں کی کرسی پہ وراج مان ہوئے موجودہ پارٹی کو انسانیت کا پاٹھ کون پڑھائے؟ وہ تو بس اپنے خواب پورے کر رہی ہے اگرچہ اس راہ میں اسے برسوں پرانی ہندی تاریخ ہی کیوں نہ مسخ کرنی پڑے.       آج وزیر داخلہ امت شاہ نے دفعہ 370 کو کالعدم قرار دے کر کشمیر و لداخ کو منقسم کر کے کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام لینے کا جو غیر اندیشانہ فیصلہ کیا ہے، وہ اپنے آپ میں انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ ہر امن پسند اور حاملین عدل و انصاف کو بےچین کر دینے کے لیے کافی ہے. اس سے تو حالات سدھرنے کے بجائے اور پراگندہ ہو جائیں گے اور کشمیر و لداخ کے ما بین نفرت و حسد کی دیوار کھڑی ہوتی جائے گی. کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ* امرناتھ یاترا* کے نام پر یہ ساری پلاننگ اس طرح فٹ کی گئی ہے کہ یہ راتوں رات شرمندہ تعبیر بھی ہو جائے اور کانوں کان کسی کو خبر بھی نہ ہو. مگر میں سلام پیش کرتا ہوں ان پارٹیوں اور پارلیمنٹ کے ممبران کو جنھوں نے اس دردناک و ملک کے حق میں انتہائی خطرناک معاملہ کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور پارلیمنٹ میں موجود دوسرے ارکان و ممبران اور اسپیکر کے سامنے جم کر مخالفت کیں اور ساتھ ہی ساتھ بھارت کے ماتھے پر لگنے والی سیاہ داغ و مستقبل میں اب سے کہیں زیادہ پیش آنے والے اثرات و برے نتائج سے آگاہ بھی کیا. 

کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے جہاں اس ایکٹ کے خلاف امت شاہ کے عمل کو جمہوریت کا قتل بتایا، راجیہ سبھا کے ایک اور ممبر پروفیسر منوج کمار جھا نے بھی اس کی پرزور مخالفت کی اور کشمیر کے اوپر فلسطین جیسے حالات رونما ہونے کی آشنکا جتائی، وہیں اسی طرح کے ایک اور ممبر جناب فیاض صاحب نے بھی اپنی شدید ناراضی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے اپنا ملبوس کرتا پھاڑ دیا، پر کیا کیجیے گا وہ تو اپنی اکثریت کے بل بوتے اس بل میں ترمیم کر لے گئے اور حکومت میں آنے سے پہلے کا اپنا لگایا ہوا نعرہ "میں دھارا 370 کو تبدیل کر دوں گا” بڑی آسانی و چابک دستی سے شرمندہ تعبیر بھی کر لیے. آخر آپ ہی بتائیں نا کہ وہاں کے عوام و باشندوں کی رضا و ناراضی جانے بغیر محض مرکز میں بیٹھے بیٹھے فیصلہ سنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ کم از کم کوئی قانون کسی پہ تھوپنے سے پہلے اس سے اس بارے میں رائے تو جان ہی لینی چاہیے تھی. آج تو سوشل میڈیا پہ یہ بات بھی پڑھنے میں آئی کہ وہاں کے سینئر سیاسی لیڈران و نیتا محبوبہ مفتی و عمر عبداللہ جیسے لوگ اپنے اپنے گھروں میں نظر بند کر دیے گئے ہیں. ایسے میں ان لوگوں کی ایک طرف نظر بندی اور دوسری طرف مودی کابینہ کی قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ مسلسل منعقد ہو رہی میٹنگ پہ میٹنگ یقیناً جموں و کشمیر کے لیے خزاں رسیدگی کا کوئی نہ کوئی پیغام ضرور لائے گی، ساتھ ہی بی جے پی کی اندھا دھند من مانی اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے اب مودی حکومت تاناشاہی کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے ذریعے دیا ہوا دستور ختم ہونے کو ہے. جو سیدھے یہاں کی جمہوریت پہ ایک ایسا وار کرنا ہے  ہے کہ اسے وطن عزیز میں لوگوں نے کسی سیاہ دن سے کم نہیں گردانا ہے. آخر وہ اعتماد جو کشمیری مسلمانوں کو ہندوستانی حکومت سے تھا، وہ تو اب ہمیشہ کے لیے بھسم ہو گیا نا. بڑی بات تو یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاست داں و حالات پر کڑی نظر رکھنے و اس کے نشیب و فراز سے بہتر واقفیت رکھنے والے لوگ حکومت کے حالیہ رویے کو دیکھتے ہوئے بڑی بڑی آشنکائے جتا رہے ہیں. حال ہی میں تیسری مرتبہ طلاق پر بل پاس کروا لینا، یو اے پی اے بل منظور کروانا اور دار العلوم دیوبند کی لائبریری پر جانچ کے لیے پہرے بٹھا دینا، اعظم خان کو انگنت مقدموں کے گھیرے میں لے کر دن دھاڑے زمین مافیا قرار دے دینے کے پس پردہ رامپور کی جوہر یونیورسٹی کو برباد کرنا،بنگلور میں ٹیپو سلطان کی جینتی منانے پر پابندی عائد کرنا اور ملک بھر میں پھیلی مذہبی منافرت کے بنا پر ہر روز کسی نہ کسی گوشے میں پیش آنے والے مآب لنچبگ کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرنے کے بجائے ایک کے بعد ایک اہم معاملات و ایشوز میں ہندی باشندوں کو الجھائے رکھنے کا یہ عمل مستقبل قریب میں بڑی مشکل و پیش خیمہ کے لیے کسی واضح سگنل سے کم نہیں ہے.       اس وقت جموں و کشمیر میں انتہائی سخت سیکورٹی فورسز قائم ہیں اور دھارا ایک سو چوالیس نافذ ہے. وہاں کے مقامی باشندوں سے لے کر سیاح تک ہر کوئی انتہائی خوف و ہراس میں ہیں. پڑوسی ملک کی طرف سے کوئی خطرہ منڈلانے کو لے کر وزیر داخلہ کا حکم نامہ نشر ہوتے ہی سیاح جلد از جلد اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے، اب تک وہاں کی حالات زندگی بالکل معطل و مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں. اور ایسے میں جہاں کشمیری عوام کے درمیان مودی سرکار کے اس غیر جانبدارانہ فیصلہ کو لے کر غم و غصے کی لہر دوڑ رہی ہے وہیں پاک حکومت کی طرف سے انھیں امداد کرنے و اس غریب وقت میں ساتھ دینے کی انگنت خواب بھی دکھائے جا رہے ہیں .      مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ایسی بڑی خطرناک مہم ہے، جس کے تانے بانے اس کے اقتدار میں آنے سے قبل ہی برسوں پہلے بڑی چالاکی سے بنے گیے ہیں اور اب وہی گہری سازش مسلسل پردہ فاش ہو کر جگ ظاہر بھی ہوتی چلی جا رہی ہے. آج اس ایکٹ کو کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج و دھرنوں کا ماحول برپا ہو گیا ہے. اگرچہ کچھ غیر اندیش اس کی حمایت میں کھڑے ہیں پر ملک کی اکثریت اس کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ اسے ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی قرار دے رہی ہے. یقیناً ایسے وقت میں ملک کی امن پسند و مستقبل سناش افراد کی یہ کڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسے کسی صورت برداشت نہ کریں، خصوصاً مسلمان طبقہ ، ان پہ پے در پے ہو رہے حملوں کے خلاف حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور رب کی بارگاہ میں اس ظالم و جابر حکومت سے نجات یابی کی دعا مانگیں،کشمیر و کشمیریوں کے حالات کی بہتری کے لیے دعا مانگیں، اور ہو نہ ہو اب اس کے بعد تعدد ازواج، حلالہ اور بابری مسجد کو لے کر یہ حرکت میں آ جائے اور پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل بوتے اپنی برسوں پرانی دشمنی و دلی بھڑاس نکال لے جائے، اس لیے اس کے لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم آپسی نفرت و عداوت کو پس پشت ڈال کر حالات سے نپٹنے کے لیے قبل از وقت ہی چوکنا ہو جائیں اور خواب غفلت سے بیدار ہو کر نزاکتِ وقت کو سمجھنے کی کوشش کریں، ورنہ… ورنہ تو وہ دن دور نہیں کہ جب ہم پر عرصہ حیات تنگ کر دی جائے گی اور مسلم دشمنی سے یہ ُپر موجودہ حکومت بغیر رائے مشورہ لیے ہماری قسمت و حقوق کے تمام فیصلے صادر کرتی چلی جائے، جیسا کہ طلاق وغیرہ اہم ایشوز پر شرعی مداخلت کرکے وہ ہم پر اپنا فرمان نافذ کر چکی ہے. ہاں! اب بھی وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیں…

 کشمیر میں پھر ظلمتِ وحشت کی فضا ہے  

     پھر ظلم کی اٹھتی ہوئی آندھی ہے، گھٹا ہے    

پھر در پئے آزار نئی تیغِ جفا ہے 

اے خاصہ خاصان رُسُل وقت دعا ہے 

 امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے 

Wazirmisbahi87@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close