مضامین و مقالات

جشن جمہوریہ پرٹریکٹر پریڈ کا گہن

کیا پربھات پھیری اور کیا جشن جمہوری،اب کی بار سب پرہے بھاری کسان ٹریکٹر ریلی،ہر چند کہ اس کا نام پریڈ دیا گیا ہے ،مگر یہ دراصل ایک تاریخی احتجاج ہی ہے جو ملک میں پہلی بار ہورہا ہے،آج ترنگا کے ساتھ ہرارنگا قافلہ ملک کی راجدھانی میں دوڑتا چلا جارہاہے،یہ پریڈ کی سابقہ سرحد از انڈیا گیٹ تا راشٹر پتی بھون سے ماورا ہے، ہزاروں ٹریکٹر ہیں جودندنا رہے ہیں، اس پریڈ میں خواتین بھی اپنے مردوں کے شانہ بشانہ شامل ہیں. سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ پریڈ ہے جو آزاد ہند کی تاریخ کا حصہ رہی ہے؟ ہر فرد جانتا ہے کہ آج ہی کے دن 26/جنوری 1950 کو انڈیا کے آئین کا نفاذ عمل میں آیا ہے، اور ہر سال اس دن کو یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی جاتی ہے، صدرجمہوریہ کے ذریعے ترنگا پھہرایا جاتا ہے، اور اس خاص موقع کا گواہ کوئی نہ کوئی غیر ملکی معزز ترین مہمان بھی ہوا کرتا ہے، پھر عظیم الشان پریڈ انڈیا گیٹ سے راشٹر پتی بھون تک نکالی جاتی ہے، ہندوستانی افواج کے نوجوان اس میں شامل ہوتے ہیں،جو زمینی , فضائی اور بحری افواج پر مشتمل ہوتے ہیں ، انکی راہوں میں دیکھنے والے ہوتے ہیں، جو رشک سے انہیں دیکھتے ہیں، اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں، نمبر دینے والے جج حضرات بھی ہوتے ہیں، پریڈ میں شامل مختلف قسم کی جھانکیاں ہوتی ہیں، سبھی ہولے ہولے دھیرے دھیرے چلتے ہیں ، ان کی چال ڈھال، روش ورفتار، صلاحیت واستعداد کی بنیاد پرنمبرات دیئے جاتے ہیں،ان کی اس کامیابی پر انہیں ٹرافی بھی دی جاتی ہے، جو بڑے فخر کی بات ہوتی ہے، پوراملک اسے دیکھ رہا ہوتا یے، اور محظوظ ہوتا ہے، یہی جشن وہ یوم جمہوریہ ہے، جس کو اس ملک کا ہر ایک انسان، ہندو ہو یا مسلمان ، تاجر ہو یا کسان ، سکھ ہو یا عیسائی ، بودھسٹ ہو یا پارسی ، سبھی کام چھوڑ کردیکھتے ہیں، اور جشن جمہوریت پر نازاں ہوتےہیں، مگراس بار کا یہ جشن کا منظر بدلاہوا ہے ، آج پورے ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہ یوم جمہوریہ کے اہم ترین موقع پر کسانوں کی "ٹریکٹر پریڈ” پر جمی ہوئی ہے، یہ کسان مخالف قوانین سے تنگ آچکے ہیں اور پوری راجدھانی میں پریڈ کر رہے ہیں، پہلے یہ صرف رنگ روڈ پر پریڈ کرنے کے خواہاں تھے، اور اب پانچ روٹوں میں گھوم رہے ہیں، اس سے جشن جمہوریت کی سمت ہی تبدیل ہوگئی ہے، دہلی پولس ہی نہیں مرکزی حکومت کو بھی اس کا قبل ہی سے اندازہ تھا کہ 50 سے زائد اپنی جانوں کی قربانی دے کر بھی اس جان لیوا سردی میں ڈٹے رہنے والے کسان یوم جمہوریہ کے موقع پر بھی اپنی تحریک کو نیا رخ ضرور دیں گے. مگر حکومت نے ان کی مانگوں پرسنجیدگی اور ہمدردی سے توجہ نہیں دی ہے جبکہ کسانوں کی مانگ صد فیصد واجب اور درست ہے , اور نتیجۃ میں ہمیں یہ واقعہ دیکھنا نصیب ہو رہا ہے. آج جنوبی افریقہ کے موجودہ صدر مہمان خصوصی ہیں،وہ بھی ملک کے اس افسوسناک واقعہ کے شاہد بن گئے ہیں.
غلطی کہاں ہوئی ہے،یہ ملک کی تاریخ میں بچوں کی جگہ یہ کسان پربھات پھیری کیوں کررہے ہیں؟متعینہ جگہ سے باہر یہ پریڈ کیوں ہورہی ہے،؟یوم جمہوریہ کے دن یہ ٹریکٹر ریلی کیوں ہورہی ہے؟ آج پورا ملک ہی نہیں پوری دنیا اسے دیکھ رہی ہے، یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے، ایسا منظر آزاد ملک بھارت میں پہلی بار آنکھوں کے سامنے ہے،یہ کتنا عجیب معلوم ہوتا، ہرکوئی خود سے سوال کرتا ہے اور خود سے پوچھ رہا ہے، کاش! اس سے پہلے کسانوں کے مسائل کردیئے جاتے ظالمانہ قوانین کو منسوخ کردیا جاتا تو کتنا بہتر ہوتا، یوم جمہوریہ کا وقار بلند ہوتا، ملک کی جمہوریت پر اعتماد بحال ہوتا، انصاف کا بول بالا ہوتا, مگر افسوس کہ اس کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی اور نہ کسانوں کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسانوں کی طاقت کا اندازہ ضرور ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ کہ ناں ناں کرکے بھی انہیں ٹریکٹر پریڈ کی اجازت دی گئی ہے، جبھی تو یہ راجدھانی میں جشن جمہوریہ کی جگہ اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں، پورا ملک اسے نمبر دے رہا ہے اور اسے کامیابی کی ٹرافی بھی آج نہ کل حکومت بھی دینے جارہی ہے، یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ بھئی یہ کسان ہیں، یہ کوئی عام انسان نہیں ہیں،یہ کوئی جے این یو کے طلبہ نہیں ہیں کہ جن کے ہاتھ میں صرف قلم ہوتا ہے، یہ لٹھ بھی رکھتے ہی،دھوپ اور مینھ کا سامنا کرتے ہیں، انہیں پولس کی لاٹھی سےکبھی نہیں روکا جاسکتا ہے ،اور نہ پانی کی بوچھارسے دھمکایا جا سکتا ہے، اورنہ کوئی قانون کی تلوار سے انہیں خوف زدہ کیا جاسکتا ہے،اپنی جان پر کھیلنے والےیہ لوگ ہیں ،جب کھیت میں ہوتے ہیں تو آسمانی بجلی پر بھی قہقہہ لگادیتے ہیں،زور کی بارش ہوتی ہے تو اپنا پورا جسم بچھا دیتے ہیں،سردی گرمی کی یہ کبھی پرواہ نہیں کیا کرتے ہیں، جبھی تو تقریبا دو مہینوں سے سڑکوں پر بیٹھے ہیں، یہ جو کہتے ہیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں، مگر پیار کے بھوکے ہیں، اور جب کسی پر اعتماد ہوتا ہےتو اپنی جان بھی دیتے ہیں، یہ آئے دن تینوں زرعی قوانین کی واپسی کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کی بلی بھی چڑھا رہے ہیں، آج یوم جمہوریہ یہ دہائی دیتا ہے کہ کسانوں کو بھی انکا جمہوری حق پورا دیدیا جائے، مزید دنیا کو ہم پر اور ہماری جمہوریت پر ہنسنے کا نیا موقع نہ دیا جائے، بشیر بدر کا ایک قیمتی شعر کسانوں کی نذر کرتے ہوئے یہ تحریر یہیں پر مکمل کی جاتی ہے، اور امید ہے کہ کل کا سورج آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا، یہ شاداں وفرحاں اپنے گھروں کو واپس ہونگے.
ہم پہلے نرم پتوں کی ایک شاخ تھے مگر
کاٹے گئے ہیں اتنے کہ تلوار ہوگئے
……………………………….
ہمایوں اقبال ندوی
سکریٹری، جمعیت علمائے ہند
ضلع ارریہ
رابطہ، 9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close