مضامین و مقالات

اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں اس کے لئے سماج کو آگے آنا ہوگا: مولانامحمدناظم

حاجی پور(عبد الواحد)
*جمعیۃ علماء بہار کی ٹیم پہونچی گلناز کے گھر_مالی مدد کے ساتھ انصاف کے لئے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی
کسی کی بھی بیٹی سماج کی بیٹی ہےکسی کی بھی بہن وہ سماج کی بہن ہےاس کی حفاظت کرناسماج کی ذمہ داری ہےسماج میں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیںاگر سب لوگ چاہیں کہ گلناز جیسے واقعات پیش نہ آئیںتو کسی پرشاشن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس قبل جمعیت علماء ویشالی یعنی آصف جمیل قاسمی پوری ٹیم کئی بار گلناز کے گھر پہنچ کر کر تسلی دے رہے ہےان خیالات کااظہار آج گلناز کے گھر پہونچ کر جمعیۃعلماء بہار کے جنرل سکریٹری جناب مولانا محمد ناظم صاحب نے کیاآپ کو بتادیں بہار کے ضلع ویشالی میں دیسری کے چاند پورہ تھانہ کے ایک گاؤں رسول پور حبیب کی رہنے والی ایک یتیم لڑکی گل ناز(عمر٢٠ سال )کے والد مختار کا انتقال ہوچکاہے،ماں سمنا خاتون سلائی کا کام کرکے گھر چلاتی تھی، باپ کے سایہ سے محروم گل ناز کے پیچھے گاؤں کا ہی ایک منچلا اور عیاش ستیش کمار نے پڑ گیا اوراس کا جینا حرام کردیا، اس کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر کئی بار لڑکی نے لڑکے کے گھر والوں سے فریاد کی لیکن انہوں نے بجائے لڑکے پر کارروائی کرنے کے الٹا لڑکی کو ہی دھمکی دینی شروع کر دی اور ستیش کمار بھی بے سہارا بچی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہا اور دھمکی دیتا رہا کہ اگر تو میرے ہوس کی شکار نہ بنے گی تو جان سے ہاتھ دھونا پڑےگا۔ 30 اکتوبر کی شام5 بجے گل ناز کسی کام سے گھر کے باہر نکلی، بدمعاش غنڈہ ستیش اپنے ساتھی غنڈوں سکل دیو اور چندن کمار کے ساتھ ملکر اسے پریشان کرنے لگا، گل ناز نے مزاحمت کی، ستیش نے غصے میں آکر دونوں غنڈوں کے ساتھ ملکر گل ناز پر کراسن کا تیل چھڑکا اور زندہ جلا دیا، گل ناز 15دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان اذیت ناک جنگ لڑتی رہی اور پھر اس کی موت ہوگئی ۔واقعہ کے 15 دنوں تک پولیس نے معاملہ کو دبائے رکھااور درندگی کی شکاروہ معصوم بچی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہی ، جب وہ مر چکی اور اس کے گھر والوں نے لاش کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرہ کیا اوریہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو انتظامیہ کی آنکھ کھلی،لیکن اصل مجرم ابھی بھی باہر ہے، پولیس ابھی بھی ڈھیل دے رہی ہے، مظلوم خاندان کو دھمکی بھی مل رہی ہے اورمجرم آزاد دندناتا پھر رہا ہے،جمعیۃ علماء بہارکےجنرل سکریٹری جناب مولانامحمدناظم صاحب نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے مرحومہ گلناز کی ماں کو یقین دلایاکہ جمعیۃعلماء انصاف کے لئے ان کاہر طرح سے تعاون کرے گیبذریعہ چیک دس ہزار روپئے کے ذریعہ بروقت مالی مددبھی کیاس موقع پر صحافیوں کو دئیے گئے اپنے بیان میں سرکار سے پچاس لاکھ کامطالبہ بھی کیاجبکہ گھر کے ایک فرد کو نوکری دینے کی مانگ بھی کی_
انہوں نے کہا:بیٹیوں کی عصمت اور ان کی جان کے دشمن درندوں پر جب تک بروقت اورانصاف کے ساتھ کارروائی نہیں ہو گی اور مذہب و ذات سے بالاتر ہو کر مجرم کو مجرم سمجھ کر سزا نہیں دی جائے گی تب تک ملک کی بیٹییاں اور بہنیں یوں ہی ظلم و ستم کا شکار ہو تی رہیں گی_اس وفد میں جنرل سکریٹری موصوف کے ساتھ، جمعیۃ علماء پٹنہ کے جنرل سکریٹری مفتی خالدانورپورنوی، جمعیۃ علماء پٹنہ کے سکریٹری اظہار عالم قاسمی، جمعیۃ علماء ویشالی کے صدر جناب مولانا اظہار الحق قاسمی، مولانا آصف جمیل قاسمی،مولاناذاکر حسین مولانا توصیف قاسمی مولانا عالمگیر ندوی ودیگر اراکین شریک تھے!

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close