مضامین و مقالات

وقت کا صحیح استعمال ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

[ مولانا سراج الدین ندوی کی خواہش پر بچوں کے ماہ نامہ ‘ اچھا ساتھی’ کے ‘ لاک ڈاؤن نمبر’ کے لیے لکھی گئی ایک تحریر ]

کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھوائے ، یعنی اپنی کوئی چیز دے اور کہے کہ اس کو حفاظت سے رکھو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے خراب نہ ہونے دے اور جب وہ واپس مانگے تو جوں کی توں اسے واپس کر دے ۔ ہاں اگر وہ اس کو استعمال کرنے کی اجازت دے تو صحیح طریقے سے اسے استعمال کر سکتا ہے ، لیکن اس کو بگاڑنے کا اسے حق نہیں ۔ اگر وہ اسے خراب کر دے ، یا بے ڈھنگ طریقے سے استعمال کرے تو اسے امانت میں خیانت کرنے والا کہا جائے گا ۔ خیانت کرنے والے کو لوگ اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے ہیں اور ہر کوئی اس سے نفرت کرتا اور دور بھاگتا ہے ۔

وقت بھی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ، جو ہم میں سے ہر ایک کو حاصل ہے ۔ لیکن بہت سے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ زندگی اور موت دینے والا ہے ۔ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اس کے حکم سے آیا ہے اور جتنی زندگی اللہ نے اس کے لیے لکھی ہے اتنی گزار کر یہاں سے چلا جائے گا ۔ ہر شخص کی موت کا جو وقت متعین ہے اس سے نہ ایک لمحہ پہلے اس کو موت آسکتی ہے ، نہ ایک لمحہ بعد ۔ اس دنیا میں ہر ایک کو زندگی گزارنے کا جو موقع ملا ہے اور وقت کی جو نعمت حاصل ہے وہ اللہ کی امانت ہے ، جس کا اسے حساب دینا ہوگا ۔ مرنے کے بعد جب اللہ کے دربار میں اس کی پیشی ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ اس نے وقت کا کس طرح استعمال کیا؟ اسے اچھے کاموں میں صرف کیا یا کھیل کود اور فضول کاموں میں ضائع کر دیا؟ جس نے دنیا میں اپنا وقت ضائع کیا ہوگا وہ اس وقت حسرت کا اظہار کرے گا ، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے وقت کو اللہ کی نعمت قرار دیا ہے ۔ آپؐ نے ان لوگوں کو خوش قسمت قرار دیا ہے جو وقت کی قدر کرتے ہیں اور اسے بے مصرف کاموں میں ضائع نہیں کرتے اور ان لوگوں کو دھوکے میں مبتلا بتایا ہے جو اس کی قدر نہیں کرتے اور فرصت کے اوقات کو غنیمت نہیں جانتے ۔

گزشتہ چند ماہ سے کورونا کی وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور ہمارا ملک بھی اس سے بہت
زیادہ متأثر ہوا ہے ۔ یہ ایسی بیماری ہے جو ملنے جلنے ، ہاتھ ملانے اور چھونے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے ۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا اور مسجدوں ، بازاروں اور شاپنگ مالس کے ساتھ تمام اسکول اور کالج بھی بند کر دیے گئے ۔ چھ(6) ماہ ہونے کو ہیں ، ابھی تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں ہوپائی ہیں ۔ اس وقت کو بہت سے بچوں نے اچھے کاموں میں لگایا اور گھروں میں رہتے ہوئے اپنی پڑھائی جاری رکھی ۔ بہت سے بچوں نے قرآن مجید کی سورتیں یاد کیں ، یہاں تک کہ بعض نے تو ان دنوں میں پورا قرآن حفظ کر لیا ۔ بعض بچوں کونماز نہیں آتی تھی اور اس میں جو چیزیں پڑھی جاتی تھیں وہ یاد نہیں تھیں ، انھوں نے اپنے امی ابو سے پوچھ کر اور کتابوں کی مدد سے وہ سب چیزیں یاد کر لیں ۔ بہت سے بچے ایسے تھے جنھوں نے سارا وقت کھیل کود اور موبائل پر ویڈیو گیم اور دوسری چیزیں دیکھنے میں ضائع کر دیا ۔

ہم اپنے بارے میں سوچیں ۔ ہم کن لوگوں میں سے ہیں؟ وقت کا صحیح استعمال کرنے والوں میں ، یا اسے بے مصرف کاموں میں ضائع کرنے والوں میں؟ اگر اب تک ہم نے اس معاملے میں کوتاہی کی ہے تو عہد کریں کہ آئندہ اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کریں گے اور گھر پر رہ کر محنت سے پڑھائی کریں گے۔
٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close