مضامین و مقالات

مومن کی معاشی زندگی اور شریعت کی ہدایت محمد قمرالزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

دنیا گزارنے کے لئے دولت اور روزی کا حصول ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہے ۔ انسان کو مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے لئے اپنی اولاد اور ماتحتوں کے معاش اور روزی روٹی کے لئے دوڑ بھاگ اور تگ و دو کرے کیونکہ انسان کے رزق اور روزی روٹی کو اللہ تعالی نے دنیا میں اس کے لئے پھیلا دیا ہے اس کو حاصل کرنا اور اس کے لئے محنت کرنا یہ انسان کے ذمہ ہے ۔ اسلام نے تعلیم دی ہے کہ آدمی کو اپنی روزی حلال طریقوں سے کمانی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ یہ روزی آزادانہ طریقہ پر کمائی جائے دوسروں کی غلامی اور چاکری سے بہتر ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے نیز یہ کمائ حلال ہو ناجائز طریقہ سے حاصل نہ کی جائے ۔ قوت بازو سے روزی پیدا کرنا خواہ وہ صنعت و حرفت کے ذریعہ ہو یا تجارت و زراعت سے یا محنت و مزدوری کرکے یا دیگر حلال اور جائز طریقوں سے اس کی نظر میں کس قدر مطلوب ہے اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ پھاوڑا چلاتے ہوئے ایک صحابی کے ہاتھ سیاہ ہوگئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ پر کچھ لکھا ہے صحابی نے جواب دیا ۰۰ نہیں ۰۰ پتھر پر پھاوڑا چلاتا ہوں اور اس سے اپنے بال بچوں کے لئے روزی روٹی پیدا کرتا ہوں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے ان صحابی کا ہاتھ چوم لیا اور رزق کی برکت کی دعائیں دیں ۔
قرآن مجید اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رزق کے سلسلہ میں دو معیار بتائے گئے ہیں ایک ہے کفاف یعنی بقدر ضرورت روزی ۔ اور دوسرا ہے تکاثر یعنی زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا اور اس کو زندگی کا مقصد اور نصب العین بنالینا۔
قرآن مجید کی سورہ تکاثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تکاثر کی نفسیات اور بیماری میں مبتلا ہیں یعنی حد سے زیادہ مال کمانے کی حرص اور صرف اسی کے لئے دوڑ بھاگ ۔ ایسے لوگ بالکل غفلت میں رہتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مال ذریعہ عیش نہیں بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری ہے، ایک ایسی ذمہ داری کہ حشر کے میدان میں خدا کی عدالت میں ان سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا کہاں سے کمایا کس طریقہ سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا ؟جس آدمی کہ اندر اس کا احساس پیدا ہوجائے گا وہ اپنی زندگی میں کبھی رزق کو اول درجہ نہیں دے گا بلکہ اس کو ثانوی درجہ دے گا ۔
تکاثر کثرت سے ماخوذ ہے، معنی ہیں کثرت کیساتھ مال و دولت جمع کرنا۔ یہ لفظ بمعنی تفاخر بھی استعمال ہوا ہے، ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے الہاکم التکاثر پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ مال کو ناجائز طریقوں سے حاصل کیا جائے، اور مال پرجو فرائض اللہ کے عائد ہوتے ہیں ان میں خرچ نہ کیا جائے، (ملخص معارف القرآن جلد ۸)
آگے قرآن مجید نے یہ بیان کیا حتیٰ زرتم المقابر۔۔۔ یہاں زیارت قبور سے مراد مر کر قبر میں پہنچنا ہے۔۔ قرآن مجید نے یہاں لوگوں کو آگاہ کیا کہ تم لوگوں کو مال و دولت کی بہتات، یا مال و اولاد اور قبیلہ و نسب پر تفاخر غفلت میں ڈالے رہتی ہے، اپنے انجام اور آخرت کے حساب کی کوئی فکر نہیں کرتے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آجائے گی، اور وہاں عذاب میں پکڑے جاو گے، یہ خطاب بظاہر عام انسانوں کو ہے جو مال و دولت کی محبت یا دوسروں پر اپنی برتری اور تفاخر میں ایسے مست رہتے ہیں کہ اپنے انجام کو سوچنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔۔
ایک موقع پر نبی کریم ﷺ الہاکم التکاثر پڑھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے۔ یقول ابن آدم مالی مالی۔ و ھل لک من مالک الا ما اکلت الخ (ترمذی /مسندِ احمد)
آدمی کہتا ہے میرا مال، میرا مال حالانکہ اس میں تیرا حصہ تو اتنا ہی ہے، جس کو تو نے کھا کر فنا کر دیا، پہن کر بوسیدہ کر دیا، یا صدقہ کرکے اپنے آگے بھیج دیا، یا اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانے والا ہے تو اس کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے، ۔۔
ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی مال و دولت کی حرص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اگر آدم زادے کے لیے ایک وادی سونے سے بھری ہوئی موجود ہو تو وہ اس پر قناعت نہیں کرے گا ، چاہے گا ایسی دو وادیاں ہو جائیں۔۔ اور اس کے منھ کو تو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز بھر نہیں سکتی، اور اللہ تعالی توبہ قبول کرتا ہے، اس شخص کی جو اس کی طرف رجوع ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا طریقہ کفاف کا ہے کہ وہ بقدر ضرورت روزی پر راضی اور خوش ہوجائے ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قد افلح من اسلم ،و رزق کفافا و قنعہ اللہ بما آتاہ صحیح مسلم کتاب الزکوة ) یعنی وہ آدمی کامیاب رہا جس نے خدا کی اطاعت کی ،اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کرلی ۔
تکاثر ( ہائے دنیا ہائے دنیا) کی نفسانیت میں مبتلا ہونا در اصل مال و دولت روزی روٹی اور اسباب و وسائل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھنا ہے ۔ ایسا آدمی رسمی طور پر سارے احکام و شعائر پر بظاہر عمل کرتا نظر آئے گا لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ مال و دولت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہوگا مال ہی کو اس کی نظر میں اصل درجہ ہوگا ۔ ایسا آدمی دنیا میں مالدار دکھائی دے گا لیکن آخرت میں وہ کنگال نظر آئے گا ۔
لیکن جو شخص بقدر کفاف روزی پر مطمئن ہوگا وہ انسان ہی حقیقت میں کامیاب ہوگا کیونکہ ایسے آدمی کو دنیا میں یہ موقع نصیب ہوگا کہ وہ اپنی توانائی کو ضائع ہونے سے بچائے اور آخرت کی ابدی کامیابی کے لئے زیادہ سے زیادہ عمل کرے ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close