مضامین و مقالات

محرم الحرام کی عظمت و فضیلت از قلم : محمد جسیم الدین حسامی

از قلم : محمد جسیم الدین حسامی
چیئرمین : حضرت شیخ زکریا ایجوکیشنل ٹرسٹ
بوچی ارریہ بہار۔
محرم الحرام کا مہینہ تاریخی حیثیت سے کئی معنوں میں خاص ہے اسلامی نئے سال کا آغاز اسی ماہ سے ہوتی ہے ماہ محرم الحرام کی فضیلت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے بعد اس ماہ میں روزے رکھنے کی ترغیب دی ہےجیسا کہ حدیث پاک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا
(ترمذی )
نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے ( ترمذی )
اسی طرح عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا ( الترغیب والترہیب ) مذکورہ بالا تمام روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ماہ محرم الحرام اللہ کے نزدیک خاص رحمتوں والا مہینہ ہے جہاں عمل صالح کرنے والوں کو منجانب الہی اجرو ثواب کا وعدہ ہے تو وہیں دوسری طرف گذشتہ امتوں اور جلیل القدر انبیا کے کارہائے نمایا اور فضل ربانی کی یادیں تروتازہ ہوتیں ہیں

یوم عاشورہ کی فضیلت

یوم عاشورہ کا زمانہ جاہلیت کے دنوں سے ہی اہل مکہ کے نزدیک بڑی اہمیت کا حامل تھا خاص کر قریش مکہ محرم کی دسویں تاریخ کو بڑا محترم سمجھتے تھے اس دن روزے کے اہتمام کے ساتھ خانہ کعبہ میں نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا لیکن اہل ایمان کے نزدیک یوم عاشورہ کی فضیلت اور اسکی افادیت اس دن واضح ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہاں یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا اور مسلمانوں کو بھی عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں(بخاری) بعض حدیثوں میں ہے کہ آپ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات اکثر دیا کرتے تھے
ایک اور روایت میں ہے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا (مسلم ، ابن ماجہ )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشوراء کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے طرزِ عمل سے یہی سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد نفل روزوں میں یوم عاشورہ کے روزہ کا جس قدر اہتمام کرتے تھے اتنا کسی اور مہینے کے نفلی روزوں کا اہتمام نہیں کرتے تھے
یقینا مسلمانوں کے لئے یوم عاشورہ عظمت و رفعت اور عظیم برکتوں والا دن ہے تاریخ اسلام کے عظیم واقعات اسی دن سے جڑے ہیں چنانچہ مؤرخین نے لکھا ہے
یوم عاشورہ کے دن ہی آدم علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اسی دن حضرت ابرہیم علیہ السلام پر آگ کو گل گلزار بنایا گیا. اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اسی دن قریش مکہ خانہ کعبہ میں غلاف ڈالتے تھے اسی دن نواسہ رسول جگر گوشہ فاطمہ رضی اللہ عنھما میدان کربلا میں شہید کر دئے گئے رویتوں مطابق یوم عاشورہ کو ہی قیامت وقوع پذیر ہوگی
مذکورہ بالا تمام روایات و واقعات سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے یوم عاشورہ نہایت ہی عظمت و تقدس والا دن ہے اور تاریخ اسلام کے بہت سارے زریں واقعات اور دلخراش سانحات سے لبریز ہے
اور مذکورہ بالا روایات اور دیگر احادیث کی روشنی میں یوم عاشورہ میں دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں
۱) کہ اس دن روزہ رکھے جائے لیکن ایک بات یاد رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کے مطابق کفار مشرکین اور یہودو نصاری کی مشابہت انکے رہن سہن اختیار کرنا منع ہے اس حکم کے پیش مظر صرف دسویں تاریخ کو روزہ رکھنے سے یہودو نصاری سے مشابہت لازم آتی ہے دوسری طرف اس کو چھوڑ دینا اس کی برکات سے محرومی کا سبب تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے
یوم عاشورہ کے ساتھ ایک دن کا روزہ اور ملالو بہتر ہے نویں اور دسویں رکھا جائے اگر کسی وجہ سے نہ رکھ سکو تو دسویں اور گیاریں رکھ لیا جائے تاکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہو۔
جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس دن کو یہود ونصاریٰ بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَاذَا کَانَ العامُ المُقْبِلُ ان شاءَ اللّٰہ صُمْنَا الیومَ التاسعَ قال فَلَمْ یَأْتِ الْعَامُّ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تَوَفّٰی رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسلم شریف ) یعنی جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو بھی روزہ رکھیں گے، ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ اگلاسال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔
۲) یوم عاشورہ کے دن اپنے اہل عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خوب خرچ کیا جائے تاکہ اس عمل کی برکت سے پورے سال فراخی رزق کا دروازہ کھل جائے جیسا کہ روایت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے کے سلسلے میں فراخی اور وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائیں گے
(بہیقی )
یہی دو اعمال ایسے ہیں جو یوم عاشورہ کے دن کرنے کے ہیں لیکن یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ ہم ان ایام و شہور کی برکتوں سے محروم رہ کر غلط رواجوں اور قبیح رسومات میں مبتلا ہوکر باری تعالی کی رحمتوں اور انکے طرف سے ملنے والی نعمت بے بہا سے تہی دامن رہتے ہیں اسکے بر عکس معصیت والا عمل کرکے غضب الہی کو دعوت دیتے ہیں حالانکہ یہ بیجا رسومات نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے خلاف ہےبلکہ نواسہ رسول جگر گوشہ فاطمہ رضی اللہ عنہم اجنعین کے اس مشن کےخلاف ہے جسکے لئے انہوں نے اپنی جان کی قربانی پیش کی تھیں
اللہ سے دعا ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم و دائم رکھے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close