مضامین و مقالات

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے!!! اثرِ خامہ :سید آصف ملی ندوی

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا پر یاد آتا ہے !!! اثرِ خامہ : سید آصف ملی ندوی

گذشتہ دنوں اس عاجزکو دہلی کے سفر کے دوران اردو زبان کے اپنے وقت کے بلکہ اب تک کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ایک مرزا اسداللہ خان غالب کے مزار پر پہنچا تھا، جی ہاں وہی نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ نواب مرزا اسداللہ خان غالب جو اپنے شاعرانہ کمال،مخصوص اسلوبِ نگارش اور خوبصورت نثرنگاری کے سبب ہر طبقہ میں مقبول تھے آج بھی ہیں اور ہمیشہ مقبول و پسندیدہ رہینگے ۔ حسنِ عقیدت ونیازمندی کے جذبات سے معمور جب میں مزار کی عمارت پر پہنچا تو یہ دیکھ کر بڑی حیرت بلکہ تکلیف ہوئی کہ اردو کے اس عظیم شاعر کے مزار کا حال بالکل اردو ہی کی طرح ہے کہ وہ حکومت اور ارباب اقتدار و انتظامیہ کی بے اعتنائی سے بڑھ کر خود اردو کو مادری زبان کہنے والوں کے ظلم اور بے رخی وبے وفائی کا شکار ہے ، مزار غالب کی عمارت کے بیرونی حصہ کو چادر فروشوں گُل فروشوں اور بریانی و نان فروخت کرنے والوں نے گھیر رکھا ہے ، عمارت کے سامنے پہنچ کر بھی ایک نووارد کو مزار کا پتہ لوگوں سے دریافت کرنا پڑتا ہے کہ مزارِ غالب کہاں ہے ؟ مزار کی اس ویرانی اور اپنوں ہی کی اس ستم رانی کو دیکھ کر زبان پر بے ساختہ غالب مرحوم ہی کا یہ شعر جاری ہوگیا کہ

ہوئے مرکے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا ، نہ کہیں مزار ہوتا

اور اسی کے ساتھ یوں محسوس ہوا گویا غالب کو اپنی حیات ہی میں پسِ مرگ اپنے مزار کی زبوں حالی اور تُربت کی ویرانی کا ادراک ہوگیا تھا جس کے پیشِ نظر غالب نے یہ شعر کہدیاتھا۔ بہرحال حیرت و تکلیف کی ملی جلی کیفیت اور ت?ثر کے ساتھ غالب ہی کا یہ شعر پڑھتے ہوئے احاطۂ مزار میں داخل ہوا کہ

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ ائے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

یقیناً مرزا غالب اردو و فارسی زبان کا ایک گنج گراں مایہ ہی تھے ، وہ ایک ایسے باکمال ہمہ رنگ شاعر تھے جن کی شاعری میں ظرافت و بذلہ سنجی، عشق و محبت، مئے و میخانہ، تصوف و ارادت، مدح سرائی و قصیدہ خوانی کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ خیالات اور ندرتِ افکار کی پر جوش لہریں بھی ٹھاٹھیں مارتی ہوئیں نظر آتی ہیں۔
احاطۂ مزارِ غالب میں غالب کی مزار کے علاوہ اور بھی متعدد قبریں موجود ہیں ان میں کون مدفون ہیں یہ تو اللہ ہی جانتا ہے …معروف مؤرخ و انشاء پرداز مولانا غلام رسول مہر ؒ نے غالب کی سوانح حیات پر مشتمل اپنی تصنیف (غالب)میں مزارِ غالب پر اچھی خاصی روشنی ڈالی ہے ۔ وہ تحریر فرماتے ہیں ٍ’’غالب جس احاطہ میں مدفون ہیں، اس میں کم و بیش چوبیس قبریں ہیں ، احاطہ کے اردگرد قریباً پانچ فٹ اونچی دیوار ہے ۔ تمام قبروں کے متعلق ٹھیک ٹھاک نہیں کہا جاسکتاکہ یہ کس کس کی ہیں لیکن اتنا یقینی طور پر معلوم ہے کہ غالب کے علاوہ اس احاطہ میں نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ، مرزا علی بخش خان رنجورؔ، نواب زین العابدین خاں عارفؔ، مرزا باقر علی خاں کاملؔ اور بیگم صاحبہ غالب بھی دفن ہیں۔ بقیہ قبریں بھی یقیناً اسی خاندان کے افراد کی ہوں گی‘‘۔ غالب کی قبر پر جو لوح نصب ہے اس پر غالب مرحوم کے شاگرد خاص میر مہدی مجروحؔ کا درج ذیل قطعۂ تاریخ کندہ ہے :

کل میں غم و اندوہ میں باخاطرِ محزوں

تھا تربتِ استاد پہ بیٹھا ہوا غمناک

دیکھا جو مجھے فکر میں تاریخ کے مجروح

ہاتف نے کہا ’’گنجِ معانی ہے تہ خاک‘‘

نوٹ ۔ آپ بھی بھیج سکتے ہیں اپنے مضامین و مقالات ، خبریں، شعر و غزل ، بھیجنے کے لیئے میل کریں۔ info@hindustanurdutimes.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close