مضامین و مقالات

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے مہمان نوازی کے آداب بھی سیکھیے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

آج کل حج اور قربانی کے حوالے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خوب چرچا ہے _ ان کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلو نمایاں کیے جا رہے ہیں _ مجھے ان کا ایک پہلو بہت پسند ہے _
وہ ہے:
مہمان نوازی _

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کرنے کے لیے فرشتے اجنبی انسانوں کی شکل میں ان کے پاس پہنچے _ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سے تعارف حاصل کرنے سے قبل ہی ان کی خاطر مدارات میں جٹ گئے _ ان کے لیے فوراً ایک موٹا تازہ بچھڑا ذبح کیا اور اس کا لذیذ اور مرغّن گوشت تیار کرکے ان کی خدمت میں پیش کیا _ تب انھیں پتہ چلا کہ یہ تو انسان نہیں، بلکہ فرشتے ہیں _

سورہ ھود، آیات :69_70،سورہ حجر، آیات :51_53 اور سورہ الذاريات، آیات :24_28میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا بہت دل کش بیان ہے _ اجنبی انسانوں کے بھیس میں آنے والے فرشتوں کو حضرت ابراہیم کا ‘مہمان’ (ضیف) کہا گیا ہے ، اس لیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ساتھ مہمانوں جیسا برتاؤ کیا تھا _ ساتھ ہی ان کی صفت ‘مُکْرَمِین’ (معزّز) بیان کی گئی ہے _ اس سے اشارہ اس آؤ بھگت ، خیر مقدم ، تواضع اور ضیافت کی طرف ہے جس کا اہتمام حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے کیا تھا _ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے مہمانوں (خواہ وہ ان کے لیے اجنبی ہوں) کی کس قدر تواضع اور ان کے لیے کتنا اہتمام کرتے تھے _

مذکورہ آیات میں غور کیا جائے تو ان سے آدابِ ضیافت کا علم ہوتا ہے _ مفسرین نے ان آداب کی طرف اشارہ کیا ہے:

1_ مہمان خواہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی حیثیت کا مالک ہو، اس کے ساتھ اعزاز و اکرام کا معاملہ کرنا چاہیے_

2_ سلام کا جواب بہتر طریقے سے دینا چاہیے_

3_ مہمان کے لیے فوراً کچھ کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہیے _ ہوسکتا ہے ، اس نے دورانِ سفر دیر سے کچھ نہ کھایا پیا ہو _

4_ کھانے پینے کا انتظام مہمان سے چھپاکر کرنا چاہیے _ مہمان سے یہ پوچھنا بد اخلاقی ہے کہ آپ کیا کھائیں گے؟

5_ مہمان کے ساتھ ہر وقت چِپکے رہنا مناسب نہیں ، بلکہ اسے کچھ وقت تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیے_

6_ میزبان کو چاہیے کہ مہمان کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق اچھے سے اچھا انتظام کرے_

7_ میزبان کے کسی رویّے سے یہ اظہار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مہمان کی خدمت کرکے اس پر کوئی احسان کررہا ہے_

8_ مہمان کے کھانے سے میزبان کو خوش ہونا چاہیے، اس سے تنگ دل نہیں ہونا چاہیے _

9_ مہمان کو اپنے کسی ملازم کے حوالے کرکے مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے، بلکہ اس کی خبر گیری خود کرنی چاہیے_

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close