مضامین و مقالات

مسجد : مقامِ عبادت بھی ، مرکزِ خدمت بھی ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سکریٹری شریعہ کونسل جماعت اسلامی ہند

مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مرکز و محور ہے۔ اس کی حیثیت ’پاور ہاؤس‘ کی سی ہے، جہاں سے انھیں ’انرجی‘ حاصل ہوتی ہے۔ مسلم معاشرہ میں مسجد کا وہی مقام ہے جو انسانی جسم میں دل کا ہوتا ہے۔ جب تک دل صحیح سلامت رہے، جسم بھی متحرک رہتا ہے، لیکن اگر دل کسی مرض کا شکار ہوجائے تو جسم پر بھی پژ مردگی چھا جاتی ہے۔قرآن و حدیث میں مسجد کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور اس کی تعمیر کرنے اور آباد رکھنے کو ایمان کا تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو مدینہ پہنچنے سے پہلے چند روز ’قبا‘ نامی مضافاتی بستی میں قیام کیا۔ اس موقع پر آپ نے وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ پھر مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں جن کاموں پر آپ نے سب سے پہلے توجہ دی ان میں سے ایک ’مسجد کی تعمیر‘ تھی۔ آپؐ نے مسجد کے لیے ایک زمین قیمت ادا کرکے حاصل کی، اسے ہموار کروایا، پھر اس پر مسجد تعمیر کرائی اور صحابۂ کرام نے پورے جوش و خروش کے ساتھ اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ یہی وہ مسجد نبوی ہے جو پوری دنیا کے مسلمانوں کا مرکز عقیدت و محبت بنی ہوئی ہے۔

مسجد کو اسلام کے تصور عبادت میں اہم مقام حاصل ہے۔ اسے اللہ کا گھر کہا جاتا ہے۔ ا س لیے کہ اس میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے، اس کے سامنے سر جھکایا جاتا ہے، اسے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی اطاعت و بندگی کا عہد کیا جاتا ہے۔ مسجد مسلمانوں کی روحانی تربیت کا مرکز ہے۔ وہاں سے وہ روحانی اور اخلاقی ٹریننگ حاصل کرکے میدانِ عمل میں اترتے ہیں۔ جس طرح ایک فوجی کے لیے مقررہ اوقات میں چھاؤنی میں حاضری ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ہر مسلمان کے لیے مسجد میں دن و رات کے پانچ اوقات میں باجماعت نماز کے لیے حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔ ساتھ ہی مسجد سے مسلمانوں کے تمام تہذیبی و تمدنی، تعلیمی و ثقافتی، معاشرتی و معاشی امور میں رہ نمائی کا کام بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ مسجد کا یہ فعال کردار ابتدائی صدیوں میں جاری و ساری رہا۔ چنانچہ وہیں سے مسلمانوں کے تمام اجتماعی معاملات سر انجام دیے جاتے تھے، مثلاً دینی تعلیم کا نظم کیا جاتا تھا، فقراء و مساکین کو قیام کی سہولت فراہم کی جاتی تھی، صدقات جمع کرکے مستحقین میں تقسیم کیا جاتا تھا اور دیگر رفاہی کام انجام دیے جاتے تھے۔ اجتماعی کاموں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی، یہاں تک کہ جہاد کی تیاری کی جاتی تھی۔ ان تمام کاموں کا تذکرہ حدیث، سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔ بعد میں مسجد کی یہ حیثیت باقی نہ رہی اوراس سے امت کا رشتہ کم زور ہوا تو اس کی عظمت و وقار میں بھی کمی آتی گئی اور مختلف پہلوؤں سے اس میں فساد پیدا ہوگیا۔ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسجد کو وہی مقام دیا جائے جو اسے اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں اور ابتدائی صدیوں میں حاصل تھا۔ معاشرہ کی اصلاح کو مرکز بنایا جائے تو بہت سی خرابیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور بہت سے اچھے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔

[ads1]

اس سلسلے میں اولین توجہ کا مستحق یہ کام ہے کہ مسلم عوام کو مسجد سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ مسلمانوں کے دلوں میں مسجد کا بہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے۔ کوئی اس کی بے حرمتی کرے یا اسے کچھ نقصان پہنچائے تو وہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور اس کے تقدس کی حفاظت کے لیے مارنے مرنے پر تیار رہتے ہیں، لیکن مسجد میں پنج وقتہ حاضری اور باجماعت نماز میں شرکت کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ نماز ایمان اور کفر کے درمیان حدِّ فاصل ہے۔ وہ اللہ کی اطاعت کا اعتراف و اقرار ہے۔ عہدِ نبوی میں منافق بھی نماز باجماعت میں شرکت کے لیے مسجد میں حاضری ضروری سمجھتے تھے۔ مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مسجد سے تعلق اور پنچ وقتہ نمازوں کے لیے وہاں حاضری ایمان کی پہچان اور اللہ کی نعمتوں پر شکرانے کی علامت ہے۔

آج کل مسجدوں کا استعمال عموماً صرف پنج وقتہ یا اس کے ساتھ جمعہ وعیدین کی نمازوں کے لیے ہوتا ہے، حالاں کہ انھیں دیگر اصلاحی،تربیتی،سماجی اور رفاہی کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں چند کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

[ads2]

٭ مسجدوں کومسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے اور اس سے معاشرتی اصلاح کے کام لیے جا سکتے ہیں۔ جمعہ کی نماز میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ اس موقع پر بہت سے وہ لوگ بھی مسجد آتے ہیں جو پنج وقتہ نماز نہیں پڑھتے، یا گھروں، دفتروں یا دوسرے مقامات پر پڑھ لیتے ہیں۔ نماز جمعہ کا لازمی جز خطبہ ہے۔ا سے مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت اور عصری آگہی کے لیے بہ خوبی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات، معاشرت، معاملات، حقوق و فرائض، اخلاقیات اور ضروری احکام و مسائل کی تعلیم تسلسل کے ساتھ دی جائے ۔ چوں کہ نماز میں ہر سطح کے لوگ شریک رہتے ہیں اس لیے اسلامی تعلیمات کو عام فہم انداز اور آسان زبان میں پیش کیا جائے ۔ہر مسجد میں قرآن مجید کے درس کا لازماً اہتمام ہونا چاہیے۔ قرآن کتابِ ہدایت ہے۔ اس میں زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔بہتر ہے کہ قرآن مجید کا درس وہ شخص دے جو صحیح طریقے سے تلاوت کرسکتا ہو اور عربی زبان سے بھی واقف ہو۔ ایسا شخص موجود نہ ہو تو کوئی بھی تیاری کرکے درس دے سکتا ہے۔ مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے اور تفسیریں موجود ہیں۔ ان سے مدد لی جا نی چاہیے۔ یہ ممکن نہ ہو تو کسی ایک ترجمۂ قرآن و تفسیر کو تسلسل کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔مسجد میں حدیث ِ نبوی کی تذکیر کا بھی نظم کیا جانا چاہیے۔احادیث ِ نبوی حکمت کا خزانہ ہیں۔ ان سے زندگی کے تمام معاملات میں بھر پور رہ نمائی ملتی ہے۔ مسلم عوام کے سامنے تسلسل کے ساتھ احادیث نبویؐ پیش کی جائیں تو دین سے ان کا تعلق مضبوط ہوگا اور ان کے دلوں میں اللہ کے رسول ﷺ کی محبت بڑھے گی ۔ چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بچے بہت کم عمری میں اسکول جانے لگتے ہیں، جہاں عموماً دینی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہوتا۔ اس کی تلافی کے لیے ہر شخص اپنے گھر پر ٹیوشن کا انتظام نہیں کر سکتا۔ اس بنا پر زیادہ تر بچے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی بے بہرہ رہ جاتے ہیں۔ اگر ہر مسجد میں بچوں کے لیے مکتب قائم کر دیا جائے تو یہ ضرورت بہ خوبی پوری ہوسکتی ہے۔دینی تعلیم سے محرومی کے نتیجے میں مسلم عوام کی بڑی تعداد دین سے بے بہرہ ہے۔ وہ صحیح طریقے سے قرآن نہیں پڑھ سکتے، نماز اور روزہ کے بنیادی احکام سے ناواقف ہیں اور دین کا صحیح فہم نہیں رکھتے۔ کوشش کی جائے کہ مسجد میں بڑی عمر کے ان پڑھ لوگوں کی تعلیم کا بھی نظم کیا جائے۔ مسجد میں عموماً قرآن مجید معرّی (بغیر ترجمہ و تفسیر والا) کے نسخے خاصی تعداد میں ہوتے ہیں، اس لیے کہ عوام کا ذہن یہ بنا دیا گیا ہے کہ بغیر سمجھے قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت باعثِ ثواب ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش بے سود ہے، جس کا کچھ اجر نہیں۔ اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے ساتھ اس کی سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہییں۔ اس کے لیے مختلف زبانوں میں قرآن کے تراجم اور تفاسیر مسجد میں رکھی جائیں ۔ ان کے علاوہ دینی موضوعات پر عام کتابیں بھی فراہم کی جائیں۔ اس سے لوگوں کو کتابوں کے مطالعے کا موقع ملے گا اور ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہوگا۔عموماً مسجدوں میں خواتین کے لیے کوئی مخصوص اور علیٰحدہ نظم نہیں ہوتا، بلکہ ان کے مسجد جانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں ضرورت ہے کہ خواتین کو مسجد جانے سے نہ روکا جائے، بلکہ جو آنا چاہیں ان کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں۔اصلاحِ معاشرہ کے کاموں میں خواتین کی سرگرم شرکت ضروری ہے۔ آج مسلم معاشرہ بہت سی غلط معاشرتی رسوم و روایات میں جکڑا ہوا ہے اور مختلف توہمات اور گم راہ کن عقائد کا شکار ہے، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم خواتین جہالت کی وجہ سے ان سے چمٹی ہوئی ہیں اور کسی صورت میں بھی ان سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر انھیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا علم ہو، ان کا ذہن اسلامی سانچے میں ڈھلے اور وہ اپنی دینی تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوں تو معاشرہ کی تعمیر صحیح اسلامی خطوط پر ہوگی اور وہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مسجد میں خواتین کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ جمعہ کے خطبہ اور مسجد میں منعقد ہونے والی دیگر مجلسوں سے فائدہ اٹھاسکیں، البتہ ان کے لیے مسجد میں ایک جگہ مخصوص کر دی جائے، مسجد میں داخل ہونے کے لیے ان کا دروازہ الگ رکھا جائے اور پردے کا معقول نظم کیا جائے۔مسجد میں نکاح کی تقریبات کے انعقاد میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اسے پسندیدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسجد میں انعقادِ نکاح سے کئی فائدے حاصل ہوں گے : نکاح کا اعلان ہوجائے گا ، جس کا حدیث میں حکم دیا گیا ہے، بے جا مصارف کی بچت ہوگی، بے ہودہ رسوم اور خرافات سے نجات ملے گی اور بابرکت اور روحانی ماحول حاصل ہوگا ۔مسجد میں نکاح کے وقت مناسب ہے کہ مختصر تذکیر کی جائے، جس میں اسلام کی عائلی تعلیمات پیش کی جائیں، زوجین کے حقوق بیان کیے جائیں اور صلہ رحمی کی تلقین کی جائے۔

[ads3]

٭ مسجد کو عرصہ تک سماجی امور کی انجام دہی کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ موجودہ دور میں اس حیثیت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ مسجد کے تحت ایسی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں جن سے تمام اہلِ محلہ فائدہ اٹھائیں۔ مثلاً میت کی چار پائی اور اگر قبرستان دور ہو تو میت گاڑی کا بندو بست ہو۔ بسا اوقات میت کو موسم گرما میں کئی گھنٹے رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے فریزر بوکس کا انتظام کیا جائے۔ ابتدائی علاج معالجہ کے لیے مسجد کے ایک کمرے میں ڈسپنسری قائم کی جاسکتی ہے، جس میں کسی طبیب کی ہمہ وقتی یا جز وقتی خدمات حاصل ہوں۔ اس میں غریبوں کو مفت دوا دی جائے۔ آج کل کورونا وائرس سے متاثرین کے لیے آکسیجن سلینڈر بنیادی ضرورت بن گئے ہیں۔ان کی فراہمی کے لیے مسجد کو مرکز بنایا جا سکتا ہے۔بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اگر مسجد وسیع اور کئی منزلہ ہو تو اس کے کچھ حصوں کو حسب ِ ضرورت عارضی طور پر’کورنٹائن سینٹر‘ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ان سماجی و رفاہی مصارف کے لیے اصحاب ِ ثروت کے تعاون سے بجٹ بنایا جائے اور نماز جمعہ کے موقع پر نمازیوں سے عمومی چندہ کیا جائے تو خاطر خواہ رقم جمع ہوسکتی ہے۔

٭ مسلمانوں کے درمیان بعض اختلافات بڑھ کر تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ تنازعات عائلی زندگی سے متعلق ہوسکتے ہیں اور دیگر معاملات میں بھی۔ انھیں حل کرنے کی تدبیر اگر مسجد کے تحت اختیار کی جائے تو متعدد پہلوؤں سے اس کا فائدہ ظاہر ہوگا۔ یہ ذمہ داری مسجد کی منتظمہ کمیٹی خود لے سکتی ہے، یا اس کے لیے الگ سے ایک تصفیہ کمیٹی کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔ اس میں مسجد کے متولی اور امام کے علاوہ محلے کے چند برسرآوردہ لوگ شامل ہوں، جو دین کا علم رکھتے ہوں، کونسلنگ کے فن سے واقف ہوں، قانونی ماہر ہوں اور لوگوں کا بھی ان پر اعتماد ہو۔ اس طرح تنازعات کا فیصلہ شریعت کے مطابق خوش اسلوبی سے ہوگا، فریقین اسے شرح صدر کے ساتھ قبول کریں گے اور ملکی عدالتوں کا چکر لگانے اور گراں بار مصارف سے انھیں نجات ملے گی۔

[ads4]

اصلاحِ معاشرہ کے سلسلے میں مسجد کو مرکز بنا کر انجام دی جانے والی چند سرگرمیوں کا سطور بالا میں تذکرہ کیا گیا۔ اس طرح کے اور بھی کچھ کام تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسجد صرف پنج وقتہ اور جمعہ و عیدین کی نمازوں کے لیے خاص ہو کر نہ رہ جائے، بلکہ اسے اہلِ محلہ کی دینی تربیت، اصلاح اور سماجی و رفاہی خدمات کا مرکز بنایا جائے۔یورپی ممالک میں جو مساجد قائم کی گئی ہیں انہیں مقامِ عبادت کے ساتھ مرکز ِ خدمت بھی بنایا گیا ہے، لیکن برِّ صغیر ہند و پاک میں ابھی مساجد کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔ انہیں صرف نمازوں ہی کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ موجودہ دور میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں مسلمان اپنے روایتی رویّوں پر نظر ثانی کریں اور مساجد کا استعمال نمازوں کے علاوہ دیگر اصلاحی، سماجی اور رفاہی کاموں کے لیے کریں۔
٭٭٭

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close