مضامین و مقالات

” ردولی ” ایک شہر تہذیب وتخلیق زید مشکور

ردولی میرا شہر تمنا ، میرا مقام شوق، میرے قلب کی ڈھڑکن، اسرار الحق کا وطن ، شیخ العالم کا مدفن، بزگوں کا مکسن ، مرکز علم و فن ، اولیاء کرام کی سرزمین، گنگا جمنی تہذیب کی علامت، محبت و الفت اور آپسی بھائی چارے کی آیت۔
یہ وہی سرزمین ہے، جس کی ماٹی میں ایسی زرخیزی ہے، جس نے سرسید کے چمن کو نرگسی نگاہوں سے سرشار کیا، اسے سنبل کے گیسوؤں سے وابستہ کیا ہے، سر سید کے حویلی کے طاق میں وہ شمع روشن کی ہے ، جس میں حرم کے نور الٰہی کا عکس جھلکتا ہے ، جس نے علی گڑھ کی شام کو شامِ مصر کیا ہے، اور شب کو شبِ شیراز بنایا ہے ، اس کے دشت کے گوشے گوشے میں جوئے حیات کو ابالا ہے ، سارے جہاں کے ساز کو جس کے سوز میں سمیٹ دیا ہے، کہ جس کے بوسہ لینے کی خاطر سو بار آکاش بھی جھک گیا ہے ۔
یہ وہی انقلابی مٹی ہے، جس نے عورت کو اپنے ماتھے کے آنچل سے ایک انقلابی پرچم بنانے پر آمادہ کیا ہے، اس کے ماتھے کا ٹیکہ کو مرد کی قسمت ستارہ بنے رہنے کے بجائے بیداری کا ساز بنایا ہے ۔

یہی وہ نوارنی بستی ہے جس میں شیخ العالم عبدالحق مخدوم رحمتہ اللہ خیمہ زن ہوئے ہیں ، جن کے سوز دروں سے ہزار مردہ دل نغمہ سنج ہو اٹھے ، جن کی ایک پکار نے رہبرانِ وطن کے محلوں میں تکبیر مسلسل کی صدائیں پھونک دیں، بلند و بالا کنگرؤں میں رعشہ طاری کر دیا، اور جن کی بدولت شب دیجور کی سیاہیوں میں بھٹک رہے مسافروں کو نور الہی کی کرنیں نصیب ہوئیں ۔
اِس کے دامن میں محبت کے پھول کھلتے ہیں، الفت کی کلیاں چٹختی ہیں، اِس کے آنگن میں عیش طرب کے متوالے مدنی جام چھلکاتے ہیں، جی بھر کے انڈیلتے اور پلاتے ہیں، کہ یہاں ساقی کوثر کے نام کی محفلیں سجتی ہیں، تشنگان علم و معرفت بادہ علی سے سرشار ہوتے ہیں، اور عشق حسین میں مچلتے رہتے ہیں ۔
یہ زمین ہمیشہ سے اولیاء کرام کا مرکز رہی ہے، اس کا اصل نام ” رود ولی ” ہے ، کثرت استعمال سے ردولی ہوگیا، شیخ عبدالقدوس گنگوہی کا تعلق یہیں سے ہے، شیخ محمد اسماعیل، شیخ سماع الدین، شیخ صلاح الدین سہروردی، اور شیخ صفی الدین جیسی عظیم بزرگ شخصیات کا یہ مرکز رہا ہے، اسی خطہ سے سید سالار مسعود غازی کی داستان محبت وابستہ ہے۔

اِس دیار آرزو میں جہاں روحانیت و للٰہیت اور نورانیت ہے، تو وہیں دوسری طرف بھر پور تخلیقی صلاحیت بھی ہے، کیف و مستی کی نشاط انگيز نغمگیت ہے، فضا ميں آج بھی مجاز ، سعید علی ، یوسف اثر ، نواب حسن ، رئیس الشاکری ندوی، مرتضیٰ حسین، اشعر جامعی ، وسیم انصاری، عمر اختر ، سعید اشرف ،حسین کاظمی، زیبا دہلوی اور جعفر مہندی جیسے اس ماٹی کے مایہ ناز شعراء کے اشعار و نغمیں گونجتے ہیں۔
تنقید ادب کے تعلق سے آج بھی باقر مہدی اور پروفیسر شارب ردولوی کی بات قابل تقلید ہوتی ہے ، تنقید کے میدان یہ لوگ اپنی آپ مثال ہیں۔

علم و تحقیق کے میدان میں بھی اس زمین نے عظیم ہستیاں پیدا کی ہیں، محمد عتیق صدیقی تحقیق کی دنیا کا ایک مشہور نام ہے، انہوں نے ڈاکٹر جان گلکرسٹ اور آزاد پر بڑا کام کیا ہے، اسی طرح ڈاکٹر خورشید نعمانی ، ڈاکٹر آفتاب صدیقی ، شاہ معین الدین احمد ندوی، سلیم انصاری، پروانہ ردولوی جیسے نام اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں، جو خود اپنی اندر ایک عبقری شخصیت کے حامل ہیں ۔
الغرض یہ اہل ذوق کا دیار ہے، اہل تمنا کی بستی ہے، یہاں کی ہر شام انوکھی ہے، یہاں کی ہر صبح البیلی ہے ، یہ اہل دل کی بستی ہے، یہاں کی ہر ہستی ایک مقدس ہستی ہے، سو یہی میرا دیار تمنا ہے، یہی میرا مقام شوق ہے ۔

Attachments area

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close