مضامین و مقالات

دین اسلام ہی الہی وابدی دین ہے . تحریر : عبداللہ ندوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
. تحریر : عبداللہ ندوی
اللہ جل جلالہ و عم نوالہ کا بیحد فضل و کرم اور احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں اسلام کی بیش بہا قیمتی اور زریں دولت سے مالا مال فرمایا، ہمیں اس پر اللہ تعالی کا نہایت ہی مطیع فرمانبردار اور شکر گزار ہونا چاہئے کہ اسی ذات و ہستی نے ” دین اسلام ” جو اللہ رب العزت کا پسندیدہ اور آخری دین ہے اس کا فرمانبردار اور پیروکار بنایا، جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے ( إن الدين عند الله الإسلام ) بےشک دین اللہ کے یہاں اسلام ہی ہے، دوسری جگہ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتا ہے ( ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين ) اور جو کوئی اسلام کے سوا دین چاہے تو اللہ پاک اس کو ہرگز قبول نہیں فرمائےگا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا،
محترم قارئین کرام : اسلام ہی ایک ابدی و عالمگیر مذہب ہے جو تمام ہی انسانیت کی فلاح و بہبود کا ذریعہ اور ضامن ہے، وہ انسانی زندگی کے صداقتوں کا امین و پاسبان ہے، اسلام نے انفرادی اور اجتماعی دونوں شعبہائے زندگی کے لئے بہترین اصول و ضوابط مہیا کر دئے ہیں جن کو اپنانے اور سختی سے اس پر عمل پیرا ہونے میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، لہذا زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر میدان میں اسلامی طور و طریقہ اور اس کے شعار کو اپنانا اور اختیار کر نا ہو گا، ہمارا جینا، مرنا، سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، آنا، جانا، کھانا، پینا، رہن سہن ،تجارت و معیشت، الغرض یہ کہ سب کچھ قانون اور سسٹم کے تابع ہو کر کرنا چاہیے، جیسا کہ ارشاد ہے( قل إن صلاتي و نسكي و محياي و مماتي لله رب العالمين ) مذہب اسلام میں بنیادی چیز توحید ہے جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ خدا ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود و مسجود نہیں، وہ سب کا خالق و مالک اور پروردگار ہے، دنیا و مافیہا کی ساری چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں، یہ چوڑی چکلی زمین، بلند آسمان، چاند، سورج،ستارے، سر سبز و شاداب اور لہلہاتی کھیتیاں، ندی، نالے، اور ٹھاٹھیں مارتا سمندر، بھانت بھانت کے جانور، چرند، پرند، اونچے پہاڑ، اور بہتے دریا، المختصر دنیا و جہاں کی ساری چیزیں حضرت انسان کے لئے پیدا فرمائیں، تاکہ انسان اللہ سبحانہ و تعالٰی کے ان گنت اور بےشمار نعمتوں سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکے.
قارئین کرام : اسلام نہایت ہی عمدہ وپسندیدہ، اور محبوب و مقبول دین ہے، جو تمام ہی انسانیت کے لئے برپا کیا گیا، یہ آخری دین ہے اس کے علاوہ دیگر تمام مذاہب و ملل منسوخ، باطل اور بیکار ہیں، جن کے پیروکار اور فرمانبردار اللہ کے دشمن ہیں وہ اس لئے کہ ان کے یہاں معبود و مسجود کوئی اور ہی ہے جن کے سامنے وہ اپنا ماتھا ٹیکتے ہیں، اور ان کی منت و خوشامد کر کے ان سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں، جن سے اسلام اور اہل اسلام کا دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ہے، بہرحال جس طرح اسلام آخری وابدی دین ہے اسی طرح قرآن مجید بھی اللہ تعالٰی کی آخری کتاب ہے، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری نبی اور پیغمبر ہیں، تو ظاہر ہے کہ یہ دین بھی آخری دین ، اور قرآن پاک بھی آخری کتاب ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی ہیں، اور آپ کی بعثت کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ بند کر دیا گیا، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیین ہیں، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے ( اليوم أكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الإسلام دينا ) آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور دین کے اعتبار سے اسلام سے راضی ہو گیا، ظاہر ہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب بےوقعت اور بےحیثیت ہیں، فوقیت و فضیلت، عظمت و رفعت، قدرو منزلت، اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے دین اسلام سب سے افضل اور بابرکت دین ہے جس کا حاصل ہونا اور ملنا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل و کرم ہے، "ورنہ کہاں یہ منہ اور مسور کی دال” تو اب ہماری یہ ذمےداری بنتی ہے کہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں لاگو کریں، اسلام نے ہمیں اخوت و محبت، رحمت و برکت، عدل و انصاف، طاعت و بندگی، ہمدردی و غمگساری، بھائی چارگی اور صلہ رحمی کا درس دیا ہے تاکہ آپس میں میل جول ،اتحاد و اتفاق، اور بھائی بھائی بن کر زندگی بسر کر یں، الغرض اسلام ہی وہ بابرکت اور عزت و عظمت والا مذہب ہے جس نے اجتماعیت اور وحدت کا سبق سکھلایا، اسلام ہی سراپا امن و سلامتی،عدل و انصاف، اخوت و مساوات کا عالمگیر پیغام ہے جس میں کسی قسم کی ناانصافی، حق تلفی، جبر و تشدد، ظلم و ستم، وحشت و بربریت، اور تعصب کا نام و نشان نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد ہی عبادت الہی اور احترام انسانیت پر ہے، ظلم و جبر، ناانصافی، اور دیگر تمام جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس کا پودا دوبارہ پنپ ہی نہ سکے،
معزز قارئین : تو آئیے اب جب کہ ہم نے اسلام کو بحیثیت آخری و ابدی دین کے قبول کرلیا تو اس کے احکام و فرامین، اصول و ضوابط، اور لائحہ عمل کو اپنی زندگی میں جاری و ساری کریں، جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے اس سے حتی الوسع رکے رہنے کی جدوجہد، اور پیہم کوشش کریں اور جس چیزوں کو کرنے کا حکم دیا ہے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہیں تو دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی مقدر ہے ان شاء اللہ العزیز،
اخیرمیں دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت مذہب اسلام کو ہمارے لئے رشدو ہدایت اور نجات کا ذریعہ بنائے اور اسلام کی عزت و احترام برقرار رکھنے والا اور اسلام پر مرمٹنے اور اس کے فروغ و دعوت کی ہر حال میں فکرعطا فرمائے آمین یارب العالمین، والله يقول الحق وهو يهدي السبيل،
29 رمضان المبارک 1441 ہجری

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close