مضامین و مقالات

موجودہ حالات میں عید کی نماز کہاں پڑھیں اورکیسے پڑھیں : مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی بنگلور

مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی بنگلور 9611021347

ملک میں جاری لاک ڈاؤن کو بڑھاکر 17/مئی تک کردیا گیا ہے لیکن چوں کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے اس لئے غالب گمان یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی مدت میں اورتوسیع کی جائیگی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ لاک ڈاؤن پورے ملک میں نہ بڑھاکر کسی خاص علاقے میں بڑھادیاجائے۔جہاں ہر لاک ڈاؤن بڑھا یا جائے گا وہاں کے مسلمانوں کے لئے نماز عید کی ادائیگی کا مسئلہ ہوگا۔اس لئے اس تحریر میں ایسے خطوں اورعلاقوں کے لئے عید کی نماز کاحکم بتایاجارہاہے جہاں لاک ڈاؤن میں توسیع کے پورے امکانات ہیں۔

عید کی نماز احناف کے نزدیک واجب ہے اوراما م شافعی ؒ کے نزدیک سنت ہے۔
ہدایہ جلد۱؎ ص۳۷۱ پر عبارت ہے:وتجب صلوٰۃ العید علی کل من تجب علیہ صلوٰۃ الجمعۃ۔نماز عید ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نماز جمعہ واجب ہے۔البتہ عیدین کے خطبہ کا حکم جمعہ کے خطبہ سے مختلف ہے۔جمعہ کا خطبہ فرض ہے اورجمعہ کی نماز سے پہلے ہوتاہے۔جبکہ عیدین کا خطبہ سنت ہے اورعیدین کی نماز کے بعد دیاجاتاہے۔جس طرح عیدین کا خطبہ سنت ہے تو اس کا سننا بھی سنت ہی ہوگا واجب نہیں ہوگا۔
جمعہ وعیدین میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جمعہ کے لئے اذان بھی ہوتی ہے اوراقامت بھی جب کہ عیدین میں نہ اذان ہوتی ہے اورنہ اقامت۔
جہاں تک عیدین کی نماز کے شرائط کی بات ہے تو یہ واضح ہے کہ نمازجمعہ کے لئے جو شرائط ہیں وہی عیدین کی نماز کے لئے ہیں۔یعنی جن لوگوں پر نماز جمعہ ہے انہیں لوگوں پر نماز عید بھی واجب ہے اورجہاں نماز جمعہ جائز ہے وہیں نماز عید بھی جائز ہے،جس طرح جمعہ کی نماز ایک شہر میں کئی جگہوں پر اداکی جاسکتی ہے عیدین کی نماز بھی ایک ہی شہر میں کئی جگہوں میں ادا کی جاسکتی ہے۔

پورے ملک می نہ سہی لیکن کئی علاقوں میں یہ بات یقین کی حد تک کہی جاسکتی ہے کہ لاک ڈاؤن کا سلسلہ وسیع ہوگا بعض روزناموں کی خبر کے مطابق یوپی کی حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ 30/جون تک عوامی اجتماعات پر پابندی رہے گی۔مگر ایسا ہوتاہے تو اس کا صاف طلب یہ ہے کہ یوپی کے کروڑون مسلمان اس سال عید کی نماز بھی عید گاہوں اورمسجدوں میں نہیں پڑھ سکیں گے۔بیماری کا سلسلہ اگریوں ہی رہتاہے یا دراز ہوتاہے اورحکومت احتیاطی تدابیر کے طورپر پابندی جاری رکھتی ہے تو عوام کے حق میں یہی بہتر بھی ہوگا اورتمام لوگوں کو اس پابندی کا لحاظ رکھنا انتہائی ضروری ہوگا۔بیماری سے بچنے اورحفاظت کے لئے تدابیر اختیار کرنا شرعا بھی ضروری ہے۔

بہرحال! اگر لاک ڈاؤن جاری رہتا ہے اور عید کی نماز عیدگاہوں اور مساجد میں پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی ہے تو یہ نماز بھی جمعہ ہی کی طرح گھروں میں پڑھ لی جائے۔جو شرائط جمعہ کی نماز کی لے ہیں عیدین کی نماز میں ان شرائط کا لحاظ کیاجانا ضروری ہے۔مثلاً جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے تو عید کی نماز کے لیے بھی جماعت شرط ہے۔جمعہ کی نماز کے لئے امام کے علاوہ تین مقتدی کل چار افراد ہونے چاہییں،اسی طرح عید کی نماز کیلئے بھی امام کے علاوہ تین مقتدی ضروری ہیں یعنی امام کو شامل کرکے کم از کم چار افراد ہونے ضروری ہیں۔
عید کی نماز میں خطبہ چوں کہ سنت ہے اس لئے اگر خطبہ نہ دیاگیا تو نماز ہوجائے گی۔اس لئے اگر کوئی خطبہ دینے والا نہ ہو،صرف نمازِعید ہی پڑھاسکتاہو تو نماز عید ہی پر اکتفاکریں۔واضح رہے کہ عید کی نماز میں اذان و اقامت نہیں ہے۔
جو لوگ نماز عید بالکل ہی نہ پڑھ سکیں تو وہ اس کی جگہ چار رکعت نماز چاشت پڑھ لیں۔یہ نماز چاشت عید کا بدل نہیں ہے۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک عیدنہ پڑھ سکنے والوں کے لئے ایک مستحب عمل ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close