مضامین و مقالات

💰 بینکنگ سیکٹر کی تباہی ۔۔۔۔۔!!!

انسان کی محنتیں کہاں جمع ہوتی ہیں، اس کی امیدیں، تمنائیں اور آرزوؤں کا مخزن کہاں ہے، کس بنیاد پر وہ مستقبل کے منصوبے تیار کرتا ہے، بچوں کی اعلی تعلیم، بیٹیوں کی شادی اور سب سے اہم گھر کا خواب، دفعتاً بیماری کی وجہ سے علاج کا بوجھ اور کبھی لمحے کیلئے فرصت ملے تو دیش، دنیا کی سیر کا پلان کس بھروسے پر بناتا ہے؟ پائی پائی جمع کر کے اور ایک ایک کوڑی اکٹھا کرنے کے بعد کہاں سے اسے تقویت حاصل ہوتی ہے کہ بڑھاپے میں گھر بیٹھ کر وہ سکون کی نیند گزارے گا، کسی کی محتاجی، فقیری اور بے کسی سے بچتے ہوئے مرفہ الحال نہ سہی تو وسعت کی زندگی بسر کرے گا، جب سبھی ساتھ چھوڑ جائیں گے اور ایک ایک کر کے ہر کوئی زمین دوز ہونے لگے گا تو مادی اعتبار سے کس کا سہارا رہے گا_؟ شاید ان سب کا جواب موجودہ دور میں بینکوں جمع پونجی ہے، غریب سے غریب بھی اپنے خون کا قطرہ قطرہ جلا کر راکھ کرتا ہے، خشک کرتا ہے تب کہیں جا کر دو وقت کی روٹی پاتا ہے اور پھر بچی ہوئی روٹی کی قیمت بینک میں اس لئے جمع کرتا ہے؛ کہ وقت بے وقت یہ اس کے کام آئے. مگر بینکوں کی حقیقت بھی عجیب ہے، یہ عام انسان سے پیسے کما کر بڑے بڑے تاجروں اور سرکاری اداروں کے ہاتھ بھر دیتی ہے، وہ لوگ سرکار کی منظوری کے بعد قرض لے لیتے ہیں، پھر عوام کے پیسے سے ہی پیسے بناتے ہیں، عالیشان زندگی گزارتے ہیں، مختلف تجارتی کمپنیاں اور ادارے قائم کرتے ہیں۔
مگر یوں دکھاتے ہیں؛ کہ ان کا سارا پیسہ ڈوب گیا، وہ کنگال ہوگئے ہیں، وہ پھر سرکار سے گہار لگاتے ہیں، سرکاریں انہیں بینکوں سے پھر قرض دلواتی ہے، جو ہمارے ہی پیسے ہیں، مگر تجار اپنی روش پر قائم رہتے ہیں، پھر جب دیکھتے ہیں کہ بینکوں کی حالت اور بھی خستہ ہورہی ہے، تو پھر خود سرکار بھی ان بینکوں کو کچھ پیسے دیتی ہے جو اونٹ کے منہ زیرے کے ماننے ہوتا ہے، مگر تب تک اکثر بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، وہ کمپنیاں ہاتھ کھڑے کر لیتی ہیں، اور تجارتی کورٹ میں جا کر اپنی بے بسی کا رونا رونے لگتی ہیں، وہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ عوام کا پیسہ ہم نہیں لوٹا سکتے ہیں، ہمیں دیوالیہ کا تمغہ عنایت کردیا جائے، ایسے میں ان پیسوں کو NPA یعنی Non performance assets (منجمد اثاثے) یا پھر Bad loans سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ قرضے ہیں جن کا لوٹانا اب ناممکن ہے، پھر یہ کہ ان کمپنیوں کی بولی لگائی جاتی ہے اور اونے پونے دام میں اسے بیچ دیا جاتا ہے، اب تماشہ یہ دیکھیں کہ اس کمپنی کو خریدنے میں بھی کچھ کمپنی، کچھ سرکار اور بہت کچھ بینک سے ہی قرض لے کر ڈالا جاتا ہے، یعنی پھر عوام کے پیسے خرچ ہوتے ہیں، اب جب دوبارہ وہ کمپنی بک جاتی ہے تو برائے نام اسے کچھ سال رکھا جاتا ہے، اور اس کے نام پر قرض اٹھایا جاتا ہے، وہ پھر سے دیوالیہ ہوجاتی ہے اور پھر اس کی یونہی بولی لگادی جاتی ہے، اب تک پہلی رقم نہیں پائی گئی جبکہ دوسری دفعہ بھی سرکار اور تجار اس کمپنی سے کما چکے ہیں اور بینک سے پیسے اٹھا چکے ہیں۔
یہ سب قانونی اعتبار سے ہوتا ہے، ایک منظم لوٹ ہے، عوام کے پیسوں پر ڈکیتی ہے، اس وقت NPA کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اتنی زیادہ ہے کہ اسے تحریر میں لانا دشوار ہے، یہاں پر یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سرکاری بینکوں کا کوئی بھی بڑا فیصلہ سرکار کی جازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے، یعنی سرکار خود گویا کہ سب کچھ کرتی ہے، اور وقت پڑنے پر ٹھیکرا ماضی پر پھوڑتی ہے، کیونکہ ماضی کی کوئی گرفت نہیں ہے، یا پھر مستقبل کا آئینہ دکھاتی ہے کیونکہ مستقبل پر خوابوں کی تعمیر ہوتی ہے، جسے کوئی چھیڑنا نہیں چاہتا. اس وقت مسئلہ YES BANK کا ہے، اس کے اکیس لاکھ کھاتے دار ہیں، اور اٹھارہ ہزار سے زائد کام کرنے والے ہیں، سوچئے کہ اچانک سب کے پیسے پر پا بندی لگ گئی ہے، یہ ایک نیشنل بینک ہے، اس کی بربادی کی کہانی اگر سنی جائے، پڑھی جائے تو صاف اندازہ ہوجاتا ہے؛ کہ خود سرکار نے اسے ڈوبویا ہے، آخر اس سوال کا جواب کس کے پاس ہوگا کہ پچھلے کچھ مہینوں سے اس بینک نے کس کی اجازت پر ڈوبتی ہوئی کمپنیوں میں انویسٹ کیا ہے، رکاڑ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کچھ مہینوں سے مستقل برباد ہوتی کمپنیوں کو قرض دیا گیا ہے، جبکہ معلوم ہے کہ ان کمپنیوں کو قرض دینے کا مطلب یہ ہے؛ کہ انہیں واپس نہیں لیا جا سکتا ہے۔
ظاہر ہے یہ سرکار کے ہاتھ میں تھا، اب اکیس لاکھ لوگ پریشان ہیں، رپورٹس دیکھیں تو لوگ رو رو کر بدحال نظر آتے ہیں، کسی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کسے کو بچوں کی فیس دینی ہے، پیسے ہیں لیکن نکال نہیں سکتے، اسپتال میں والدین ہیں، شوہر ہے، یا کوئی اور قریبی ہے جنہیں یومیہ علاج کی ضرورت ہے، مگر نہ انٹرنیٹ کام کرتا ہے، نہ کریڈٹ کارڈ کام کرتے ہیں، نہ ڈیبٹ کارڈ سے کچھ ہوتا ہے، ہر کوئی ستایا گیا ہے، خود اس کے مالک ہمیشہ بی جے پی سرکار کی حمایت بلکہ بھکتی میں رہے ہیں، جب نوٹ بندی کی گئی تھی، جس سے ملک کی معیشت تباہ و برباد ہوگئی تھی،تو اس وقت انہوں نے اسے عمدہ قدم قرار دیا تھا، اب وہی کورٹ کچہری اور عوام کی گالیاں کھا رہے ہیں، یہ جان لیجیے کہ اس وقت سبھی بینک اسی دہانے ہیں، حتی کہ LIC جس نے زندگی کی ضمانت دی تھی اب وہ خود کی ضمانت دینے سے قاصر ہے، اس کے بھی بعض شیرز بکنے والے ہیں، اس کے ملازمین تنخواہ کیلئے ترس رہے ہیں، ان سب سے کیا نتیجہ نکالا جائے نہیں معلوم __ مسلم دشمنی کہنا تو دور کی بات ہے؛ لیکن ایسا ضرور کہا جاسکتا ہے یہ گنوارپن کا نتیجہ ہے، غور کیجئے 2008 کے عالمی shutdown میں ہم اتنے متاثر نہیں ہوئے؛ جتنا کہ اب ہورہے ہیں، وقت ہے کہ سمجھ جائیں ورنہ ہندو مسلم کرتے کرتے یہ ملک ہی کسی کے رہنے کے قابل نہ رہے گا، اور دنیا اسے افریقی ممالک کی طرح حاشیہ پر ڈال دے گی۔

✍️ محمد صابر حسین ندوی ۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close