مضامین و مقالات

🌹 ویلینٹائن ڈے کی تاریخ_____ قسط نمبر 3

✨ جنسی اختلاط کا دن :

ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ایک اور عجیب بات بھی بیان کی جاتی ہے کہ ۱۵؍فروری سے دنیا بھر میں پرندوں کے جنسی اختلاط کے دن شروع ہوتے ہیں ۔ ان میں نرومادہ پرندے ملاپ کرتے ہیں ، انڈے دیتے ہیں ، اور پھر پرندوں کی مادہ ان انڈوں پر بیٹھ جاتی ہے ، انگریزی میں اس موسم کو میٹنگ سیزن کہا جاتا ہے ، ٹھیک اس موسم میں ویلنٹائن ڈے منانے کی ایک حقیقت یہ بھی ہے ۔
مؤرخین یہ کہتے ہیں کہ ’’ویلنٹائن‘‘ کہا کرتا تھا جس موسم میں پرندے آپس میں ملتے ہیں ، اس میں انسان ایک دوسرے سے کیوں دور رہیں …..؟؟ لہذا اس نے روم کے نوجوانوں کی شادیاں ان ایام میں شروع کرائیں ۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اول یورپ میں یہ تہوار منایا جاتا رہا ، لیکن زیادہ شہرت نہ پاسکا ، ۱۴۱۴؁ء میں اینگ کوٹ کے مقام پر جنگ ہوئی ، اس جنگ میں ڈیوک آف آرینز کی بیوی گرفتار ہوگئی ، ملکہ کوٹ اور آف لندن میں قید کردیا گیا ۔ فروری۱۴۱۵؁ء کو ڈیوک نے اپنی بیوی کے نام ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ایک نظم لکھی ، یہ نظم کارڈز پر لکھوائی اور یہ کارڈز ٹاور آف لندن بھجوایا ۔
یہ دنیا میں ویلنٹائن ڈے کا پہلا کارڈ تھا ۔ بعد ازاں برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم نے اس نظم کی موسیقی تیار کروائی ، یہ موسیقی برطانیہ کے موسیقار جان لیڈگیٹ نے ترتیب دی تھی ۔ یہ ویلنٹائن ڈے کا گیت تھا ۔ ملکہ وکٹوریہ نے ویلنٹائن ڈے پر کارڈ تقسیم کرنے شروع کئے ۔
ملکہ ہر سال فروری کے دوسرے ہفتہ کے آخری دن سو قیمتی اور خوشبودار کارڈ اپنے عزیز واقارب کو بھجواتی تھی ۔ ملکہ کی پیروی میں دوسرے عمائدین نے بھی کارڈز بنوائے اور تقسیم کرنے شروع کردئیے ، یوں ویلنٹائن ڈے پر کارڈز بھجوانے کی رسم شروع ہوگئی ۔ ( ویلنٹائن ڈے ۴۷ : )

✨ زانی پادری :

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ روم کے جیل خانے میں ایک ایسے شخص کو مقید کردیا گیا جو راتوں کو لوگوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں کے ساتھ زیادتی کیا کرتا تھا ، اس پادری کا نام سینٹ ویلنٹائن تھا ۔ جس کے نام سے اس تہوار کو منسوب کرکے شہرت دی گئی ، جس جیل میں اسے قیدی بناکر رکھا گیا تھا اس جیل کے داروغہ کی بیٹی اپنے والد کو روزانہ کھانا دینے جیل آیا کرتی تھی۔
پادری نے کسی طریقہ سے لڑکی کو اپنی طرف مائل کرلیا جس کے نتیجہ میں اسے جیل سے رہائی نصیب ہوئی اس نے کچھ عرصہ داروغہ کی بیٹی کے ساتھ گذارا اور ایک دن اسے چھوڑ کر ایسا غائب ہوا کہ کچھ سراغ نہ ملا ۔
ان رسموں یا باتوں میں سے کسی رسم یا بات کا اطلاق ٹھیک طرح سے ویلنٹائن ڈے پر ہوتا ہے اس کے بارے میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی ۔ یورپ کے بعض ملکوں نے اس تہوار میں بڑھتی ہوئی فحاشی کو دیکھ کر اس تہوار پر مکمل پابندی عائد کردی تھی بلکہ ریاستی طاقت کے ذریعے اسے بالکل ختم کردیا تھا ، مگر برطانیہ کے بادشاہ چارلس ڈوئم نے نہ صرف اس تہوار کو دوبارہ شروع کیا تھا بلکہ اس کی سرپرستی بھی کی۔ ( ویلنٹائن ڈے ۴۸ )

✨ بھیڑکی کھال میں لڑکیاں ؛

ویلنٹائن ڈے کے پس منظر کے بعد یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک مکمل عیسائی اور مغربی تہوار ہے ، جس میں کئی مختلف طریقوں سے بے راہ روی کی جاتی ہے ، اہل روم اپنے دیوتا ’’ لیوپرکس ‘‘ کو خوش کرنے کے لئے ایک رسم ادا کرتے تھے ۔ اس رسم میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنا ساتھی چنا کرتے تھے ، طریقہ کار یہ ہوتا کہ لڑکیاں بھیڑکی کھال میں خود کو چھپالیتی تھیں ، لڑکے باری باری آتے بیر کی چھڑی سے لڑکی کی پشت پر ہلکی سی ضرب لگاتے ، ضرب لگنے پر اگر لڑکی اپنی جگہ چھوڑ دیتی تو لڑکا اسے لے کر چلا جاتا اور اگر لڑکی جگہ نہ چھوڑتی تو لڑکا آگے بڑھ جاتا ، یہ ثتسم اس وقت ختم ہوتی جب آخری لڑکی بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتی ، اس دن کو ’’ یوم محبت ‘‘ اور رسم کو ’’ سینٹ ویلنٹائن ڈے ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ( ویلنٹائن ڈے ۴۸ : )

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close