مضامین و مقالات

شجاعت و بہادری.. قسط دوم.

سید الکونین والثقلین صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت و بہادری
سب سے بہادر اور سب سے مضبوط دل والے انسان ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے بہت مشکل مقامات پر اس وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ فرمایا جب بڑے بڑے بہادر میدان چھوڑ جاتے تھے مگر آپ ان خوفناک اور خون آشام مقامات پر ڈٹے رہے ، آگے بڑھتے رہے اور آپ کے عزم اور آپ کی یلغار میں ذرہ برابر کمی نہ آئی دنیا کا ہر بہادر کہیں نہ کہیں فرار یا کمزوری کا شکار ہوا مگر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تصور تک نہیں فرمایا ۔ بے شک سچ فرمایا اللہ تعالی نے : اِنَّکَ لَعَلٰی خُلِقٍ عَظِیۡمٍ ۔ ( القلم ۔ 4 )

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ حسین، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ شجاع تھے ایک رات اہل مدینہ نے کوئی خوفناک آواز سنی لوگ اس آواز کی طرف دوڑے تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے واپس آتے ہوئے پایا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے اس آواز کی طرف تشریف لے گئے تھے ( واپسی پر دیکھا کہ ) کہ آپ حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر تشریف فرما ہیں اور آپ کے گلے میں تلوار لٹک رہی ہے اور آپ فرما رہے ہیں ڈرنے کی کوئی بات نہیں ڈرنے کی کوئی بات نہیں ۔ ( بخاری ۔ مسلم )

٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شجاع ، زیادہ دلیر ، زیادہ سخی اور زیادہ راضی ہونے والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ ( نسائی )
٭ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی اور میدان کار زار گرم ہو جاتا تھا تو ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ لیا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی آپ کی بنسبت دشمن کے زیادہ قریب نہیں ہوتا تھا بدر کے دن ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ لیے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب سے زیادہ دشمن کے قریب تھے اور آپ نے اس دن سب سے زیادہ سخت جنگ فرمائی۔ اور کہا جاتا تھا کہ بہادر وہی ہے جو جنگ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو کیونکہ آپ دشمن کے قریب ترین ہوتے تھے ۔ ( صحیح مسلم )

٭ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دشمنوں سے ٹکراؤ ہوتا تھا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے لشکر میں سے ) سب سے پہلے جنگ شروع فرماتے تھے…..
٭ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے قیس قبیلے کے ایک شخص نے کہا کیا آپ لوگ حنین کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( میدان جنگ میں ) چھوڑ کر بھاگ گئے تھے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرار اختیار نہیں فرمایا ۔…..
قبیلہ ہوازن کے لوگ اس دن تیر برسا رہے تھے ہم نے جب ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے ہم لوگ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے تو انہوں نے ہمیں تیروں پر لے لیا میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( تیروں کی اس بوچھاڑ میں )
اپنے سفید خچر پر دیکھا اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے :
انا النبی لا کذب انا بن عبدالمطلب
میں سچا نبی ہوں میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔
( بخاری ۔ مسلم )

٭ ایک روایت میں ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم جب سخت لڑائی ہوتی تھی تو ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے اور ہم زیادہ بھادر وہی ہوتا تھا جو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہ کر لڑتا تھا ۔ اور جب ابی بن خلف ( مشرک ) نے احد کے دن دیکھا تو کہنے لگا اگر یہ بچ گئے تو میں نہیں بچوں گا اور وہ ( پہلے ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتا تھا کہ میرے پاس ایک گھوڑا ہے جسے میں روزانہ ایک فرق مکئی کھلاتا ہوں میں اسی پر بیٹھ کر آپ کو قتل کروں گا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان شاء اللہ میں تمہیں قتل کروں گا غزوہ احد کے دن ابی خلف نے اسی گھوڑے پر بیٹھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا کچھ مسلمان اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آنے دو اور راستہ چھوڑ دو ۔…..
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن صمہ سے برچھی لے لی اور اسے تول کر ابی بن خلف کو گردن میں دے ماری جس کے بعد وہ کئی بار اپنے گھوڑے سے گرا ۔۔۔۔۔۔۔
ایک روایت یہ ہے کہ یہ برچھی اس کی پسلی پر لگی تھی جب وہ زخمی ہو کر واپس لوٹا تو کہنے لگا مجھے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] نے قتل کر دیا ۔ مشرکین نے کہا کہ تمہیں زیادہ زخم نہیں آیا ۔ کہنے لگا اگر میرا یہ زخم سب لوگوں میں بانٹ دیا جائے تو سب مارے جائیں گے کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ محمد نے کہا تھا کہ وہ مجھے قتل کریں گے ۔ اللہ کی قسم اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتے تو میں مر جاتا ۔ یہ ملعون مکہ واپس جاتے ہوئے مقام سرف پر مر گیا ۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ پہلوان سے کشتی فرمائی اور اسے پچھاڑ دیا ۔ ( ابوداؤد )

٭ حافظ مزی کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کو دو یا تین بار پچھاڑ دیا اور ایک روایت کے مطابق یہی واقعہ ان کے اسلام لانے کا سبب بنا ۔ ( تہذیب الکمال للمزی )
٭ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکانہ جنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھاڑ ا تھا لوگوں میں سب سے طاقتور تھا۔
حضور اکرم صلی اللہ کی شجاعت کسی بیان کی مختاج نہیں ہے ۔ ہم نے یہاں اس کا مختصر تذکرہ کر دیا ہے ۔ جو مزید تفصیلات دیکھنا چاہتا ہے وہ سیرت اور معازی کی کتب کا مطالعہ کرے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی شجاعت اور دل کی مضبوطی سمجھنے کے لیے تھوڑاسا معراج کے واقعے پر غور کیجئے آپ کو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مضبوط دل اور ناقابل شکست حواس کا اندازہ ہو جائے گا حصوصاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ رب العزت کے سامنے کھڑے ہونا اور نور ربانی کو بر داشت کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم آپ کی امت میں سے کچھ بھادروں کا تذ کرہ کرتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد بے شمار ہے لیکن ہم حضور اکرم صلی علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سمیت کچھ حضرات کا تذکرہ کریں گے۔…

خلیفہ رسول ، یار غار ، افضل الخلائق بعد الانبیاء علیہم السلام
سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
٭ محمد بن عقیل سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرماتھے آپ نے پوچھا لوگوں میں سب سے بہادر ہے حاضرین مجلس نے عرض کیا اے امیر المؤمن آپ سب سے بہادر ہیں حضر ت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں جسے بھی مقابلے کی دعوت دی اس کو پورا حساب چکایا لیکن لوگوں میں سب سے بہادر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جب غزوہ بدر کا دن تھا تو ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عریش (چبوترہ ) بنادیا تھا اور ہم نے کہا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا جو مشرکوں کو آپ تک نہ پہنچنے دے ۔….
اللہ کی قسم اس دن یہ سعادت صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہی حاصل کی اور وہ اپنی کھلی تلوار لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے پاس کھڑے رہے۔
مکہ میں ایک بار مشرک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے ان میں سے کوئی آپ کو گھسیٹ رہا تھا کوئی دھکے دے رہا تھا اوروہ کہہ رہے تھے کیا تم ہی سارے خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کی دعوت دیتے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اس دن ہم میں سے صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے وہ کسی مشرک کو مار کر ہٹاتے تھے کسی کو گھسیٹتے تھے اور کسی کو دھکے دیکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کرتے تھے اور کہتے تھے اے مشرکو ! ہلاک ہو جاؤ کیا تم انہیں اس لیے مارتے کہ یہ کہتے ہیں میرا رب اللہ ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شرکاء مجلس سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کہ کیا آل فرعون میں سے ( خفیہ ) ایمان لانے والا افضل ہے یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ شرکاء مجلس خاموش رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے ۔ اللہ کی قسم ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی کی ایک گھڑی آل فرعون میں سے ایمان والے شخص کے زمین بھر اعمال سے افضل ہے وہ مؤمن تو ایمان چھپاتا تھا جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کا کھلم کھلا اعلان کیا ۔…. ( مجمع الزوائد )
مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بے شک حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہادر تھے آپ کے دل کی مضبوطی ، عزم کی پختگی اور حواص کی قوت کا اندازہ غزوہ بدر ، غزوہ احد ، غزوہ خندق اور صلح حدیبیہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ( ہجرت کا پورا واقعہ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہادری شجاعت اور قوت قلبی کا بھرپور ثبوت ہے )
اور آپ نے سب سے زیادہ قوت کا مظاہرہ اس وقت کیا جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے وصال فرما گئے اس زلزلہ خیز موقع پر جبکہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے حواس کھو بیٹھے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت مسلمہ کو سنبھالا۔ بے شک اگر اس دن آپ مثالی ہمت کا مظاہرہ نہ فرماتے تو نہ معلوم امت کا کیا حال ہوتا ۔….
اسی طرح اپنے دور خلافت میں آپ نے مرتدین ، مدعیان نبوت کے مانعین زکوٰۃ سے بھی جہاد کا جو فیصلہ فرمایا وہ آپ کی قوت قلبی اور فراست ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ ان کی شجاعت ہی تو تھی کہ اسلام کی عمارت جس جگہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ کر گئے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے وہاں سے ذرہ برابر نہیں ہلانے دیا اور دین میں ایک شوشہ برابر کمی برداشت نہیں فرمائی ۔ آ پ پر اللہ تعالٰی کی کروڑوں رحمتیں ہوں ۔…….
عزت اسلام امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ایمانی قوت کو سمجھنے کے لیے اتناہی کافی ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں آپ کو لوہے کا پہاڑ قرار دیا گیا ہے ۔
٭ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے یہ فرمانا (بھی ان کی فضیلت کا اندازہ لگانے کے کافی ہے ) کہ اے ابن خطاب اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے شیطان جس گلی میں آپ کو دیکھتا ہے اس گلی کو چھوڑ کر دوسری گلی میں چلا جاتا ہے…… ( بخاری ۔ مسلم )

٭ اور اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعاء فرمانا کہ اے میرے پروردگار عمر بن خطاب کے ذریعے دین کو عزت بخشئے ۔ ( مجمع الزوائد )
٭ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے وقت سے ہم عزت مند ( اور قوت والے ) چلے آتے ہیں۔ ( بخاری )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے اسلام لانے سے پہلے ہم کعبہ میں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے تو انہوں نے قریش کے ساتھ لڑائی کرکے کعبہ میں نماز اداء فرمائی اور ہم نے بھی ان کے ساتھ نماز اداء کی ۔ ( سیرۃ ابن ہشام )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو مشرکین نے کہا آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا ہے ۔…..
( الریاض النضرہ لمحب الدین طبری )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت اعلٰی درجے کے شجاع تھے ۔ اسلام کی عظمت کی خاطر آپ کے بہادرانہ کارنامے بے شمار ہیں جنہیں ہم طوالت کے خوف سے چھوڑ رہے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک جن کے ساتھ کشتی کی اور اسے تین بار پچھاڑ دیا۔ ( الریاض النضرہ )
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال یہ تھا کہ شیطان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ حضرت عمر کو کسی برائی کی ترغیب دے سکے ۔ ( الریاض النضرہ )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان عمر رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سن کر بھاگ جاتا ہے ۔
امام قرطبی نے تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا بایاں کا پکڑ کر چھلانگ لگاتے تھے اور بغیر کسی چیز کو پکڑے گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھتے تھے۔….

مثال حیاء ذوالنورین ، امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
مکہ مکرمہ میں اپنے مالدار گھرانے کی سختیاں جھیلنا ، حبشہ اور مدینہ کی طرف دو ہجرتیں کرنا غزوہ حدیبیہ کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر بن کر جانا یہ سارے واقعات آپ کی بے پناہ شجاعت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہیں ہم نے پیچھے حدیث شریف کے حوالے سے پڑھ لیا کہ جو شخص خفیہ صدقہ دینے پر قادر ہو وہ اللہ کی مخلوق میں سب سے مضبوط اور طاقتور ہے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تو کوئی صبح اور کوئی شام خفیہ اور اعلانیہ صدقات سے خالی نہیں تھی ۔ اسلام کی خاطر ان کا بے دریغ مال لٹا دینا ان کی قوت قلبی اور مضبوط ایمان کا ثبوت ہے اپنی زندگی کے آخری آیام میں آپ نے شجاعت کی جو مثال قائم کی وہ بلا شبہہ بے مثال کارنامہ ہے ۔ آپ نے ایک طرف تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت اور حکم پر عمل کرتے ہوئے قمیص خلافت نہیں اتارا اور دوسری طرف باوجود قوت اور طاقت کے اپنی جان بچانے کے لیے مسلمانوں کو آپس میں نہیں لڑایا ۔ ( بلکہ آدھی دنیا سے زائد کا یہ عظیم حکمران نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کر دیا گیا ۔ )

اسداللہ الغالب امیر شجاعت امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آپ کی بہادری کی ایک امتیازی شان تھی غزوہ بدر کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو لشکر اسلام کا جھنڈا دیا تو آپ کی عمر بیس سال تھی۔
ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر لڑائی میں شریک رہے سوائے غزوہ تبوک کے کہ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور ارشاد فرمایا اے علی آپ میرے لیے اسی طرح ہیں جس طرح موسٰی علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے
٭ غزوہ خیبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔ وہ شخص میدان سے بھاگنے والا نہیں ہے اللہ تعالٰی اس کے ہاتھ پر ( اس قلعےکو ) فتح فرمائے گا ۔ پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک ڈالا تو آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطاء فرمایا اور اللہ تعالٰی نے فتح عطاء فرما دی ۔ ( بخاری ۔ مسلم و جملہ اصحاب الصحاح و السنن)
مصعب بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت مہارت کے ساتھ جنگ کرتے تھے اور اپنے مدمقابل کو سخت غلطی میں ڈالتے تھے جب آپ حملہ کرتے تھے تو ہر طرف سے زیادہ چوکنا رہتے تھے اس لیے کوئی آپ پر قابو نہیں پا سکتا تھا آپ کی زرہ صرف آپ کے سینے کو ڈھانپتی تھی پیٹھ کو نہیں ۔کسی نے پوچھا کہ کیا آپ کو پشت کی طرف سے حملے کا خطرہ نہیں ہوتا ؟ فرمانے لگے اگر دشمن میری پیٹھ پر وار کرنے کی جگہ پالے پھر بھی اگر علی بچ جائے تو اللہ دشمن کو باقی رکھے ۔ ( ابن عساکر )
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب غزوہ خیبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا تو ہم بھی ان کے ساتھ گئے جب قلعے کے قریب پہنچے تو قلعے کے یہودیوں نے مقابلہ کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سے لڑتے رہے اس لڑائی میں آپ کی ڈھال آپ کے ہاتھ سے گر گئی تو آپ نے ایک دروازہ بطور ڈھال کے ہاتھ میں لے لیا اور قلعہ فتح ہونے تک آپ اسے ہاتھ میں لے کر لڑتے رہے ۔ فتح کے بعد آپ نے اسے پھینک دیا ۔ اس کے بعد ہم ساتھ آدمیوں نے زور لگا کر اس دروازے کو الٹنا چاہا تو نہ الٹ سکے ……
( سیرۃ ابن ہشام )
مفتی محمد مقبول قاسمی امام وخطیب مسجد حدیبیہ ہوڑی وائٹ فیلڈ بنگلور …

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close