مضامین و مقالات

صبر و استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہے ! محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ گزشتہ  سے پیوستہ کل عدالت عالیہ کی جانب سے *این آر سی* کے بارے میں جو حکم آیا ہے، وہ ہم سب کی توقعات کے خلاف ہے ۔ اس قدر حساس اور نازک مقدمہ کو موخر کرنا اور اس کے بارے میں فوری کوئ فیصلہ نہ لینا جب کہ ملک میں افراتفری اور بے یقینی کا ماحول ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ لیکن ہمیں عدالت سے یہ یقین ہے کہ آئندہ اس پر حتمی فیصلہ کرے گی، اور اس کالے قانون پر عدالت عالیہ پابندی ضرور لگائے گی ۔ کیوں کہ یہ *شہری* ترمیمی بل ہندوستان کے قانون آئین اور دستور کے بالکل خلاف ہے اس سے جمہوریت کی روح مسخ ہوتی ہے ۔ سٹیزن امینڈ مینٹ اکٹ (شہریت کا بدلا ہوا قانون) اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کس کو نئے قانون کی رو سے بھارت کی شہریت یعنی ناگرکتا کا حق حاصل ہے اور کس کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شہری ترمیمی اکٹ میں بنگلہ دیش افغانستان اور پاکستان سے آئے ہوئے تمام مذاہب اور دھرموں کے لوگوں کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے اور مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ہمارا ملک جمہوری اور سیکولر ہے اور یہاں کے گرہ منتری جی بار بار یہ بیان دے رہے ہیں کہ میں پورے ملک میں ۲۰۲۴ سے پہلے ہر حال میں این آر سی لاگو کردوں گا جس میں کئی پیڑھی اور پشت کے دستاویز اور ضروری کاغذات دکھانی پڑے گی ۔ جن غریب بھائیوں کے پاس ضروری کاغذات اور ثبوت نہیں پائے گئے انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا ۔ اس طرح کے بیانات اب بھی آرہے ہیں جبکہ پورا ملک جل رہا سب چیخ اور چلا رہے ہیں برادران وطن کی بھی بڑی تعداد اس کی مخالفت میں اتر آئی ہے ۔ طلبہ پڑھے لکھے اور انٹیکچول طبقہ اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ این آر سی کا مطلب آسان لفظوں میں یہ ہے کہ ملک کے باشندوں کے متعلق ضروری معلومات کا لیکھا جوکھا جس میں نام درج کرانے کے لئے پرانے دستاویز اور کاغذات دینا ضروری ہے اور دستاویز میں اتنا اور اس قدر احتیاط ہے کہ ایک حرف کا بھی فرق ہوجائے اور اسپیلنگ کی غلطی ہوجائے تو وہ ثبوت اور دستاویز کالعدم سمجھا جائے گا اور اسے مانا نہیں جائے گا اگر کسی کے پاس ایسے ضروری کاغذات اور ثبوت نہیں پائے جاتے تو اسے ملک سے باہر جانا پڑے گا یا شرنارتھی کیمپوں میں رہنا پڑے گا جہاں کا نام سن کر اور وہاں زندگی معلوم کرکے آپ کی روح کانپ جائے گی ۔جہاں کی زندگی جہنم کی طرح بدتر ہوگی ۔ جو لوگ ثبوت اکھٹا نہیں کرسکیں گے ان سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا جائے گا ۔ ہندوستان میں انہیں کسی جگہ بھی نہ اپنے نام سے اور نہ اپنے بال بچوں اور پریجنوں کے نام سے کوئ بھی زمین اور پراپرٹی بنانے کا حق ہوگا ۔ ایسے لوگ گورنمنٹ ملازمت سے محروم کر دئے جائیں گے ۔ ان کے گھر زمین و جائداد سب ضبط کر لی جائے گی، جس کا صاف اور واضح مطلب ہوگا کہ وہ بھارت کا رہنے والا نہیں ہے اور ان کی زبان اور اصطلاح میں وہ گھس پیٹھی ہے ۔
آپ اور ہم تصور کیجئے اگر ایسا ہوگیا اور وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو مسلمانوں کا اس ملک میں کیا حشر اور انجام ہوگا ۔ کیسی ذلت اور درگت ہوگی کیا رونگٹے کھڑے کرنے والے حالات ہوں گے ۔
*اس* لئے اس بل اور ایکٹ کو ناکام بنانے اور کالعدم کرنے کے لئے ہمیں جو کچھ جمہوری انداز میں کرنا پڑے ہم ضرور کریں اور کسی طرح مطمئن ہوکر نہ بیٹھیں ورنہ آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایک حساس اور زندہ قوم وہی ہے جو اپنی آنے والی نسلوں کو ایک خوبصورت اور کامیاب مستقبل اور بھویش دےکر دنیا سے جائے ۔ جس طریقے سے ہمارے اسلاف اور پرکھوں نے ہمیں دیا ہے ۔ آج ہم فخر سے اور شان سے کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے ۔ہم نے اس کو آزادی دلائی ہے جتنا حق اس ملک میں برادران وطن کا ہے اتنا ہی حق ہمارا ہے ۔ ہمارے پرکھوں نے اس کے لئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ۔ اسی طرح سے آنے والی نسلیں ہماری قربانیاں یاد کریں گی اگر ہم ان کے لئے اچھا مستقبل اور ماحول بنا کر جائیں گے ۔ کل وہ بھی فخر سے سر اٹھا کر جی سکیں گے اور یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہم ان کے حق کی لڑائی لڑیں گے ۔اگر آج ہم چپ بیٹھ گئے ان کے حق کی لڑائی نہیں لڑے اپنے ملک کے دستور کو بدلنے سے نہیں بچائے تو یہ سمجھ لیں کہ آنے والے وقت میں ہمارے بچے غلامی کا طوق پہننے پر مجبور ہوجائیں گے اور ہمیں ہماری بزدلی پر آنے والی نسلیں لعن طعن کریں گی ۔
موجودہ حالات سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مذھب کی بنیاد پر سوتیلا پن کا سلوک کیا جارہا ہے اور ملک کی اکھنڈتا اور ایکتا کو توڑنے کی منصوبہ بند کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے بھی مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی گئیں۔ لو جہاد کا معاملہ اٹھایا ہم نے صبر و برداشت سے کام لیا ۔ تین طلاق کے معاملے میں ہم نے خاموشی اختیار کی، کشمیر کے معاملے بھی ہم نے کوئی آواز نہیں اٹھائی بابری مسجد کے معاملے میں بھی ہم نے صبر کیا ۔ اور ملک کی شانتی اور امن کو قائم رکھا کیوں کہ مسلمان امن و سلامتی کے داعی اور شانتی کے چاہنے والے ہیں ۔ ہمیں اپنے ملک سے بے پناہ محبت ہے، کیونکہ اس کی آزادی میں سب سے زیادہ ہماری جانیں گئی ہیں ۔ لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوگیا اور صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہمیں یہ منظور نہیں ہے کہ ہم ایسے ایکٹ اور قانون کو قبول کریں جس کے قبول کر لینے کے بعد ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی اس ملک سے بےدخل کردی جائے گی ۔ ہمیں یہ بل اور ایکٹ اس لئے منظور نہیں ہے کہ اس سے ملک کے بہت سے شہری خاص طور پر غریب اور ناخواندہ طبقہ پریشان ہوں گے اور ان کو اپنے وجود کو ثابت کرنے میں پاپڑ بیلنے پڑ جائیں گے ۔ اور مسلمانوں کو کیمپ میں رہنے پر مجبور کر دیا جائے گا ۔ یہ بل جمہوریت کی روح کے خلاف ہے ۔یہاں کے آئین کے خلاف ہے دستور ہند کی دفعہ 14 ۔ 15- 19 کے مکمل خلاف ہے ۔ جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں کے تمام لوگوں کو برابری کا حق حاصل ہے ۔ کسی کے ساتھ رنگ نسل ذات مذھب اور دھرم کے نام پر کوئی بھید بھاؤ اور دہرا رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
*اس* ایکٹ کی خطرناکی اور اس کے منفی اور بھیانک نتائج اور انجام سے برادران وطن بھی واقف ہو رہے ہیں اور اس جمہوری اور دستوری لڑائی میں میں وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے ہو رہے ہیں ۔
*لیکن اس وقت یہ ملک عجیب دو راہے پر کھڑا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ملک کدھر جارہا ہے اس کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے ۔ کیوں حالات اس طرح بے قابو ہوتے جارہے ہیں، عجیب بے چینی کا ماحول اور سماں ہے*۔
*این آر سی اور سی اے اے کے مسئلہ پر اس وقت ایک بڑی* *تعداد سڑکوں پر جمع ہے، مذہب، ذات، پات اور تمام معاشرتی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یکمشت ہو کر انقلاب کا نغمہ گایا جارہا ہے، بیرون ملک بھی اس کی چیخیں پہونچیں اور ملک ملک سے مذمتی بیانات جاری ہوئے ہیں، ہندوازم کا مکروہ چہرا سامنے آیا ہے اور ہندو اکثریت کی جانب سے تشدد و ناانصافی کی ایک نئی عبارت لکھی گئی ہے، ایسے میں سرکار کی بوکھلاہٹ یقینی ہے، یہی وجہ ہے کہ دن کے اجالے سے زیادہ روشن جھوٹ بولے جارہے ہیں، امت شاہ اور ان کے* *معاونین NRC اور ڈیٹینشن کیمپوں کی تصدیق کر رہے ہیں، تو دوسری طرف رام لیلا میدان دہلی سے عوام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سرے سے ہی ان کا انکار کردیا ہے، اسے سازش اور حکومت وقت کے ساتھ بے جا افواہ پھیلانے کی بات کہہ دی ہے_ بہر کیف یہ ان کی* *جھجھک اور عوام کی طاقت کے سامنے کھسکتی کرسی کا خوف ہے، لیکن رعونت، انانیت اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے؛ کہ ابھی تک کئی اموات کے باوجود اور متعدد زخمی افراد کے خون سے سرزمین کی پیشانی آلود کرنے کے باوجود ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان نہیں کیا گیا*
*وہ چاہتے ہیں کہ ملک جل جائے، ماحول یونہی آتش زدہ رہے، عوام کمزور ہو کر اور چیخ کر خود تھک جائیں، ٹھٹرتی سردی میں ان کا خون بھی سرد ہوجائے، چنانچہ نت نئے طریقے سے ان کی آزمائش کی جارہی ہے، بندوق کی گولیوں سے بھی استقبال ہورہا ہے، احتجاج کے بنیادی حق پر شب خوں مارا جارہا ہے، معموملی پتھراو پر بھی محکمہ پولس کا ظلم اور بر بریت کا چہرہ کھل کر سامنے آجاتا ہے، ساتھ ہی جھوٹ اور فریب کیلئے میڈیا اپنا زر خرید غلام بنا رکھا ہے_ اگر ان سب سے بھی کچھ ہوا تو پھر کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ انہیں دوسرے اہم مدعا میں الجھا کر رکھ دیا جائے، جائز قانون کو ہی یوں پیچیدہ بنا دیا جائے کہ آسانی کے ساتھ کسی بھی آنکھ میں دھول جھونکی جا سکے، اور انہیں سوچنے پر مجبور کیا سکے، چنانچہ کل ہی (۲۴/۱۲/۲۰۱۹) بی جے پی کی کیبینیٹ نے NPR لاگو کرنے کی اجازت دی ہے، اور اس کیلئے اخراجات بھی طے کردئے ہیں، اس کا مطلب ہے National population register۔ اسے اردو میں مردم شماری کہتے ہیں، یہ عام بات ہے کہ سرکاریں ہر دس سال میں اسے انجام دیتی ہیں، گزشتہ مردم شماری ۲۰۱۰ میں ہوئی تھی، اب اسے ۲۰۲۰ میں ہونا ہے، یہ سنہ ۲۰۰۳ مردم شماری ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا تھا، یہ بے حد سادہ اور صاف ستھرا عمل ہوتا ہے، جس میں عوام کو عموما کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ان کیلئے اتنا ہی کافی ہوتا تھا کہ اپنی معلومات فراہم کردیں۔*
*یہ بھی جان لینا چاہئے کہ NRC اور NPR میں کیا فرق تھا، NRC کا عمل ۱۹۵۵ کے ایکٹ کے مطابق ہوتا ہے، اس میں زمین کے کاغذات وغیرہ کا بتانا ضروری ہے؛ جبکہ NPR کا عمل ۲۰۰۳ ایکٹ کے مطابق ہے، اور اس میں زمینی کاغذات وغیرہ کی کوئی مانگ نہ تھی_ صحیح بات یہ ہے کہ NPR دراصل ایک حربہ ہے جو NRC کے بدلے کروایا جارہا ہے، چونکہ NRC پر عمل درآمد مشکل ہے، اسی لئے نئی راہ نکالی گئی ہے، اس بار امت شاہ نے اس میں تقریبا وہی شرائط رکھے ہیں، جو NRC کیلئے مانے جاتے تھے، جیسے ماں باپ کی تاریخ پیدائش سرٹیفیکیٹ_ ” غور کیجئے_ کہ جب خود کا برتھ سرٹیفیکیٹ مشکل سے بنا ہو تو اس زمانے میں جب ہندوستان میں صرف ۶۶ فیصد ناخواندگی کیونکر پیدائش سرٹیفیکیٹ بنوائے گئے ہوں گے_؟”۔ اسی طرح آپ کہاں رہتے ہیں اور اس سے پہلے کہاں رہتے تھے_ اگر آپ کہیں پر چھہ مہینے سے مقیم ہیں اور آئندہ چھہ ماہ رہنے کی امید ہے تو وہاں کے ثبوت/ اس شرط کے مطابق بیرون ممالک کے لوگ بھی شامل ہوں گے_ پین کارڈ_ آدھار کارڈ /مگر یہ لازم نہ ہوگا_ ووٹر آٹی کارڈ_ ڈرائیونگ لائسنس_ اور موبائل نمبر_ پاسپورٹ نمبر _ یہ وہ شرائط ہیں جو NRC میں رکھے گئے تھے، NPR میں گزشتہ دفعہ یہ شرطیں نہیں تھیں۔*
*پچھلی دفعہ جب مردم شماری کی گئی تھی تو پندرہ نقاط پر تفصیلات مانگی گئی تھی، اس بار انہوں نے اکیس نقاط شامل کئے ہیں۔ یہ سرکار کی دوغلی پالیسی ہے، جسے بنگال اور کیرل سرکار نے سمجھ لیا ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے صوبوں میں اس کا کام بند کروا دیا ہے، یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ اس طرح رواں حکومت اپنی انا کی تسکین اور ہندو راشٹر کی تکمیل کے ایجنڈے پر گامزن ہے، ظاہر ہے جب کوئی NPR میں اپنے مکمل ثبوت پیش نہ کرپایا تو وہ مشکوک قرار پائے گا، اور اس طرح اس کے خلاف کاروائی کرنے کا جواز ہوگا_ چنانچہ ملک کی نامور شخصیات نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے، ارونودھتی رائے نے اسے NCR کیلئے زمین ہموار کرنے کا ایک آلہ بتایا ہے، اسد الدین اویسی نے بے باک بیان دیا ہے، کنہیا کمار اور فرحاخان نے بھی ٹویٹ کیا ہے_ وقت ہے کہ سیاست کی سب سے خطرناک چال کو سمجھئے_! CAA اور NRC کے ساتھ NPR کی بھی مخالفت کیجئے_ ورنہ حکومت کی ہٹلر نوازی کام آجائے گی، بھگوا رنگ چڑھ جائے گا اور سہ رنگ پھیکا پڑ جائے گا، جمہوریت کی بنیادیں ملبے میں تبدیل ہوجائیں گی اور آزاد ہندوستان کا خواب صحیح معنوں میں گرد آلود ہوجائے گا۔*

*جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون*
*ظلم و عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون*
*تشنگی نفس کے جذبوں کی بجھانے کیلئے*
*نوع انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون*
*ان* حالات میں ہمیں ایک طرف ظاہری تدبیر ، قانونی کارروائی و چارہ جوئی اور احتجاج و پروٹسٹ کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنا ہے وہیں ہمیں دعا و ذکر توبہ و استغفار کا اہتمام اور خدا سے مضبوط تعلق بنانا ہوگا ۔ بغیر خدا شناسی اور تعلق مع اللہ کے ان حالات و مشکلات سے نکلنا نا ممکن ہے ۔ ماضی قریب کے ایک متبحر عالم اور قومی و ملی رہنما امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نے ایک موقع پر مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا :
*ہمارے سارے مسائل کا حقیقی حل خدا شناسی میں ہے ،ہمارا تعلق اللہ تعالی سے جتنا گہرا اور ہمارے دلوں میں خدا کا خوف جس قدر کامل ہوگا اتنا ہی ہمیں دینی و دنیاوی طور پر کامیابی ملے گی ۔ایمانی بصیرت اور عزم و ہمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہی اسلامی دینی اور اخلاقی فریضہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ اور رسول کو دل سے مانیں اور ان کی ہدایتوں پر عمل کریں ۔ اگر ہم دل سے نہ مانیں گے اور عمل نہیں کریں گے تو ہمارے اوپر مصائب کے بادل منڈلاتے رہیں گے ۔ اور ہماری بربادیوں کے تذکرے ہوتے رہیں گے ۔ اس لئے سب سے پہلے ہمیں اسلامی تعلیمات و احکامات پر عمل کرنا ہوگا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ہمیں جرآت و ہمت کے ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کرنا چاہیے ۔ ہمارے اندر یہ احساس ہونا چاہیے کہ موت برحق ہے ۔۔ یہ چار پائی پر بھی آسکتی ہے اور جنگل و بیاباں میں بھی، یہ گھر کے اندر بستر مرگ پر بھی آسکتی ہے اور ظالم کے ہاتھوں سے بھی، دل سے خوف نکالو ۔ ڈرو گے تو ختم ہو جاو گے ۔ ایک اللہ کے سامنے پیشانی جھکانے والوں کا ظالموں اور جابروں کے سامنے سر جھک نہیں سکتا ۔ ملک کا حال بہت خراب ہے آج تو ہم کو مٹانے کے لیے جتنی منظم سازشیں ہو رہی ہیں اس سے قبل نہیں ہوئی تھیں ۔ جتنا وحشتناک دور گزر چکا ہے اس سے زیادہ نازک وقت ہمارے سامنے آرہا ہے ۔ آنے والا وقت بہت تباہ کن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عزت ،جان و مال کی حفاظت کرنا ہم پر فرض ہے بزدلی ایمان کے منافی ہے اس لئے آپ سبھوں کی ذمہ داری ہے کہ ہمت و جرآت اور عزیمت کے ساتھ حالات کا سامنا کریں ،ایسی تبدیلی پیدا کریں کہ آج کے ظالموں کو بھی یہ احساس ہو جائے کہ نقصان ہمارا بھی ہوسکتا ہے* ( امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رح بحوالہ حضرت امیر شریعت نقوش و تاثرات ۵۲۶۔ ۵۲۷)
*اس* وقت وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے اس کی پیشن گوئی علماء اور اہل فراست پہلے سے کر رہے تھے کہ باطل طاقتیں یہودیوں کے اشارے پر ہندوستان میں اندلس اور اسپین کے حالات بنانے کی پوری کوشش کرچکے ہیں ۔ ان حالات میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے ۔ہم میں سے ہر شخص کا فرض اور ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان حالات میں حتی الامکان اپنی خدمات ملک عزیز کی سلامتی اور حفاظت کے لیے پیش کریں ۔ایک سب سے اہم اور ضروری کام جو ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ ہم وطنوں کو باشعور بنائیں ۔ ان کو ملک کے صحیح حالات سے باخبر کریں ۔ان فاشسٹ طاقتوں اور منو وادیوں کے بہکاوے سے بچائیں ۔ اس وقت آر ایس ایس کے کارندے شہر شہر اور گاؤں گاؤں جا جا کر مختلف ذرائع سے ان کو سمجھا رہے ہیں کہ این آر سی اور سی اے اے سے کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس سے صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا ۔ اور طرح طرح سے انہیں لالچ دے رہے ہیں اور یہ سمجھا رہے ہیں کہ جب مسلمانوں سے ملک خالی ہوجائے گا تو ان کی جائدادیں تم کو مل جائے گیں ۔ اس لئے سارے ہندو اس کی تائید کریں ۔یہ کام خاص طور پر بہار بنگال یوپی ہریانہ دلی مدھیہ پردیش وغیرہ میں زوروں پر ہے ۔ یوپی تو اس وقت سب سے زیادہ حساس اور نازک بنا ہوا ہے ۔اور یہاں کے دیہات تو فرقہ پرستوں کی مشقوں اور غلط فہمیوں کا مرکز بن چکے ہیں ،جس کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ تشویش پائی جا رہی ہے ۔
ہم کو منظم اور منصوبہ بند طریقے سے برادران وطن کو بتانا ہے کہ اس ایکٹ سے سب کا نقصان ہے اور سب کی بربادی ہے اس بل سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں دلتوں ہے ۔ پسماندہ طبقوں، پچھڑوں (ایس ٹی ایس سی او بی سی ) کا سب سے زیادہ نقصان ہے ۔ اس وقت ان حالات کا مقابلہ کرنا ہمارے لئے فرض عین کی طرح ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جن کے اندر زبان و بیان اور قلم و قرطاس کی صلاحیت دی ہے ان کو میدان میں کود جانا چاہیے ۔ان کو باقاعدہ ہدف ملنے تک اپنے مشن کو جاری رکھنا چاہیے نہ خود آنکھ بند کریں اور نہ لوگوں کو غفلت میں رہنے دیں ۔ یہ وقت کسی کے لئے آرام اور سونے کا نہیں ہے ۔ ہم لوگوں کو بتائیں کہ یہ وقت ظاہری تدبیر اختیار کرنے کا بھی اور رجوع الی اللہ کا بھی ۔ ہم صدق دل سے دعاؤں میں لگ جائیں ۔ توبہ و استغفار کریں۔ نفلی روزہ رکھ کر اللہ سے دعا کریں ۔ معلوم نہیں کس پراگندہ حال اور اشعث و اغبر کی دعا قبول ہوجائے اور وطن عزیز کو اس آزمائش سے نکال دے ۔
ان حالات مین ہماری ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ ہم مسلمانوں کو سمجھائیں کہ آپ شکست خوردہ نہ ہوں نفسیاتی طور پر مرعوب اور ہزیمت خوردہ نہ بنیں ۔ یقینا و اعتماد رکھیں جو نوشتئہ تقدیر ہے جو قضا و قدر میں لکھ دئے گئے ہیں وہ ہوکر رہے گا اصل تو آخرت ہے دنیا کی کیا حقیقت ہے ؟ اس دنیا کی حقیقت تو اللہ کے یہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے ۔ اس لئے بالکل نہ ڈریں اور نہ خوف کھائیں ۔حوصلہ اور ہمت بلند رکھیں ۔ جو لوگ میدان میں ہیں ان کو حوصلہ دیں ان کے لئے دعائیں کریں ۔ ایسی تقریر اور تحریر سے بچیں جس سے آپس ہی میں اختلاف و انتشار بڑھے اور اپنا ہی وزن اور حیثیت ختم ہو ۔ ایک اور چیز جو ضروری ہے کے ایسے حالات کے مقابلے کے لئے منفی نہیں بلکہ ایجابی اور مثبت طریقہ اختیار کریں اور یہ یقین رکھیں کہ پریشانیوں اور دقتوں کے بعد آسانیاں آتی ہیں ۔ عسر کے بعد یسر کا معاملہ ہے ۔ دقتیں امتحانات و آزمائش امتوں اور قوموں کو مضبوط بنانے کے لئے آتے ہیں نئ قیادتیں ابھرتی ہیں ۔ نوجوان نسل بیدار ہوتی ہے اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی ہمت شعور اور جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اپنے اور غیروں کی تمیز ہوتی ہے مصلح اور مفسد مومن اور منافق کا فرق واضح ہوتا ہے ۔ مخلص اور صادق نکھر جاتے ہیں خائن اور غدار جان لئے جاتے ہیں ۔
ملک کے تمام باشندوں سے سے بلا فرق مذھب و ملت روابط بہتر اور خوشگوار بنائیں اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کریں ۔ حکومت کی منفی اور سلبی پالیسیوں سے ان کو واقف کرائیں اور ان کو بتائیں کہ اگر کشتی کے نیچے کی منزل کےلوگ ڈوبیں گے تو اوپر کی منزل والے بھی نہیں بچ پائیں گے ہلاکت دونوں کی ہوگی ۔ اس لئے آپ لوگ غلط فہمیوں میں نہ رہیں اور نہ جھوٹے خواب میں مبتلا رہیں ۔
ملکی مسائل کو حل کرنے میں یونیورسٹی کے طلبہ جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ لائق صد تحسین و ستائش ہیں وہ اس مہم کو جب تک مطالبہ منظور نہ ہوجائے جاری رکھیں ملکی مسائل کو حل کرنے میں یہ احتجاج ان شاء اللہ سب سے زیادہ موثر ہوگا ۔ ان طلبہ سے اپیل ہے کہ اس مہم میں غیر مسلم طلبہ کی شرکت کو اور زیادہ کریں ۔
ہم مسلمان اپنوں میں اصلاح اور اتحاد و اتفاق پیدا کریں اور غیر مسلم بھائیوں تک اسلام کی تعلیمات پہنچائیں ۔ نیز اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر اور مل جل کر ملک کو آگے بڑھائیں اور اس کے لئے ٹھوس اقدامات کریں اور مضبوط حکمت عملی طے کریں ان شاء اللہ حالات بدلیں گے فضا تبدیل ہوگی اور ماحول خوشگوار ہوں گے ۔ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے گی شام کے بعد صبح آئے گی رات کے بعد دن نکلے گا شرط یہ ہے کہ
*جسے فضول سمجھ کر بجھا دیا تم نے*
*وہی چراغ جلاو تو روشنی ہوگی*

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close