مضامین و مقالات

حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی ادبی خدمات کے آئینہ میں- جنید احمد نور، بہرائچ

حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی ادبی خدمات کے آئینہ میں- جنید احمد نور، بہرائچ

                                                                 حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کی پیدائش                  ۱۹۰۲؁ ء میں اتر پردیش کے تاریخی شہربہرائچ کے محلہ برہمنی پورہ چوک بازار میں حاجی براتی میاں نقشبندیؒ چونا والے کے یہاں ہوئی تھی۔آپ کے والد شہر کے معجز شخصیات میں تھے۔آپ کے والد شہر بہرائچ کے ریئسوں میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے گھر پر ہی عربی، اردو اور فارسی زبان کی ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد میں شہر کے اسکول  سے مڈل تک کی تعلیم حاصل کی۔آپ فارسی ،اردو اور انگریزی زبانوں پر مہارت رکھتے تھے۔شفیع صاحب چونا اور بیڑی سگریٹ کا کاروبار کرتے تھے۔ ٹکہ ماچس  اور نمبر۱۰ سگریٹ کے ڈسٹری بیوٹر تھے۔شہر کے مشہور’’ سنگم ہوٹل‘‘ کے بانی بھی تھے۔ شہر بہرائچ کے مشہور تاجروں میں شمار ہوتے تھے ۔شفیعؔ صاحب کی اہلیہ کا نام حجن مریم خاتون تھا۔شفیع ؔصاحب کے پانچ بیٹے   ۱۔محمد نعیم اللہ۲۔محمد شمیم اللہ(راقم کے نانا)،۳۔حاجی محمد نسیم اللہ ۴۔محمد علیم اللہ ۵۔محمد شفیق اللہ  اور تین بیٹیاں  ۱۔ستارہ بیگم (راقم کی دادی)،انوری بیگم  ۳۔ بلقیس بیگم۔اللہ کے فضل سے بیٹوں میں حاجی محمد نسیم اللہ اور  حاجی محمد علیم اللہ صاحب اور تینوں بیٹیاں بقید حیات ہیں۔                                                                             میرے پرنانا شفیع ؔ بہرائچی کو شروع سے ہی اردو ادب سے لگاؤ تھا ۔ آپ کا ادبی سفر ۱۹۳۰؁ء کے  دور میں شروع ہوتا ہے جب آپ نے باقاعدہ شاعری شروع کی ۔آپ نے بزریعہ خط کتابت حضرت جگر ؔ بسوانی سے اپنے کلاموں کی اصلاح کرائی اور انکے شاگرد بنے۔بعد میں رافت ؔ بہرائچی سے صلاح اور مشورہ لیتے تھے۔راٖفت ؔ بہرائچی بھی حضرت جگر ؔ بسوانی کے شاگرد تھے،اور روز آ پ کی دکان پر آتے تھے۔شفیع ؔ بہرائچی کی دکان’’ سنگم ہوٹل‘‘ پراکژشام کو بہرائچ کے شعراء کی محفل سجتی تھی جہاں حضرت شوقؔ بہرائچی،رافت ؔ بہرائچی،بابا جمال ؔبہرائچی،وصفیؔ بہرائچی،محسنؔ زیدی،نعمتؔ بہرائچی،ساغر مہدی وغیرہ شامل رہتے تھے ۔     

                                        کیفی ؔ اعؔظمی صاحب کا بچپن شہر بہرائچ میں ہی گزرا ہے۔کیفی ؔ صاحب کے والد صاحب نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ کے نواب قزلباش کے یہاں ملازمت کرتے تھے اور شہر بہرائچ کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں رہتے تھے۔شفیع صاحب کیفی ؔ صاحب کے بہرائچ کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔کیفی ؔ اعظمی جب بھی بہرائچ آتے شفیع ؔصاحب سے ضرور ملتے تھے۔      

  ڈاکٹر نعیم اللہ خیالیؔ !  شفیعؔ صاحب کی ادبی خدمات کے بارے میں لکھتے ہیں :   شفیع بہرائچی کے دو مجموعہ کلام منظر عام پر آئے (۱) مطبوعہ آئینہ سخن غزلوں کا مجموعہ (۲)جلوئے غازی نعت اور منقبت کا مجموعہ،اوغیر مطبوعہ کئی سو غزلوں اور مجموعہ نعت قریب  ۱۲۵  کئی ڈائریوں کی شکل میں تھے۔[1]   ۲۰۱۵؁ء میں آپ کے پوتے محمد فیض اللہ  تخلص فیضؔ بہرائچی نے اپنے مجموعہ ’’احساسات فیض‘‘ میں آپ کے کلام کا کچھ حصہ شائع کرایا تھا۔  ۲۰۱۷؁ء میں آپ کی ایک نایاب ڈایری پورانے کاغذات میں ملی جو مرتب کردہ تھی جو اب  ۲۰۱۹؁ء میں مرتب ہوکر کتابی شکل میں ’’ جذباتِ شفیع‘‘ کے نام سے شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔   رزمیؔ  بہرائچی آپ  کے بارے میں  لکھتے ہیں   

شفیعؔ صاحب کہنہ مشق اور زود گو شاعر تھے۔بڑی مخیر اوردیندار ہستی تھی،ایک فنکار ہونے کی حیثیت سے آپ میں ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ اپنے کلام میں ایک ساتھ نفی اور اثبات کو اس فن کارانہ طریقہ سے سمودیتے تھے کہ سامعین کا ذہن حیرانی و امتیازی ہی میں کھو جاتا تھا ۔بسااوقات سامع اپنی غلط فہمی پر خود ماتم کرتا تھا۔مختصر یہ کی آپ کی ذات گرامی بہت سی خصوصیات کی حامل تھی۔‘‘[2]

         ممتاز اور کہنہ مشق شاعر اظہار ؔ وارثی صاحب آپ کے بارے میں لکھتے ہیں

         عہد رفتہ کے ممتاز شعرائے بہرائچ کی فہرست میں حاجی شفیع اللہ شفیع  ؔ بہرائچی کا بھی نام شامل ہے۔شفیع ؔ بہرائچی حاجی براتی میاں نقشبندی  ؒ کے صاحبزادے اور جگرؔ بسوانی کے شاگرد تھے۔ان کا قلم روایتی شاعری کی طویل و عریض سرزمین پر لگ بھگ پچاس سال تک طرح طرح کے گل بوٹے کھلا تا رہا۔ ان کی سخن وری حمد ،نعت،منقبت اور غزل پر محیط ہے ۔نعتیں عشق  رسولﷺ اور حسن عقیدت سے معمور ہیں،تو غزلیں اور قطعات سادگی اور پرکاری کی آئینہ  دارہیں۔ان کا ہر شعر شاعری کے پر اسرار ماحول سے دور رہ کر پہلی قرأت میں ہی قاری کے تفہم تک پہنچ جاتا ہے۔شفیعؔ صاحب کے کلام میں میں جگہ جگہ اپسے اشعار موجود ہیں جو فکر کی گہرائی اور خیالات کی پاکیزگی کا پتہ دیتے ہیں ۔

ڈاکٹر عبرت ؔ بہرائچی شفیع ؔ صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں

انجمن ریاض ادب بہرائچ کا ربط و تعلق  والحاق اس ادبی نرسری سے تھا جس کی اسا س اور بنیاد مرحوم عبدالغفار خاں شہرتؔ بہرائچی نے رکھی تھی۔اس انجمن کے صدر  آنجہانی بابو لاڈلی پرساد حیرتؔ بہرائچی تھے۔عبدالرحمٰن خاں وصفی ؔ بہرائچی سکریٹری اور حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی خازن تھے جو اپنے حسن اور اخلاق ،ایمان داری اور اعلٰی کردار کی وجہ سے نمایا ں حیثیت رکھتے تھے۔حاجی صاحب موصوف کو نہایت ذکی الطبع اور عبقری تھے۔انھیں ادبی رسائل اور جریدوں سے بیحد عشق تھا۔ان کا زیادہ تر وقت مطالعہ میں گزرتا تھا۔عاشق رسولﷺ ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کے سچے عاشق تھے۔عبرت ؔ صاحب آگے لکھتے ہیں کہ شام کے وقت بازار میں دو اسکول لگتے تھے ،ایک اسکول شاہی گھنٹہ گھر پارک میں  اشوک کے پیڑ کے نیچے بابا جمال ؔ بہرائچی صاحب لگاتے تھے جس میں ان کے شاگرد شریک ہوتے تھے،دوسرا اسکول حاجی شفیع ؔ بہرائچی کی دوکان پر لگتا تھا جس میں اہل بصیرت اور ارباب سخن حصہ لیتے تھے اور علوم شعریہ پر بحث و تکرار ہوتی تھی۔حاجی صاحب سے ایک واقعہ بھی جڑا  ہو اہے ،شہربہرائچ میں جامعہ مسعودیہ نورالعلوم کی جانب سے ایک سالانہ جلسہ ہوا کرتا تھا جس میں  فاضل اجل کے علاوہ چند شعراء کرام بھی شرکت فرماتے تھے ۔شعرا میں حضرت جگر’مرادآبادی ،روِش ؔ صدیقی،علامہ انور ؔ صابری اور حفیظ جونپوری وغیرہ۔ان لوگوں کا قیام مرحوم حمید اللہ خاں بھٹے والے(سابق ممبر اسمبلی چردا ،بہرائچ) کے مہمان خانے پر ہوا کرتا تھا ۔جلسہ کا دن تھا بہرائچ کے جید بزرگ شعراء کرام عصر کے بعد مہمان خانے پر ان برگزیدہ اشخاص سے ملاقات کے لئے پہنچ گئے جن میں حاجی صاحب بھی شریک تھے۔جگر ؔ صاحب نے فرمایا کہ ابھی جلسے میں بہت وقت ہے ،تعارفاً آپ لوگ کچھ سنائیے،رافتؔ صاحب نے حاجی صاحب کی طرف اشارہ کیا اور کہا ایک نعت اور ایک غزل سنایئے۔حاجی صاحب نے دو کلام پیش کئے ،جگرؔ صاحب نےآپ سے دوسری نعت کی فرمائش کردی ،نعت پڑھی گئی اور لوگوں نے بھی موقع کی نزاکت کو ذہن میں  رکھتے ہوئے نعتیں سنائیں لیکن حاجی صاحب کی نعتوں پر حاضرین نے محفل نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ،جگر ؔ صاحب اور علامہ انورؔ صابری بہت محظوظ ہوئے ،جگرؔ صاحب نے شفیعؔ صاحب سے یہاں تک کہہ دیاکہ آپ غزلیں کم کہیں نعتوں پر اپنی توجہ مرکوز کیجئے ۔شفیع ؔ صاحب نے اپ پر عمل کیا اور اپنے مشن میں کامیاب و کامران رہے۔

حاجی شفیع اللہ شفیع ؔ بہرائچی کی وفات ۶؍ جولائی ۱۹۷۳؁ء کوشہر کے محلہ چاندپورہ واقع ریائش گاہ پر ہوئی۔آپ کی تدفین احاطہ حضرت حیرت شاہؒ میں آپ کے والد حاجی براتی میاں نقشبندی ؒ کے پہلو میں ہوئی۔

مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق اسی علمی خانوادے سے ہیں۔


سخن ورانِ بہرائچ  قلمی نسخہ  ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خیالیؔ

خیابانِ جمال (بہرائچی ر. م., 1970, صفحہ 12)

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close