مضامین و مقالات

جس بات کا اندیشہ تھا آخر وہی ہوا  ! احساس نایاب

جس بات کا اندیشہ تھا آخر وہی ہوا  
قتل برہمن نے کیا, قاتل مسلماں بن گیا ………
احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )
جی ہاں جس بات کا اندیشہ تھا آخر وہی ہو رہا ہے, ذاتی رنجش کے چلتے کئے گئے قتل پہ ایک بار پھر سے ہندو مسلم کا پتہ پھینک کر ملک میں فرقہ واری رنگ چڑھایا جارہا ہے …….
جبکہ قتل کے دن سے ہی کملیش کی ماں کسم تیواری میڈیا کے آگے چیخ چیخ کر اپنے بیٹے کے قتل کی داستان بیان کرتے ہوئے بارہا یوگی سے سوال پوچھ رہی ہے لیکن اب اُس ماں کی بھی ذہن سازی کرنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے, کبھی معاوضہ کے نام پہ 5 کڑور کی لالچ دلاکر , تو کہیں کوئی سنگھی نیتا قاتل کو پکڑنے والے کو انعام کے طور پہ اپنا گھر بیچ کر 1 کڑوڑ دینے کی بات کہتے ہوئے جھوٹی ہمدردی جتا رہا ہے , تو کہیں مسلمانوں کو موردالزام ٹہرا کر کسم تیواری کو گمراہ کرکے ان کے خلاف بیان دینے کے لئے اکسایا جارہا ہے اور ہندو تنظیموں سے جڑے سنگھیوں سے لے کر پولس و میڈیا میں بھونکے والے سارے دلال یوگی اور شیو کمار کو بچانے کے خاطر میدان میں کود پڑے ہیں ………. 
دراصل ان کا مقصد صاف ہے لنکیش تیواری کے قتل کا الزام مسلمانوں کے سر مڑھ کر مہاراشٹرا اور دیگر مقامات پہ ہورہے انتخابات میں فائدہ حاصل کرنا اور بابری مسجد کے فیصلے سے پہلے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ماحول تیار کرنے کی گھناؤنی سازش ہے جس کے چلتے یہ کوئی موقعہ گنوانا نہیں چاہتے بلکہ اپنی اور سے خود موقعہ بناتے ہیں ,  چاہے وہ پلوامہ کی شکل میں 40 جوانوں کی بلی چڑھا کر ہی کیوں نہ ہو 
ویسے بھی جس سرکار نے 40 جوانوں اور اُن کے اہل خانہ کی  پرواہ نہیں کی وہ کملیش اور کملیش کے اہل خانہ کی کیا پرواہ کرینگے ….. جس کا جیتا جاگتا ثبوت کملیش کے اہل خانہ کے انکار کرنے کے باوجود انہیں جبرا یوگی آدیتیناتھ سے ملاقات کے لئے لے جایا گیا اور ایک موقعہ پہ اُن پہ خوب لاٹھیاں برسائی گئیں جس میں کسی کا سر پھوٹا کسی کو شدید زخم لگے تو کسی کے دانت ٹوٹے اور یہ سب کچھ خود کسم تیواری نے کیمرے کے آگے کہا ہے ……….
یہاں پہ ہر مذہب سے جڑے لوگوں کے لئے سوچنے کی بات ہے, اگر انہیں سچ میں کملیش کے قتل سے فرق پڑتا,  اُس کے اہل خانہ کے غم کا احساس ہوتا تو آج وہ اُس کی موت پہ سیاست کرنے ہندو مسلمان کرنے کے بجائے کملیش کی ماں کا کھل کر ساتھ دیتے اور اصل ملزمان سے پوچھ تاچھ کرتے جبکہ کُسم تیواری نے میڈیا کے آگے صاف صاف الفاظ میں کہا ہے کہ مندر پہ قبضہ جمانے کے لئے شیوکمار نے میرے بیٹے کو مروا دیا , یوگی کی دال نہیں گل رہی تھی وہ جلتا تھا اس لئے میرے بیٹے کو مروا دیا 
اتنا ہی نہیں لائیو شو میں اے بی پی نیوس اینکر سُمیت اوستھی پہ بھڑکتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ ہندو مسلم کھیلنا بند کریں,  سرکار کو تو کچھ کہہ نہیں سکتے , تمہارا چینل جو بند ہوجائے گا ……
ماں کے ساتھ کملیش کے دونوں بیٹے اور بھتیجے نے بھی پولس اور سرکار پہ کئی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں پولس ایجنسیوں کی جانچ پہ یقین نہیں ہے وہ کسی بےقسور کو پھنسادینگے ……….
 یہاں پہ یہ بات بھی بتاتے چلیں ,  قتل سے 4 دن قبل مقتول نے خود اپنے فیس بک پہ پوسٹ اور ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اُس کا قتل ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار بی جے پی اور آر ایس ایس ہونگے, مقتول نے مزید کہا ہے کہ ” شروعاتی دور میں جو لوگ اُس پہ ہنستے تھے وہ آج اُس پہ جلتے ہیں , اس لئے اُس کے خلاف سازشیں رچتے ہیں ……. کملیش نے فیس بک  پوسٹ کے آخری حصے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو ٹھگ کہتے ہوئے ہندؤں سے مخاطب ہوکر یہاں تک لکھا ہے  ” ہندؤں اگر میں سچے من آور سچ کے ساتھ ہندؤں کے لئے لڑ رہا ہوں تو میری موت کے بعد ان بھاجپا اور آر ایس ایس کی سازش کے خلاف ضرور لڑنا ……….
 غور طلب ان تمام پوسٹ اور اپنے اُس ویڈیو کے درمیان  کہیں پر بھی مقتول کملیش نے مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا نہ ہی یہ کہا کہ اُسے مسلمانوں سے کسی قسم کا خطرہ ہے یا پریشان کیا جارہا ہے باوجود کملیش کے قتل سے زبردستی مسلمانوں کو جوڑنا بی جے پی آر ایس ایس کی گندی سازش کا حصہ ہے …………….
 یوں تو چڑیل بھی سو گھر چھوڑ کر وار کرتی ہے لیکن یہ سنگھی برہمن اُس ڈائن کی طرح ہیں جو اپنی اولاد کو بھی نہیں چھوڑتی ….. ان کا شکار آج کملیش تو کل کوئی اور ہوسکتا ہے اس لئے منافقوں کو سمجھ جانا چاہئیے کہ اُنکی بقاء کہاں ہے ………
 لیکن دُکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ چالباز سنگھی برہمن اپنی منصوبہ بند سازشوں کے چلتے 4 سال پہلے ہوئے واقعہ کو مدعی بناکر جابجا مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں کررہے ہیں ,  اُن پہ جھوٹے من گھرت الزامات لگاکر , دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بلاوجہ اُن کے نام جوڑکر اُن معصوموں پہ ظلم کیا جارہا ہے , اب تک تقریباً 10 نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوچکی ہیں جن میں علماء, مفتی سبھی شامل ہیں ……. کل تک جو یوگی پولس قتل کی وجہ آپسی رنجش بتارہی تھی وہ گرگٹ کے رنگ کی طرح ہر دن اپنا بیان بدل رہی ہے اور مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کے لئے اُن کے خلاف جھوٹی کہانیاں بنا رہی ہے ……….. اب تو ایسا لگ رہا ہے 
یوگی پولس نے جن مسلم نوجوانوں کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے وہ انسان نہیں بلکہ جنات ہیں جو گجرات سے سنگھی بھیس میں اڑتے ہوئے آئے اور پلک جھپکتے کملیش کا قتل کرکے دوبارہ ہوا میں غائب ہوگئے …….. تبھی نوکر سے لے کر سکیورٹی گارڈ اور گھر کے کسی بھی فرد کو وہ نظر نہیں آئے ………. 
 ایسے تعصبی ماحول میں مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے اندر کسی قسم کی خوش فہمی نہ پالیں کہ کملیش کی ماں باشعور , سمجھدار عورت ہے وہ مستقل حق سچائی کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اُس کی تلوار صرف قاتلوں پہ اُٹھے گی ……… کیونکہ ہندوتوا شطرنج کا وہ پیادہ ہے جس کے آگے سارے پیادے ڈھیر ہیں ……….
ویسے بھی سنگھی بھاجپا کُسم تیواری کا 
مائنڈ واش کرنے کے لئے  ” سام, دام, دنڈ, بھید ” جیسے سارے پینترے آزمائے گی ……… اور ممکن ہے بہت جلد یہ بھی توتے کی بولی بولنے لگ جائیں ………
یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ جب کملیش کے اہل خانہ کی یوگی آدیتیاناتھ سے ملاقات ہوئی تو انہونے یوگی کے آگے بارہ شرطیں رکھیں ,جن میں  دو شرطین یہ تھیں کہ شہر میں کملیش کا مجسمہ بنایا جائے اور وہاں کے خورشید باغ کا نام بدل کر کملیش کے نام سے کملیش باغ رکھا جائے اس کے علاوہ اور 10 مانگیں کیا تھیں وہ ابھی تک سامنے نہیں آئی …………. لیکن یہاں پہ یہ بات کھٹک رہی ہے کہ آخر کیوں ساری مانگوں کو چھوڑ کر صرف مجسمہ بنانے اور خورشید باغ کا نام تبدیل کرنے کی مانگ کو منظرعام پہ لایا جارہا ہے ؟
 اس کے علاوہ حال ہی میں سوشیل میڈیا پہ ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں نرسنگھ آنند سرسوتی نامی خبیث کملیش کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہے جس میں کسم تیواری یعنی کملیش کی ماں بھی ساتھ ہے ” وہ اُس ویڈیو میں اپنے دیوی دیوتاؤں کی قسم کھاکر مسلمانوں کو گالی کے ساتھ دھمکی دے رہا ہے کہ ” میں نرسنگھ آنند سرسوتی ایک ایک مسلمان کو بتانا چاہتا ہوں میں اپنے ہتھیاروں کے بل پہ جو ماتم آج کملیش کے گھروں میں ہورہا ہے وہ ماتم تمام مسلمانوں کے گھروں میں  پہنچاؤنگا اور ایک ایک مسلمان کو بتارہا ہوں کے دیش اسلام سے مُکت ہوگا "………. سوشیل میڈیا کے ذریعہ اس طرح کے بھڑکاؤ بیان دینے ملک میں انتشار پھیلانے کے باوجود یہ غنڈے بدمعاش سانڈ کی طرح کھلے عام گھوم رہے ہیں انہیں نہ سرکار کا ڈر ہے نہ قانون کی پرواہ ……….
وہیں دوسری جانب بےقسور مسلم نوجوانوں کو صرف اس لئے بھی گرفتار کیا جارہا ہے کہ انہونے فیس بُک پہ چند جذباتی پوسٹ کئے تھے ……. سرکار اور پولس کا یہ دہرا میعار ملک کے امن کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے …….. 
ساتھ ہی کسم تیواری کی خاموشی مستقل آنے والے خوفناک طوفان کی اور اشارہ کررہی ہے کیونکہ جو عورت کل تک میڈیا سے لے کر ہر جگہ یوگی کو قتل کا ذمہ دار کہہ رہی تھی اور ہندو مسلم کرنے سے ناراض ہوکر بھڑک رہی تھی اس ویڈیو میں وہ مکمل خاموش ہیں ………. کہیں سنگھی کُسم تیواری کو گمراہ کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوگئے ؟؟؟
 اگر ایسا ہوا تو خوشفہمی میں جی رہے تمام مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ………..
 اس لئے حالات کے مدنظر مسلمان ہوش کے ناخن لیں ورنہ یہ خنزیر جیتے جی ہمیں دفن کردینگے ……… یہاں ہمارا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا نہیں ہے بلکہ خواب خرگوش سے جگانا ہے …………..
بیشک موت حیات اللہ سبحان تعالی کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے چاہنے نہ چاہنے سے نہ زندگی ملے گی نہ ہی موت آئے گی, لیکن خدارا کبھی موت سے نہ گھبرائیں نہ ہی اس بےوفا زندگی کی اتنی چاہت  کریں کہ بزدل بن کر زمین پہ رینگتے سسکتے کیڑوں کی طرح جینا مقدر بن جائے …………

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close