مضامین و مقالات

اخلاق وکردار کودرست کئے بغیر سماج کی تعمیر نہیں ہوسکتی -!تحریر مولانا فیاض احمد صدیقی

*اخلاق وکردار کودرست کئے بغیر سماج کی تعمیر نہیں ہوسکتی -!

تحریر مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :*

دین اسلام کے پانچ بنیادی ستون ہیں،جو عقائد، عبادات،معاملات اورمعاشرت پرمبنی ہے،شرعی ہدایات اوردینی تعلیمات ان پانچ ارکان میں سے کسی نہ کسی رکن سے ضرور تعلق رکھتے ہیں،اسی لئے ان پانچ چیزوں کو مرکزی اور بنیادی مقام حاصل ہے،اسلام نام ہے چند اعتقادات اورعملیات کا،جہاں تک بندے اورخداکا تعلق ہے وہ اتنااہم ہے کہ اعتقادات واعمال دونوں سے اسکالگاؤ ہے،لیکن جہاں تک ایک بندے کادوسرے بندے سے تعلق ہے وہ صرف اعمال کی ایک قسم معاملات سے پوراہوجاتاہے،پھر اخلاقیات کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اسکے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی،یہی وجہ ہے کہ بہت سے اخلاقی معاملات کوجزو ایمان قراردیاگیاہے،بلکہ بعثت نبویہ کامقصد ہی اخلاقی برتری کی تکمیل قرار دیاگیاہے،
ایک حدیث میں ارشاد ہے”بہترین اخلاق اوراعمال کی برتری کی تکمیل کےلئے میں بھیجاگیاہوں”ایک جگہ قاضی اطہر مبارکپوریؒ رقم طراز ہیں کہ”آخری سرچشمہ ہدایت،قرآن کریم جس طرح ایمان واعتقاد اورعبادات کی تعلیم دیتاہے بعینہ اسی طرح معاملات اوراخلاقیات کی بھی تلقین کرتاہے،جتنازوراحادیث اورسیر میں عبادات پردیاگیاہے اتناہی زور حسن اخلاق، شرافت اعمال اوربلندئ سیرت پربھی دیاگیاہے،مگر افسوس آج مسلمانوں نے چند اعتقادات وعبادات کانام اسلام سمجھ رکھاہے اوراخلاقیات سے اس طرح دور ہوگئے گویااسلام میں اسکاکوئی باب ہی نہیں،دین مبین کایہ شعبہ اس قدرمظلوم ہے کہ اس پرجتنابھی ماتم کیاجائے کم ہے”(اسلامی نظام زندگی)اخلاق کہتے ہیں اچھی عادت،اچھی خصلت،خوش مزاجی،تواضع وانکساری،بڑوں کی عزت،چھوٹوں پرشفقت ومحبت،لوگوں کی خطاو لغزش کو معاف کرنا،کمزوروں اورمظلوموں کی امداد کرنا،مخلوق خداکی خدمت،بدزبانی سےپرہیز،غصہ کے خودپرکنٹرول رکھنا،حرام وحلال کی تمیز،گناہ کی باتوں سے بچنا،ہرشخص کے ساتھ پیارو محبت کامعاملہ کرنا وغیرہ یہ ساری چیزیں اخلاقیات میں سے ہیں،ایک مثالی، صالح اورپاکیزہ معاشرے کی تعمیر اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان چیزوں پر سختی سے عمل نہ کیاجائے اوراسکو اپنی زندگی کاحصہ نہ بنایاجائے،جولوگ صرف نمازروزہ تک ہی عبادت اورریاضت کادائرہ سمجھتےہیں ان سے سوال ہے کہ اس فرمان رسولؐ کا کیامطلب ہے؟اورحسن اخلاق کواس فرمان کےمطابق کس شعبہ میں رکھاجائے؟حدیث کامفہوم یہ ہے”آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اورنمازی کے مرتبے کو پہونچ جاتاہے”بلکہ شریعت نے حسن خلق کو مومن کے نامہ اعمال میں سب سے اہم قراردیاہے،
ایک حدیث میں ہےکہ’ مومن کے نامہ اعمال میں قیامت کےدن میزان عمل میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں'(ترمذی)ایک پاکیزہ معاشرے کی تعمیر تواسی وقت ہوسکتی ہے جب آدمی خود کواخلاق وکردار کاغازی بنائے نہ کہ رفتاروگفتارکا،اور یہ کہ ہم میں سے ہرایک کے اندر یہ احساس پیداہوکہ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہماری ذمہ داری کیاہے؟ہماری حیثیت باپ کی ہے توپھرہم پرکیاذمہ داری ہے؟ہماری حیثیت اگرشوہر کی ہے توہمیں کیاکرناچاہئے؟اگر ہم اولاد ہیں توشریعت ہم سے کیامطالبہ کرتی ہے؟اگرہم تاجراورتجارت پیشہ ہیں تو پھرہم سے اسلام کامطالبہ کیاہے؟اگرہماراتعلق سماج کے کسی اورطبقے سے ہے توہماری ذمہ داری کیاہے؟بخاری کی ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا”تم میں سے ہرایک ذمہ دار ہے اورقیامت کے دن ان سے انکی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھاجائےگا”اخلاق وکردار تواسی کانام ہے کہ آدمی چاہے جس مرتبے کاہو انکو اپنے فرائض اورذمہ داری کااحساس ہوناچاہیے،ہمارے سماج کی حالت آج جتنی تکلیف دہ ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے،نہ بڑوں کےاندر چھوٹوں کی تمیزہے اورنہ چھوٹوں میں بڑوں کاادب واحترام باقی ہے،معاشرے سے اخلاق وکردار بڑی تیزی سے رخصت ہوتاجارہاہے،بداخلاقی وبد تہذیبی میں روزبروزاضافہ ہورہاہے،بدچلنی کابول بالاہے،جومعاشرے کوتباہی وبربادی کی جانب لےجارہاہے،آدمی اگراخلاق مند ہو اسکے قول وفعل میں تضاد نہ ہوتوسماج میں امن وسکون کی فضا قائم ہوتی ہے،تعلقات وسیع ہوتے ہیں،بھائی چارگی اورمحبت کاپیام عام ہوتاہے،ایسے ہی آدمی اگربداخلاق اوربدکردار ہوجائے تولوگ خوف ودہشت میں مبتلاہوجاتے ہیں،نفرت وعداوت کی خلیج بڑھتی چلی جاتی ہے اورمعاشرے کی شبیہ مجروح ہوجاتی ہے،اخلاق وکردارکوبہتر بنانےکے سلسلے میں اسلامی ہدایات خاص طورپر موجود ہیں،ایک جگہ قرآن میں ہے”آپﷺ تواخلاق کے بلند مقام پرفائز ہیں”ایک حدیث میں ہے”لوگوں میں سب سےزیادہ محبوب مجھے وہ شخص ہے جسکے اخلاق سب سے اچھے ہوں”(بخاری)ایک مرتبہ آپؐ سے پوچھاگیاکہ انسان کوسب سے اچھی کیاچیز دی گئ؟ توآپ ﷺ نے فرمایا”اچھے اخلاق”(بیہقی)اورایک دوسری حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا’مسلمانوں میں کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جنکے اخلاق سب سے اچھے ہوں”(ابوداؤد)لہذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اچھے اخلاق سے آدمی خود کوآراستہ کرے،اپنی اولاد کو اچھے اخلاق کی تعلیم وتربیت کےلئے سازگارماحول فراہم کرے،ایسے مضامین اورکتابیں جواخلاق کوبلند کرنےکی ترغیب دیتے ہوں اسکے سننے اورسنانے کااہتمام کیاجائے،بداخلاقی پرنکیراوراسکی حوصلہ شکنی کی جائے،تاکہ مثالی معاشرہ کےقیام کویقینی بنایاجاسکے،اورسماج کی تعمیرکی جاسکے،اللہ تعالیٰ ہم سبکواخلاق مند بنائے اوربداخلاقی سے ہم سبکی حفاظت فرمائے آمین۔۔۔ ثم آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close