مضامین و مقالات

ندوہ یا مولانا سلمان ندوی ؟ ابن القلم الہ آبادی

ندوہ یا مولانا سلمان ندوی ؟  ابن القلم الہ آبادی

ندوہ کے قضئیے پر اہل علم و بصیرت کے متعدد مضامین موافق و مخالف یا معتدل نظریات پر مشتمل کافی کچھ نظر سے گذر چکے ہیں اور خود ہمارے اپنے خیالات کا بھی گاہے بگاہے اظہار ہوچکا ہے،ہم واضح الفاظ میں جس موقف کے حامی ہیں وہ مختصر الفاظ میں یہ ہےکہ ہمارے نزدیک مولانا سلمان ندوی سے کہیں زیادہ ندوہ کی بقا اور اس کی سلامتی عزیز ہے، ندوہ محفوظ رہے گا تو مولانا سلمان ندوی جیسے صاحب علم آگے بھی پیدا ہوتے رہیں گے اور خدا نخواستہ ندوہ ہی پر کوئی افتاد آگئی تو نہ سلمان ندوی محفوظ رہ سکیں گے نہ ہی ندوہ باقی رہے گا، یہ وہ نقطہء نظر ہے جس پر ہم تب سےقائم ہیں جب یہ ساری ہنگامہ آرائیاں متصور بھی نہیں تھیں، لیکن اسے مولانا سلمان ندوی کی بیجا مخالفت سے تعبیر کیا گیا اور ان کی جذباتی تقریروں و جوشیلے ویڈیو بیانات کے انجام کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا،ان کی متعدد فضلاء ندوہ کی جانب سے نہ صرف حوصلہ افزائی کی گئی، بلکہ بھرپور دفاع کیا گیااور ہمیں کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا، جبکہ ہم یہ چاہتے تھے کہ ندوہ کے تمام فضلاء انھیں ایسے بیانات سے روکنے کی کوشش کریں اور انھیں اس کے انجام بد سے ڈرائیں،یہ بھی درحقیقت ان سے تعلق اور محبت کی بناءپر ہم چاہتے تھے خدا نخواستہ کوئی دشمنی یا عداوت ہرگز نہیں تھی،عداوت کے کیا معنی ہم تو ان کی صاف گوئی اور پرجوش خطابت کے خود بہت بڑے مداح تھے ان سے عقیدت و محبت رکھتے تھے اور دل ان کی عظمت کا معترف تھا،لیکن ادھر جب کچھ دنوں سے وہ نو انٹری کو بھی پھلانگنے لگے تھے تو ہمارے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی اور یہ احساس ہوچلا تھا کہ ممدوح کی عزت و آبرو خطرے میں ہے دل کے مخفی گوشوں میں چھپی ان کی عقیدت نے ہمیں ان کی زیادتیوں کا رد کرنے پر مجبور کر دیا اور ہم سخت الفاظ میں ان کی تردید کرتے رہے،یہ سوچ کر کہ جب تک ان کی نکیر و تردید ہوتی رہے گی امید ہے کہ قدرت کی جانب سے ان کے متعلق سخت فیصلہ نہیں لیا جائے گا،مگر بعض فضلاء ندوہ اس نکیر و تردید کو غلط معنی پہناکر اس کی تردید و مذمت کرنے لگے،ہمارے پاس نہ غیب کا علم ہے نہ ہی مستقبل کی کوئی خبر،لیکن بغیر کسی ادعائے علم و بصیرت کے ہمیں پہلے سے یہ معلوم تھا کہ آگے چل کر یہی ہوگا، جن صاحب علم و بصیرت اساتذہ کی ہم نےجوتیاں سیدھی کی ہیں ان کے فیض صحبت سے ہمیں کسی خیر یا شر کے مزاج کی معرفت بفضل اللہ ہوجایا کرتی ہےاور اشارے کنائے میں یہ ظاہر بھی کردیتے ہیں لیکن ظاہر ہے ہمارے پاس اس کی کوئی ظاہری دلیل نہیں ہوتی اور آج کل ظاہری دلیل ہی سب کچھ ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے رد و نکیر کا سلسلہ بند کردیا اور قدرت کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے،بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ ہمیں پہلے ہی تھا اسی انجام سے ڈر کر ہم نے ان کی دشمنی میں نہیں بلکہ محبت و تعلق کی وجہ سے ان کی غلطیوں کو اجاگر کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے اگر وہ راہ راست پر نہ بھی آئے تو کم از کم منطقی انجام تک پہنچنے میں کچھ تاخیر ہی ہوجائے،پر ہوتا وہی ہے جس کا فیصلہ آسمانوں پر ہوچکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے لئے تو یہ فیصلہ قطعاً غیر متوقع نہیں ہے بلکہ سو فیصد ہم اسی کی امید کررہے تھے،جس سمت میں بڑی تیز رفتاری سے موصوف بڑھتے چڑھتے چلے جارہے تھے اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ ہوبھی نہیں سکتا تھا،بلکہ ہمارے حساب سے یہ فیصلہ کافی تاخیر سے آیا اسے پہلے ہی آجانا چاہیے تھا لیکن دنیا والوں پر بھی تو حجت قائم کرنا تھا اس لئے ندوہ کی انتظامیہ نے انتظار کیا یہاں تک کہ موصوف نے وہ لائن بھی کراس کرلی جس کا انتظار ندوہ کی انتظامیہ کررہی تھی اس لئے اسے *دیرآید درست آید* کی تعبیر دے کر عرض مدعا کی طرف آتے ہیں

آج کی ہماری جوگفتگو ہے اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کی وضاحت کردیں کہ ہم نے سلمان ندوی صاحب کی غلط باتوں کی تردید کی ہے ان کی ذات پر کبھی کیچڑ نہیں اچھالا وہ جس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اس کا ہمارے دل میں بہت زیادہ احترام و عزت ہے اس لئے اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم انھیں ذاتی طور پر اپنا نشانہ بنائیں،لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی رہے کہ ہمارے نزدیک خاندان کی عزت و آبرو سے کہیں زیادہ محبوب ومحترم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اور اسے چاردانگ عالم میں پھیلانے والے اس کے حاملین حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، خاندان کو دین کے لئے قربان بھی کرسکتے ہیں اسی طرح صحابہ کرام کی عزت و ناموس کی حفاظت پر ہم اپنا سب کچھ داؤں پر لگاسکتے ہیں ان سے ہمارا دلی و جذباتی تعلق ہونے کے ساتھ ایمانی و روحانی رشتہ بھی ہے جس پر جسمانی رشتے قربان کئے جاسکتے ہیں ہم نہایت گہرے خاندانی رشتے و روابط کے باوجود کسی اپنے گہرے عزیز سے بھی ان کی شان میں ادنی گستاخی و بے ادبی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے،بھلے دنیا ہمیں جذباتی کہے،جلد باز کہے، یہ تمام طعنے ہم سن سکتے ہیں لیکن یہ بے غیرتی ہرگز ناقابل برداشت ہے کہ دنیا یہ کہے کہ صحابہ کرام کی عزت و ناموس سے کھیلا جارہا تھا اور مسلمان برداشت کررہے تھے ہم اسے مکرر دہراتے ہیں کہ ماں بہن کی گالیاں دینے والا شاید ہمارے نزدیک کسی وقت قابلِ معافی ہوجائے لیکن کسی ادنی صحابی کی شان میں گالی بکنے والا ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے جس سے ہمیں اتنی نفرت ہے کہ اسے الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہے، ہمارے نزدیک یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے جس پر کسی بھی قیمت پر اور کبھی بھی ان شاءاللہ سودا نہیں کیا جاسکتا اور جو سودا کرلے ہم اسے بے ضمیر،ایمان فروش،اور ایمانی نقطہء نظر سے ملت کا غدار و بہت بڑا مجرم سمجھتے ہیں،ہم ہمیشہ یہ تمنا بھی رکھتے ہیں کہ مالک ارض و سما ہمیں زندگی کے آخری لمحے تک اسی ایمان و عقیدے پر باقی رکھے اور اسی پر موت آئے، ساتھ ہی اس پر ہم خدائے ارض و سما کو گواہ بناتے ہیں اور حلف اٹھاتے ہیں کہ یہ نفرت کسی کی ذات سے نہیں،بلکہ بات و نظریات سے ہے،یہی وجہ ہے کہ سچی پکی توبہ و رجوع کرلینے کے بعد نفرت کی آگ خود بخود سرد ہوجاتی ہے اور ہم دوبارہ پہلے جیسا احترام دل میں محسوس کرنے لگتے ہیں،لیکن بڑی صفائی سے یہ بھی بتادیتے ہیں کہ توبہ و رجوع کا دھوکا دےکر ہمیں احمق بنانے یا سمجھنے کی کوشش سے اس نفرت میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوجاتا ہے،

ان نقطہائے نظر سے ہمارے مافی الضمیر کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے اور موجودہ قضئیے میں بغیر کچھ بتائے ہمارے رجحانات و خیالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

مولانا سلمان ندوی ہمارے لئے بھی بہت قابلِ احترام ہیں جیسا کہ اوپر معروض ہوا،لیکن جب ان کا تقابل ندوہ سے کیا جائے گا جو ملت کا عظیم سرمایہ ہے تو خدا کی قسم ہم ایک نہیں ایک ہزار سلمان ندوی کو ندوہ کی عزت و آبرو پر اور اس کی بقا وسلامتی کے لئے قربان کر دینگے،کیونکہ سلمان ندوی سے ندوہ نہیں بلکہ ندوہ سے سلمان ندوی ہیں،

ہم کو ان ابنائے ندوہ سے صرف شکایت ہی نہیں بلکہ ہم ان کے اس فکر و نظرئیے پر بھی سوال اٹھاتے ہیں جنھوں نے ان کی حمایت و دفاع میں مضامین لکھے یا ان کا ساتھ دیا کہ کیا سلمان ندوی کی عزت و عظمت ندوہ سے زیادہ ہوگئی ہے؟ تم نے جذبات میں آکر ایک ندوی کا دفاع کرکے پورے ندوہ کی اور دیگر فضلاء ندوہ کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کیا ہے اور بیچ بازار میں ندوہ کی آبرو کو نیلام کیا ہے،کیا اسی کانام غیرت و حمیت ہے کہ استاذ کا دفاع کرو اور مادر علمی کی عزت کو خاک میں ملادو، جس نے ایک نہیں پتہ نہیں کتنے سلمان ندوی کو جنم دیا؟ تم اپنے مادر علمی کی بےداغ شبیہ کو داغدار کرنے کے مجرم ہونے کے ساتھ خدا ورسول کے بھی مجرم ہو اور حشر میں اس کا جواب دینا پڑے گا

آخری بات کے طور پر تمام قارئین کو مکرر یاددہانی کرائی جاتی ہے خواہ ان کا تعلق ندوہ سے ہو یا دیوبند سے کہ آج کی اس گفتگو کا تعلق مولانا سلمان ندوی سے نہیں بلکہ ندوہ اور سلمان ندوی میں تقابل کے وقت ترجیح سے ہے جب ادارہ اور فرد میں تقابل کی صورت حال پیدا ہوجائے تو ہماری اخلاقی ذمہ داری ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہے؟ فرد کا دفاع کیا جائے یا ادارہ کا؟ ہمارا جو نقطہء نظر تھا ہم نے اسے گول مول نہیں رکھا،نہایت واضح الفاظ میں بیان کردیا آپ کے نزدیک اگر یہ درست ہے تو تائید کیجئے ورنہ اپنا مشن جاری رکھئے اور خدا کے فیصلے کا انتظار کیجئے

*وھو خیر الحاکمین*

مورخہ 15اکتوبرسنہ2019
مطابق 15صفرالمظفر1442ھ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close