مضامین و مقالات

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر : محمد طاسین ندوی

اللہ رب العزت نے بہت سارے صحیفے اپنے نیبوں پر نازل فرمایا کبھی توریت تو کبھی زبور کبھی انجیل یہ سارے منزل صحیفے ایک قوم، جماعت،گروہ اور طبقہ کے خاص تھے.
لیکن ایک اور منزل صحیفہ ہے جس کو ہم قران مجید کے نام سے موسوم کرتے اور جاتنے ہیں ، اس کتاب کو اللہ عز وجل نے جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا، اسکی بے شمار خصوصیات ہیں کبھی یہ ایسی کتاب جس کے اندر ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تو کبھی شفاءللناس، کبھی نور، كبهی ذکر،کبھی کتاب ہدایت وغیرہ ان جملہ صفات و خصوصیات کے ساتھ ایک بہت ہی اہم خاصیت یہ کہ یہ کسی خاص گروہ،جرگہ، قبیلہ، خاندان کے لئے نہیں نازل کیا گیا بلکہ یہ عالمگیر کتاب رشد وہدایت ہے، اور اس کی بقاء کی ایک خاص مدت کی تعیین نہیں بلکہ رہتی دنیا تک یہ جیسے اللہ رب العزت نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اسی حال میں جوں کا توں رہیگا اور کوئی اس کے اندر رتی بھر بھی کمی و زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
*”إنَّاْنَحْنُ نَزَّلْنَاالذِكْرَ وإنّالَهُ لَحَافِظُوْنَ* "الحجر٩
ذات باری نے فرمایا ہم نے ہی قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں
جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی خود اپنے سر لے لے بھلا اس کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے. بہت فاشسٹ طاقتیں ابھریں آئیں اور اس نے تگ ودو کیا کہ اس محفوظ کتاب کے اندر اسی طرح تحریف و تبدیل کیا جائے جسطرح اسے پہلے نازل شدہ صحیفوں کے اندر کی تھی لیکن وہ ایسانہ کرسکے خائب و خاسر اپنا سا منھ لیکر پیچھے بھاگے .
اور ایسا ہوناہی تھا اسلئے کہ ان طاقتوں نے غیرت خداوندی کو للکار نے کی کوشش کی تھی جس سے ان کا ذلیل و رسوا اور ناکام ہونا مستحیل نہ تھا
مندرجہ تمہید کے بعد ہم بحیثیت اس کتاب مبین کے امین ہونے کہ باوجود .ہم نےاسے کے فرامین واحکام پر کتنا عمل کیا اور کررہے ہیں آئیے اسکا جائزہ لیتے ہیں
کتنے فیصد ہم مسلمان اس کے احکام ھدایت کے پابند ہیں؟
کیا ہمارےبام ودر اس کی روح پرور آیات کی تلاوت سے مشام جاں کو معطر کررہی ہے؟
یا صرف کسی کی موت پر قبائلي جھگڑے کےوقت قسم کھانے کے لئے ہم قرآن مجید کو جزدان سے باہر لاتے ہیں
یا کبھی کبھار شیطان و جن کے ستانے پر ہم اپنے بچوں کے گلے میں اس کی آیت کو بشکل تعویذ لٹا کر اسکا اپمان کرتےہیں؟
یہ وہ چند نکات ہیں جس سے دل کے اندر کھٹکا پیدا ہوتا ہے.
اگر میں اپنا تجزیہ پیش کروں تو شاید ہمارے معاشرے و سماج میں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو حرز جاں بنایا ہو تو ان پڑھ اور جاہل کی باتیں کیا تحریر کیجائے.

اگر ہمارا یہی حال رہا تو ہم اپنے کو قعر مذلت کے بھیانک اور تاریک ترین گڑھے میں گرانے والے ہونگے کیا خوب کہا کہنےوالے نے.
*وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر*
*اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر*
ابھی بھی وقت ہے ازسر نو اپنی زندگی کی آغاز کرنے کا ہم قرآنی زندگی کی شروعات کی فکر کریں اگر سوال پیدا ہوکہ قرآنی زندگی ہے کیا؟ تو غور کریں کہ ہم کس دِشا پر کھڑے ہیں ہمارا نوجوان طبقہ "مستقبل کی آس جس پر ہے” کہاں سرکھپارہا ہے اور اپنے شب و روز کہاں صرف کرنے میں کوشاں ہے یاد رکھئیے کہ نوجوان کو سماج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے

اگر یہ طبقہ لایعنی باتوں، بے تکی مجالس، ٹھیٹر، سینما گھروں، عیاشی اور زناکاری کے اڈوں،موبائیل وانٹرنیٹ کا غلط اور سراپا غلط استعمال الغرض اس ڈگر سے کافی دور رہ کر اپنی زندگی کو گزار رہے ہیں تو یقینا آپ قرانی زندگی کی راہ پر رواں دواں اور گامزن ہیں اور اگر اس کے بر خلاف اپنی زندگی جی رہے ہیں تو سمجھ لیں کے وہ دن دور نہیں کہ ہماری رسوائی، ذلت، پسپائی،بربادی، آفات ناگہانی اور نہ جانے کیسے کیسے امتحانات کے ایام شروع ہونگے جسکا تاب لاناہم ناتواں امت مسلمہ کے لئے بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے.

*قارئین کرام* ! اگرجہاں آب و گل کے مسلم اکثریت واقلیت ممالک کا جائزہ لیا جائے تو نتائج بہت شرم کن اور حیران کن آئیں گے اور ایسا ہو کیوں نہ جب کہ سب کہ سب اس دنیافانی کے پیچھے دیوانہ وار ڈورے چلے جارہے ہیں نہیں پتہ کے کہاں جارہے اور کس راستے سے جارہے ہیں کہیں دوشیزائیں زینت محافل ہیں تو کہیں سنیما اور کلب اور ٹھیٹر کا دور عروج پر ہے ایسے نازک حالات میں
ہمارے اوپر غضب الہی کیوں نہیں بھڑکے گا آسمان کیوں نہ پھوٹے گا زمین کیوں نہ پھٹے گی ہروہ چیزیں جو تصورات سے بالاتر تھیں وہ رونما ہورہی ہیں ہمیں جس سے دل لگانا تھا،جس کے مرتب کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوناتھا ہم نے اسے یکسر بھولا دیا اور جن چیزوں سے دوری بنائے رکھنا تھا اسے بہت قریب کرلیا ہم نے کہیں اپنی ذات کے بڑائی و پذیرائ کے لئے تو کہیں اپنے گھرکی ناموری کےلئے تو کہیں اپنے خاندان کی ناک اونچی کرنے اور نام و نمود کے لئے. اس لئے ذلت و خواری رسوائی ہماری مقدر ہوئی اور بزدلی نے ہمارے اندر اپنا ڈیرہ ڈال دیااور اگر اب بھی نہ جاگے تو خدا معلوم ہمارا حشر کیاہو
اسلئے جو باقی ماندہ وقت زندگی ہے اسے کام میں لایا جائے اور ذلت و رسوائی کا کلنک جس سے ہماراماتھا داغدار ہے اس کو صاف ستھرا کرنے کی سعی پیہم کریں اگر ہم نے اپنی عادت و خصلت بدلی تو ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ ہمارا بول بالا ہوگا اسلام دشمن اپنا منھ اٹھاکر نہیں چل سکتا اور دنیا ہمارے لئے جنت کا نمونہ ہوگی. شاعر نے کیا اچھے انداز میں کہا ہے :

*خدا نےآج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی*
*نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا*
*تو ہم عہد کریں کے* اپنی زندگی من چاہی نہیں رب چاہی گزاریں گے پھر جاکر موسم بہار کا مزہ لے پائیں گے ورنہ خزاں رسیدہ چمن خزاں ہی میں مرجھاکر فنا ہوجائیگا.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close