مضامین و مقالات

فخر ، غرور اورگھمنڈمعیوب ترین افعال ہیں۔ مختار فرید

قرآن حکیم زندگی کے ہر ایک قدم میں متحمل رہنے اور خاکساری وانکساری کا مشورہ دیتا ہے۔سورۃ القصص میں اللہ قارون کے تکبر کی مثال دیتا ہے۔ موسیٰ اور فرعون کی کہانی جس میں حکومت اور اختیار کی طاقت کو دکھایا گیا ہے ،جب ، جب ناانصافی ، ظلم ،اور کفر بڑھا اور خدا کی ہدایت کو ترک کردیا گیا ، اس کا انجام ، ناکامی اور بربادی پر ختم ہوا۔
قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا "پھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر، احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا”[۲۸:۷۶] قارون کی کہانی میں اس کو بطور دولت اور علم کی طاقت پیش کرتے ہوئے دکھایا ہے اور دولت جب تکبر اور ناشکری ساتھ مل جائےتو، یہ با تِیں تباہی کے آخری انجام کی طرف لے جاتی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ سورت ان قدروں کی تصویر کشی کرتی ہے،کہ جب ایمان اور راستبازی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو دولت اور آسائش کو عملی طور پر اہمیت نہیں دیتی ہیں، نیز تکبر اور بدعنوانی کے بغیر زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے میں اعتدال برتنے کی ہدایت دیتی ہے۔اپنی دولت پر ” گھمنڈمت کرو” اور نہ ہی ان پر اتنا فخر کرو کہ اسی کو فراموش کرو جس نے آپ کو یہ نعمت بخشی ہے۔ دولت کے نشے میں اتنے مست نا ہو کہ اللہ کا شکریہ ادا کرنے میں کوتاہی ہو۔
قرآن ،ان اقدار اور خصوصیات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ، خدا کے بتائے ہوئےطرز زندگی کو گزارنے کی راہ متعین کرتا ہے، اور قرآنی تعلیمات ایسی زندگی کو دوسرے تمام طریقوں سے ممتاز کرتے ہیں۔
اپنے پیسوں کو انتہائی مسرت کا سامان نہ سمجھو ، جس کی وجہ سے آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے میں گستاخ اور متکبر ہوجائیں۔ ۔ در حقیقت ، خدائی نظام ان تعلیمات کو ایک فرض کی حیثیت سے احترام کرنے کی تاکید کرتا ہے ، تاکہ وہ زندگی کی لذتوں کو ترک نہ کرے اور دنیا کی زندگی پر حقارت کی نگاہ ناڈالے۔ یہاں ہم صحیح توازن دیکھتے ہیں جو اللہ کے بتائے ہوئے طرز زندگی کی خصوصیت ہے خدا نے اس زندگی کی آسائشیں اورفروانیاں پیدا کیں تاکہ لوگ ان میں سے اپنے حصے سے لطف اٹھائیں ، اور ان کو حاصل کرنے کی سمت کام کریں۔ صرف ایک شرط یہ ہے کہ خوشیوں کے ایسے لطف اندوز ہونے پر انہیں آخرت کا ثواب حاصل کرنا نہ بھولنا چاہئے۔ اس طرح ، دولت مند نہ تو جنت کی طرف جانے والی راہ سے ہٹ جاتا ہے ، اور نہ ہی دولت کے نتیجے میں اپنے فرائض میں کوتاہی کرتا ہے۔ جب وہ آخرت کو ذہن میں رکھ کر زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو، ان کی خوشی ،خدا کا شکر ادا کرنے اور اس کی نعمتوں کی مناسب قبولیت کا ایک زریعہ بن جاتا ہے۔ اس طرح ، بدلے میں ، زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک طریقہ بنتاہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر انسانی زندگی گزارنےمیں اعمال میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کو محرومی یا قدرتی وسائل کو ضائع کیے بغیر روحانی طور پر ترقی کرنے کا اہل بناتا ہے۔
"زمین پر بدعنوانی پھیلانے کی کوشش نہ کرو۔” (28:77)
بدعنوانی بہت سی شکلیں لیتی ہے جن میں ناانصافی ، تکبر میں مبتلا ہونا ، خدا کی ہدایت پر کوئی دھیان نہیں دینا شامل ہے، یا آ خرت کو بھول جانا، ہر وہ کام کرنا جو حسد اور نفرت کا سبب بنے ، فضول خرچی کرنا اور دولت کے مناسب استعمال کو مسدود کرنا۔”کیونکہ خدا بدعنوانی پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا ،” اسی طرح جس طرح وہ دولت پر اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ قارون کو اس کے لوگوں نے یہ ایماندارانہ مشورہ دیا۔
پھر بھی اس کے جواب کے ایک جملے میں بدعنوانی اور غرور کے ہر معنی ملتے ہیں:
” تو اُس نے کہا "یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے”۔ میں نے یہ دولت حاصل کی ہے اور اسے میں نے اپنے علم کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ یہ سب میری اپنی کوشش کا نتیجہ ہے۔ تو ، کیوں آپ مجھے یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ میری نجی جائیداد کو میں کیسے استعمال کروں؟
اس کا یہ رویہ جو اپنی عطا کردہ نعمتوں کے منبع سے غافل ہونے کا انتخاب کرتا ہے۔وہ اپنی دولت کے نشے میں اندھا ہوگیا تھا۔ ایسے لوگ عام ہیں ، جو تمام معاشروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہت سے امیروں کا خیال ہے کہ ان کا علم اور کوشش ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے وجہ سے اُنھوں نے اپنی دولت کو اکٹھا کیا ہے۔ جب یہ گھمنڈ سر چڑھتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں، کہ کوئی ان سے پوچھ گچھ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، یہ مال و دولت اُن کا آپنا ہے ، اور کسی کو یہ حق نہیں پھنچتا کہ اُنھے پوچھے کہ وہ دولت کیسی اور کہاں خرچ کرے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر بات میں ایک عنصر اور بھی ہے، اور وہ ہے اللہ کی مرضی اور اُس کی حکمت۔
اللہ سورۃ آلِ عمران آیت نمبر ۲۶ میں فرماتا ہے۔”کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔”
اسلام نجی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور اس سلسلے میں لوگوں کی کاوشوں کی تعریف کرتا ہے ، بشرطیکہ وہ اسلام کے قوانین کے دائرہ میں رہیں جس کی اجازت ہو۔ اگرچہ اسلام نجی کوششوں کی اہمیت کو کم نہیں کرتا ہے ۔ جس طرح اسلام نے پیسہ کمانے کے لئے قواعد و ضوابط طے کیے ہیں، اسی طرح پیسہ خرچ کرنے کے لئے بھی ہدایت دیں ہیں ۔ اس کا نظام توازن اور اعتدال کو یکجا کرتا ہے۔ یہ کسی کو بھی ان کے کاروبار کے حاصل فوائدسے محروم نہیں کرتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں بغیر کسی پابندی کےخرچ اور بے جاذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں ہے۔ اللہ سورة الإسراء آیت نمبر ۲۶ اور ۲۷ میں فرماتا ہے،” رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔
اس سے معاشرے کو ایسی دولت میں واجبات ملتے ہیں ، نیز دولت کے حصول ، سرمایہ کاری ، اخراجات اور لطف اندوز کرنے کے طریقوں کو دیکھنے اور ان پر نگاہ رکھنے کا حق۔زندگی کی آسائشیں اور شان و شوکت جو دولتمندوں کو حاصل ہوتے ہیں ، وہ اپنے اثر و رسوخ سے کمزور لوگوں پر رعب جمانے اور لوگوں کو اپنے قابو میں کرنے میں مست رہتے ہیں ، وہ اپنے وسائل کو انسانیت کے فلاح و بہبودی کےلئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچتے تک نہیں ۔ اُن کے ماتحت طبقہ یہ نہیں پوچھتے کہ مالک نے ایسی آسائشوں کے لئے کس کی قیمت ادا کی ہے ، اور نہ ہی اس نے انہیں کس قیمت پرحاصل کیا ہے۔ غریب اور لا چار لوگ حسرت سے بس تکتے رہتے ہیں چاہے وہ دولت ہو ، مقام ہو یا عزت۔ امیر اپنے دولت پرسانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھے رہتےہیں۔ اس سے ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ پیسہ کمانے کے لئے قیمت بہت زیادہ ہے ، طریقہ بہت غلیظ ہے یا گھٹیاہے۔
اس کے برعکس ، جو لوگ خدا کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہیں ان کی اقدار کا ایک مختلف معیار ہے جس کے ذریعہ وہ زندگی کو دیکھتے ہیں۔وہ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اپنی روحانیت کو اور اللہ کے فرمان کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ اپنے وقار کے نتیجے میں جو خوشی محسوس کرتے ہیں وہ انہیں دوسروں کے دباومیں آنے سے روکتا ہے۔ ایسے لوگ حقیقی علم اورحقیقی کردار کے تناسب کے صحیح معنیٰ سے مالا مال ہوتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو حقیقی علم دیا گیا تھا انہوں نے قارون سے کہا:‘ افسوس! خدا کا اجر ان لوگوں کے بہترین ہے جو اللہ کے فضل کو مانتے ہیں اور جو کام کرتے ہیں اللہ کی مرضی سےاور صحیح کرتے ہیں۔یہ اطمنان کی دولت صرف اُن لوگوں کو حاصل ہے ، جو تکلیف و مشکلات میں صبر کرتے ہیں ۔
ایک مغرور شخص کا ذکر خدا کے خلاف جنگ کرنے کے طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ ایسا شخص حقیقت سے تمام آگہی کھو دیتا ہے کہ وہ ایک حقیر ترین مخلوق ہے۔ جس کا وجود اور وہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے اس کی وجہ ہے صرف خدا کی مہربانی، و کرم۔ایک مغرور شخص اس خیال میں رہتا ہے کہ اُسے اپنی زندگی پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ اپنے آپ کو بہت ہی خاص شخص سمجھتا ہے ، جس پر کوئی دوسری طاقت اثر انداز نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کا تکبر اس مرحلے تک پہنچ سکتا ہے جہاں وہ خداتعالیٰ کے خلاف کھلے عام الوہیت کا دعویٰ کرسکتا ہے ،جیسا کہ فرعون نے کیا تھا۔ آج کے دور میں بھی بعض انسانوں کو ہم اس قسم کے دعوے کرتے ہوئے پاتے ہیں۔
انسان رحم ، شفقت وغیرہ جیسی خصوصیات بھی حاصل کرسکتا ہے جو خدائی خوبیاں ہیں ،مگر یہ اللہ کی طرف سے عطاء کردہ صفات ہیں۔ اور ان خصوصیات کے حامل در حقیقت انسان کو خدا کے قربت حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ لیکن انسان ، جو خدا کی ایک ادناہ مخلوق ہے ، اپنے آپ کو فخر و غرور کے ساتھ اللہ کے الوہیت سے جوڑنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ صفات خاص خدا کے لئے ہیں۔
مختار فرید
mukfarid@hotmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close